سیاحتی سرگرمیاں اور گلگت بلتستان. آصف احمد کومیکی
گلگت بلتستان پاکستان کا ایک خوبصورت، پُرامن اور ثقافتی طور پر باوقار خطہ ہے، جہاں ہر سال ملک بھر سے اور بیرونِ ملک سے بے شمار سیاح سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں۔ یہاں کے بلند و بالا پہاڑ، حسین وادیاں، دلکش جھیلیں اور مہمان نواز لوگ ہر آنے والے کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ سیاحت یقیناً گلگت بلتستان کی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے لانے کا ایک اہم ذریعہ ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض سیاح یہاں آ کر ایسی حرکات کرتے ہیں جو نہ صرف اخلاقی اقدار کے خلاف ہیں بلکہ مقامی ثقافت اور معاشرتی ماحول کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔
آج کل کچھ لوگ سیاحت کے نام پر گلگت بلتستان میں بے حیائی، غیر سنجیدہ رویوں اور غیر مناسب سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ ایسی حرکات نہ صرف یہاں کے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتی ہیں بلکہ اس خوبصورت خطے کی نیک نامی کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ گلگت بلتستان اپنی تہذیب، شرافت، مذہبی و سماجی اور خاندانی روایات کی وجہ سے ایک منفرد پہچان رکھتا ہے، اس لیے یہاں آنے والے ہر سیاح پر لازم ہے کہ وہ اس خطے کی روایات، ثقافت اور مقامی احساسات کا احترام کرے۔
یہ ایک اہم سوال ہے کہ کیا گلگت بلتستان میں کوئی ایسا مضبوط اور مؤثر نظام موجود ہے جو ایسی غیر مناسب حرکات کو روک سکے؟ کیا متعلقہ ادارے، مقامی انتظامیہ اور سماجی نمائندے اس مسئلے پر آواز اٹھا رہے ہیں؟ اگر نہیں، تو اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور ایسے اقدامات کریں جن سے گلگت بلتستان کا ماحول پاکیزہ، باوقار اور محفوظ رہ سکے۔
ہم تمام سیاح حضرات سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ جب بھی گلگت بلتستان آئیں تو یہاں کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں، ثقافت، مذہبی اور سماجی روایات کا بھی احترام کریں۔ یاد رکھیں کہ سیاحت صرف تفریح کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ذمہ داری بھی ہے کہ آپ جس علاقے میں جائیں، وہاں کے ماحول اور وقار کو برقرار رکھیں۔ گلگت بلتستان ہم سب کی پہچان ہے، اس کی عزت، پاکیزگی اور نیک نامی کو برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
Tourism Activities and Gilgit-Baltistan




