بے زبان محبت !! ( فکشن ) طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
کینٹین میں ہماری ملاقات ہوئی تھی ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب گاؤں میں میری شادی کی باتیں چل رہی تھیں۔ اور گاؤں کا ہونے کے ناطے میرا لباس کافی سادا تھا ۔
حسب معمول بس کال سنٹر سے ہاسٹل پھر یونیورسٹی جانا ہوتا تھا ۔ لیکن جب کینٹین میں سارا سے اچانک مجھ پر چائے گری ، بس وہ لمحہ ایک ساتھ میرے جسم کے کئی حصوں کو جلا رہا تھا۔
ایک طرف میری ران کا پورا حصہ جل گیا تھا تو دوسری جانب اس کی خوبصورت آنکھوں کی کشش سے میرا دل بھی جل رہا تھا۔ اس کا شرمندہ لہجہ میرے وجود کو بھی جلا رہا تھا ۔
مجھے غصہ نہیں آرہا تھا۔ لیکن مجھ کو جلتے دیکھ کر اس کا ساتھ پگھل جانا یہ ایک عجیب کیفیت تھی ۔۔
شاید یہ پہلی ملاقات ہی ہماری محبت کی شروعات تھی۔ وہ منجھلی بدتمیز لڑکی ، جو لڑکوں کو جوتے کی نوک پر رکھتی تھی میرے سامنے بیٹھتے ہی پگھل جاتی تھی ۔
اس کی آواز دھیمی ہو جاتی اس کا رویہ بدل جاتا۔ یہ ایک عجیب کیفیت تھی جو کہ میں بھی خود اپنے اندر محسوس کر رہا تھا۔ ہم ہر روز یونیورسٹی کے بعد رکشے پر بیٹھ کر مینار پاکستان کے قرب میں موجود بابا مٹھائی شاپ پر جاتے اور بابا فرید سے پانچ روپے کی قلفی خرید کر کھا لیتے اور دیر تک بس باتیں کرتے رہتے ۔
عجیب بات تو یہ تھی کہ ان چار سالوں میں ہم نے ایک دوسرے سے ایک دفعہ بھی محبت کا اظہار نہیں کیا ، جانے یہ کیسا ڈر تھا۔ میرا دل بھی کرتا تھا کہ اس کو بس سینے سے لگا کر رکھوں ، لیکن میرے ہاتھ پیر بندھے ہوئے تھے ۔ اور محبت کا تقاضا بھی تو دیکھیں، خدا کی قسم اس کے جسم کی کبھی خواہش بھی نہیں ہوئی۔
بس دل کرتا تھا اس کے ساتھ وقت گزاروں۔ اور کبھی کبھی یہ بھی لگتا تھا کہ اگر میں محبت کا اظہار بھی کروں تو ریجکٹ ہی ہونا ہے۔ کہاں وہ اربوں کی جائداد کی اکلوتی مالکن اور کہاں میں جو گائے بھینسوں کے درمیان سے اٹھ کر آنے والا لڑکا ۔
یونیورسٹی کے آخری ایام چل رہے تھے ، ہم دونوں کے اندر ایک عجیب قسم کی آگ جل رہی تھی۔ لگتا تھا کہ ایک دوسرے کے بغیر شاید جان ہی نکل جائے گی ۔
وقت کا امتحان دیکھ لیں ، آخر کار وہ وقت آ ہی گیا جب ہم دونوں کو الگ ہونا تھا۔ وہ فیئر ویل میں بھی نہیں آئی اور دور اسی درخت کے نیچے بیٹھ گئی جہاں ہم گھنٹوں بیٹھ کر باتیں کرتے تھے۔
اور اسے یہ اچھی طرح پتہ تھا کہ میں نے ادھر ہی آنا ہے۔ میں فیئر ویل سے جلدی نکل گیا اور ادھر گیا۔ وہ رو رہی تھی ۔ میرے آنے کے بعد جلدی سے اس نے اپنے آنسو صاف کیے اور ایک مسکراہٹ کے ساتھ مجھے سلام کیا ۔
میں جانتا تھا کہ وہ کیوں رو رہی تھی لیکن میں نے اس سے یہ سوال نہیں پوچھا ۔ اور ہم وہاں شام پانچ بجے تک باتیں کرتے رہے اور بالآخر میں نے جانے کے لیے اجازت مانگی اور کھڑا ہوا۔ یہ پہلی دفعہ ہوا تھا کہ اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر نیچے رکھا اور التجا کی کہ کچھ پل اور بیٹھ جاؤں ۔
میں بیٹھ گیا اور وہ بس بولتی رہی ، مجھے شادی کی نصیحتیں کرتی رہی ۔ عورت کے ساتھ کیسے رہنا ہے سب ایک بچے کی طرح مجھے سمجھا رہی تھی۔ اور بس میں اسے سن رہا تھا۔ اور میں یہ بالکل نہیں سمجھ رہا تھا کہ وہ آج ایسی نصیحتیں کیوں کر رہی تھی ۔
اور مسلسل پندرہ منٹ بولنے کے بعد وہ کھڑی ہوئی اور اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئی۔ ہم رکشے میں بیٹھ گئے اور رکشہ سیدھا بابا فرید کی شاپ پر رک گیا ۔
ہم رکشے سے اترے اور بابا فرید نے ہمیں حسب معمول پانچ روپے کی قلفی دے دی۔ لیکن آج ہماری کیفیت عجیب تھی ۔ ہم بیٹھے نہیں بلکہ اس نے میرے ہاتھ میں قلفی تھما کر مسکراتے ہوئے میرے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے اللہ حافظ کہا اور چلی گئی ۔۔۔
وہ مڑ کر ایک دفعہ بھی نہیں دیکھی اور میں اسے خود سے دور جاتے دیکھ رہا تھا۔ میں اس قدر اس کو دیکھتا رہا کہ میری قلفی گرمی سے پگھل کر ختم ہوگئی تھی لیکن اس نے ایک بار بھی مڑ کر نہیں دیکھا ۔
میں دو قدم آگے بڑھا اور اپنے ہاسٹل کی طرف چل دیا ۔ اور اپنا بیگ کندھے پر لاد کر بس چل دیا ۔ اور ساتھ میں لاری اڈے سے ایک وین پکڑ کر گاؤں کی طرف نکل گیا ۔
مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ گھر تک میں مسلسل روتا رہا ۔ گھر پہنچتے ہی اماں ابا کو سلام کیا اور کمرے میں جا کر رو دیا۔ میرا دل ہلکا نہ ہوا ۔ پھر میں شام کے پہر پہاڑوں پر نکل جاتا اور زور زور سے اسے آواز دیتا اور چیخ چیخ کر روتا ۔
یہ میرے ساتھ کئی دنوں تک چلتا رہا اور پھر گھر والوں نے میری اسی لڑکی کے ساتھ شادی کروا دی جس سے میرا نکاح طے ہوا تھا ۔
وقت گزرتا گیا اور اب اس کی یاد بھی کم ہوتی گئی ۔ شادی کے بعد مصروفیت بھی اس قدر بڑھ گئی کہ سات سال تک میں گاؤں سے ایک دفعہ بھی شہر کی طرف نہیں گیا ۔
اب تو میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی بھی ہو چکے تھے ۔ اور بیٹے کا اب پورا چھ سال مکمل ہوا تھا ۔
پھر ایک دن مجھے کسی کام سے لاہور جانا ہوا۔ لاری اڈے پر اترا ہی تھا کہ میری ملاقات اچانک سارا سے ہوگئی ۔ وہ بہت بدل گئی تھی ۔ پہلے وہ بغیر دوپٹے کے ہوتی تھی اب دوپٹہ پہننا شروع کر دیا تھا ۔
جانے ایک دفعہ پھر میرا پورا وجود ہل گیا۔ میرا جسم پسینے سے شرابور ہو گیا۔ یہ بہت عجیب کیفیت تھی ۔
سارا نے ایک دفعہ پھر میرا ہاتھ پکڑا اور رکشے میں بیٹھ گئی ، اب کی بار وہ بالکل خاموش تھی ، اس کی آنکھوں میں ہزار قسم کے سوالات تھے ۔ بس وہ میری طرف دیکھ رہی تھی اور میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ ہمیں رکشہ ڈرائیور نے بابا فرید کے پاس اتار دیا ۔
بابا فرید نے ایک دفعہ میری طرف غور سے دیکھا اور ایک دفعہ سارا کی طرف دیکھ کر ایک ٹھنڈی سانس لی ۔ اب تو بابا فرید بھی کافی بوڑھا ہو چکا تھا۔ ایک چیز نے مجھے اس قدر حیران کر دیا کہ میرا دل حلق تک آگیا ۔
آج سات سال بعد بھی بابا فرید سارا کو وہی قلفی پانچ روپے میں دے رہا تھا جبکہ باقیوں کو تیس روپے میں بیچ رہا تھا ۔۔۔
سارا نے ایک میرے لیے لی اور ایک اپنے لیے ۔ پھر ہم نے ساتھ بیٹھ کر قلفی کھائی اور سارا آج بنا خدا حافظ کہے وہاں سے چلی گئی ۔
بابا فرید نے میری طرف مڑ کر اتنا کہا کہ ‘ سارا پچھلے آٹھ سالوں سے اسی ٹائم شاپ پر آتی ہے اور پانچ روپے دیتی ہے اور قلفی کھا کر چلی جاتی ہے ‘۔
یہ سننا تھا کہ میری آنکھوں سے بے اختیار آنسوؤں کا دریا بہنے لگا ۔ میں اسی وین سے گھر واپس آگیا اور آج تقریباً اس واقعے کو گزرے پچیس سال ہو گئے کہ میں دوبارہ لاہور نہیں گیا ۔
لیکن پچیس سالوں بعد بھی مجھے آج بھی وہ اسی شدت سے یاد آتی ہے ۔




