لوڈ شیڈنگ ۔روزے ختم ہونے والے مگر اندھیرا باقی . یاسر دانیال صابری
مارچ کا مہینہ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، رمضان المبارک کے روزے بھی ختم ہونے کو ہیں، مگر افسوس کہ گلگت بلتستان میں لوڈشیڈنگ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ یہ صورتحال واقعی ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہے۔ ایک ایسا خطہ جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، جہاں دریا بہتے ہیں، پہاڑوں سے پانی اترتا ہے اور بجلی پیدا کرنے کی بے شمار صلاحیت موجود ہے، وہاں کے لوگ آج بھی اندھیروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ رمضان کے بابرکت مہینے میں بھی جب لوگ عبادت، سحر اور افطار کے لمحات میں سکون چاہتے ہیں، تب بجلی کی طویل بندش نے عوام کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
یہ صرف بجلی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی اذیت بن چکا ہے۔ سحری کے وقت گھروں میں اندھیرا ہوتا ہے، لوگ موبائل کی روشنی یا موم بتی کے سہارے کھانے تیار کرتے ہیں۔ افطار کے وقت بھی یہی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے۔ گھروں میں پنکھے بند، پانی کی موٹریں خاموش اور باورچی خانوں میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ ایسے میں جب کوئی بچہ یہ سوال کرتا ہے کہ “آخر ہمارے ہاں بجلی کیوں نہیں ہوتی؟” تو اس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں ہوتا۔
گلگت بلتستان کے عوام ہمیشہ صبر اور برداشت کی مثال رہے ہیں۔ انہوں نے سردیوں کی طویل راتوں میں بھی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ برداشت کی، شدید برفباری کے باوجود بھی شکایت کم اور صبر زیادہ کیا۔ مگر جب مارچ کا مہینہ آ جائے، دریاؤں میں پانی بڑھنے لگے اور موسم نسبتاً بہتر ہو جائے تو عوام کو امید ہوتی ہے کہ شاید اب اندھیرے کم ہو جائیں گے۔ بدقسمتی سے اس سال بھی یہ امید پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی۔
بازاروں میں جائیں تو دکاندار پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد کے لیے بجلی زندگی کی مانند ہے۔ درزی کی مشین، نائی کی دکان، ویلڈنگ کی ورکشاپ، فوٹو اسٹیٹ مشین، انٹرنیٹ کیفے اور دیگر کئی کاروبار بجلی کے بغیر نہیں چل سکتے۔ جب گھنٹوں بجلی بند رہتی ہے تو دکاندار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہ جاتے ہیں۔ ان کی آمدنی کم ہو جاتی ہے، اخراجات وہی رہتے ہیں اور یوں معاشی دباؤ بڑھتا چلا جاتا ہے۔
گھروں میں صورتحال اس سے بھی زیادہ کربناک ہے۔ بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ کئی طالب علم رات کو پڑھنا چاہتے ہیں مگر بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا ہوتا ہے۔ موبائل کی ٹارچ یا کمزور سی روشنی میں پڑھائی کرنا کسی بھی طالب علم کے لیے آسان نہیں۔ یہ وہ نسل ہے جس کے کندھوں پر مستقبل کی ذمہ داری ہے، مگر ان کے ہاتھوں میں روشنی کی جگہ اندھیرا تھما دیا گیا ہے۔
لوگوں کے دلوں میں ایک سوال بار بار جنم لیتا ہے کہ آخر گلگت بلتستان کے ساتھ یہ صورتحال کب تک جاری رہے گی؟ یہاں کے دریا صرف خوبصورتی کی علامت نہیں بلکہ توانائی کے خزانے بھی ہیں۔ اگر ان وسائل کو صحیح منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو نہ صرف اس خطے کی بجلی کی ضرورت پوری ہو سکتی ہے بلکہ اضافی بجلی بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ مگر افسوس کہ برسوں سے یہی مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے اور حل کی رفتار انتہائی سست نظر آتی ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بجلی کا مسئلہ صرف گھروں تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ جب کاروبار متاثر ہوں گے تو معیشت کمزور ہوگی، جب تعلیم متاثر ہوگی تو آنے والی نسلیں بھی مشکلات کا شکار ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ بجلی کا مسئلہ دراصل ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔
نگران حکومت کے لیے یہ ایک اہم امتحان ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ عوام کو صرف تسلی کے الفاظ نہیں بلکہ عملی بہتری چاہیے۔ اگر عارضی طور پر بھی بجلی کی فراہمی میں بہتری لائی جائے تو لوگوں کے دلوں میں امید پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ مستقبل کے لیے مستقل منصوبہ بندی کی جائے۔ نئے ہائیڈرو پاور منصوبے شروع کیے جائیں، پرانے منصوبوں کی مرمت کی جائے اور بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ گلگت بلتستان کے وسائل کو بروئے کار لا کر اس خطے کو توانائی کے بحران سے نکالا جا سکتا ہے، بس ضرورت مخلصانہ نیت اور سنجیدہ اقدامات کی ہے۔
گلگت بلتستان کے عوام کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں کر رہے۔ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کے گھروں میں بھی روشنی ہو، ان کے بچوں کا مستقبل بھی روشن ہو اور ان کے کاروبار بھی چل سکیں۔ جب کسی علاقے کے لوگ مسلسل بنیادی سہولت سے محروم رہیں تو ان کے دلوں میں مایوسی جنم لینا فطری بات ہے۔
لیکن اب بھی وقت ہے کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے۔ اگر فوری اقدامات کیے جائیں تو نہ صرف لوڈشیڈنگ کے مسئلے میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال کیا جا سکتا ہے۔ عوام چاہتے ہیں کہ حکمران ان کی آواز سنیں اور ان کے دکھ کو سمجھیں۔
مارچ کا مہینہ ختم ہونے کو ہے، رمضان کے روزے بھی اختتام کے قریب ہیں، مگر گلگت بلتستان کے اندھیرے ابھی تک ختم نہیں ہوئے۔ یہ اندھیرے صرف بجلی کے نہیں بلکہ حکومتی توجہ کی کمی کے بھی ہیں۔ اگر حکومت سنجیدہ ہو جائے اور عملی قدم اٹھائے تو یہی اندھیرے روشنی میں بدل سکتے ہیں۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ نگران حکومت فوری نوٹس لے اور گلگت بلتستان کے عوام کو اس اذیت ناک لوڈشیڈنگ سے نجات دلائے۔ کیونکہ جب کسی خطے کے گھروں میں روشنی ہوتی ہے تو صرف بلب ہی نہیں جلتے بلکہ لوگوں کے دلوں میں امید بھی روشن ہو جاتی ہے۔ یہی امید ایک بہتر اور روشن مستقبل کی بنیاد بنتی ہے۔
column in urdu Load Shedding Ramadan Ends
گلگت بلتستان کے عوام ہر ماہ کتنے پیسے پیکچز میں ضائع کرتے ہیں ؟؟ طہٰ علی تابشٓ بلتستانی




