مصنوعی ذہانت ، ایک خاموش انقلاب. سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے، جہاں مشینیں صرف حکم ماننے والی اشیاء نہیں رہیں بلکہ سوچنے، سیکھنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکی ہیں۔ اس تبدیلی کا نام ہے مصنوعی ذہانت۔ یہ ایک خاموش انقلاب ہے جو ہماری روزمرہ زندگی میں اس قدر مدغم ہو چکا ہے کہ اکثر ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
صبح موبائل فون کا الارم بجنے سے لے کر رات کو آن لائن فلم منتخب کرنے تک، مصنوعی ذہانت ہمارے ساتھ قدم بہ قدم چل رہی ہے، جب ہم انٹرنیٹ پر کوئی چیز تلاش کرتے ہیں یا سوشل میڈیا ہمیں ہماری دلچسپی کے مطابق مواد دکھاتا ہے، تو درحقیقت پیچیدہ الگورتھمز ہمارے رویّوں کو سمجھ کر فیصلے کر رہے ہوتے ہیں۔
صحت کے شعبے میں اس کی اہمیت اور بھی نمایاں ہے۔ جدید کمپیوٹر نظام ہزاروں طبی رپورٹس کا چند لمحوں میں تجزیہ کر کے بیماری کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی دیہی اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کی امید بھی دلا رہی ہے۔ اسی طرح زراعت میں سینسرز اور ڈیٹا اینالیسز کے ذریعے کسانوں کو بروقت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے پیداوار میں اضافہ ممکن ہو رہا ہے۔
لیکن ہر انقلاب اپنے ساتھ سوالات بھی لاتا ہے۔ کیا مشینیں انسانوں کی جگہ لے لیں گی؟ کیا ہمارا ذاتی ڈیٹا محفوظ رہے گا؟ اگر فیصلے الگورتھمز کریں گے تو ان کی اخلاقی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کو خطرہ سمجھنے کے بجائے اسے ایک آلے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر نئی ٹیکنالوجی نے ابتدا میں خدشات کو جنم دیا، مگر وقت کے ساتھ انسان نے خود کو اس کے مطابق ڈھال لیا۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نئی مہارتیں سیکھیں، تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں اور مضبوط قوانین کے ذریعے اس ٹیکنالوجی کے استعمال کو منظم کریں۔
مصنوعی ذہانت دراصل آئینہ ہے یہ وہی عکس دکھاتی ہے جو ہم اس میں ڈالتے ہیں۔ اگر نیت اور رہنمائی درست ہو تو یہی ٹیکنالوجی انسانی ترقی، مساوات اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اسے کس سمت لے جاتے ہیں۔
column in urdu Artificial Intelligence
مریم نواز کا کھیلتا پنجاب پنک گیمز کا افتتاح، 3400 خواتین کھلاڑیوں کی شرکت
گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی تھانہ باضابطہ قائم، 200 اہلکاروں کے ساتھ کام کا آغاز
شگر سکردو محکمانہ ترقی کی تقریب، محمد زمان شگری کو ڈی ایس پی کے رینک لگائے گئے




