بچے کی تربیت. شبیر حسین کمال
بچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے والدین کے لیے ایک بہت بڑی نعمت اور ذمہ داری ہے۔ بچپن انسان کی زندگی کا وہ دور ہے جس میں اس کی شخصیت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ بچہ جو کچھ اپنے گھر، والدین، اساتذہ اور معاشرے سے سیکھتا ہے، وہی اس کی آنے والی زندگی پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اسی لیے بچے کی تربیت صرف اسے پڑھانے یا اچھی چیزیں خرید کر دینے کا نام نہیں بلکہ اسے ایک اچھا، بااخلاق، ذمہ دار اور انسان دوست فرد بنانا اصل تربیت ہے۔
بچے کی پہلی درسگاہ اس کا گھر ہوتا ہے اور پہلے استاد اس کے والدین ہوتے ہیں۔ بچہ والدین کی باتوں سے زیادہ ان کے عمل سے سیکھتا ہے۔ اگر والدین سچ بولیں گے تو بچہ بھی سچائی کی اہمیت سمجھے گا، اگر گھر میں احترام، محبت اور صبر کا ماحول ہوگا تو بچے کے اندر بھی یہی صفات پیدا ہوں گی۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنے کردار کو بہتر بنائیں۔
بچے کی تربیت میں محبت کا کردار بہت اہم ہے۔ بچے کو ہر وقت ڈانٹنے، مارنے یا دوسروں سے موازنہ کرنے کے بجائے اسے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جب بچہ کوئی اچھا کام کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جائے اور غلطی کرے تو اسے پیار اور حکمت کے ساتھ سمجھایا جائے۔ مسلسل ڈانٹ ڈپٹ بچے کے اندر خوف اور احساسِ کمتری پیدا کر سکتی ہے، جبکہ محبت اور اعتماد اسے بہتر انسان بننے میں مدد دیتے ہیں۔
دینی تربیت بھی بچے کی شخصیت کا اہم حصہ ہے۔ بچپن ہی سے نماز، قرآن، دعا، سچائی، والدین کا احترام، بڑوں کی عزت، چھوٹوں سے محبت اور دوسروں کی مدد جیسے اصول سکھانے چاہئیں۔ دین کو صرف ڈانٹ اور سزا کے ذریعے نہیں بلکہ محبت، حکمت اور اچھے عمل کے ذریعے بچوں کے دل میں جگہ دینی چاہیے۔
آج کے دور میں موبائل اور انٹرنیٹ بھی بچوں کی تربیت پر بہت اثر انداز ہو رہے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے موبائل استعمال پر مناسب نظر رکھیں اور انہیں ہر وقت موبائل میں مصروف رکھنے کے بجائے کتاب، کھیل، مطالعہ اور گھر کے مثبت ماحول کی طرف متوجہ کریں۔ بچے کو ٹیکنالوجی سے دور کرنا حل نہیں، بلکہ اسے اس کا درست اور ذمہ دارانہ استعمال سکھانا ضروری ہے۔
اس کے ساتھ بچوں میں ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کرنا چاہیے۔ چھوٹے چھوٹے کام خود کرنے کی عادت، وقت کی پابندی، صفائی کا خیال، اپنی چیزوں کی حفاظت اور دوسروں کی مدد جیسے کام بچے کو مستقبل میں ایک ذمہ دار انسان بناتے ہیں۔آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بچے کی تربیت ایک دن یا ایک ہفتے کا کام نہیں بلکہ مسلسل محنت اور توجہ کا نام ہے۔ آج ہم اپنے بچوں کو جس ماحول میں پروان چڑھائیں گے، کل وہی بچے معاشرے کی تعمیر کریں گے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بااخلاق، پُرامن اور کامیاب ہو تو ہمیں سب سے پہلے اپنے بچوں کی اچھی تربیت پر توجہ دینی ہوگی۔ ایک اچھی تربیت یافتہ بچہ صرف اپنے والدین کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔
Child Upbringing




