“دھوپ کے مسافر” کتاب سے لیا گیا اقتساب ملاحظہ فرمائیں .بتول فاطمہ
تھر کے پیاسے بچے
تھر کے ریگستان میں سورج صرف آسمان پر نہیں نکلتا، وہ زمین پر بھی اتر آتا ہے۔ ریت کے ذرے آگ کی طرح تپتے ہیں اور ہوا ایسے چلتی ہے جیسے کسی نے بھٹی کا دہانہ کھول دیا ہو۔ اسی ریگستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں چند بچے رہتے تھے۔ ان کی صبح پرندوں کی آواز سے نہیں، پیاس سے کھلتی تھی۔ ہر روز فجر کے وقت ان کی مائیں مٹی کے گھڑے اور پیتل کے برتن اٹھاتیں اور پانی کی تلاش میں نکل پڑتیں۔ بچے بھی ان کے ساتھ ساتھ چلتے، ننگے پاؤں جلتی ریت پر۔ راستہ لمبا تھا، بہت لمبا، اتنا لمبا کہ چھوٹے قدم کئی بار رک جاتے۔
“امّاں، ابھی کتنا دور ہے؟”
ایک بچہ پوچھتا۔
ماں اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہتی:
“بس بیٹا، تھوڑا سا اور۔”
مگر وہ “تھوڑا سا” اکثر کئی میل لمبا ہوتا۔
ایک سال بارش نہ ہوئی، پھر دوسرا سال بھی خشک گزر گیا۔ گاؤں کے تالاب سوکھ گئے، کنوؤں نے پانی دینا چھوڑ دیا، درختوں کے پتے زرد ہو گئے اور جانوروں کی آنکھوں میں بھی پیاس اتر آئی۔ اب پانی پہلے سے بھی دور ملتا تھا۔
ایک دن گاؤں کے چند بچے ایک سوکھے تالاب کے کنارے بیٹھے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں خالی برتن تھے۔ سب سے چھوٹا بچہ ریت میں انگلی سے لکیریں کھینچتے ہوئے بولا:
“میں نے کل خواب میں بہت سارا پانی دیکھا تھا۔”
باقی بچے اس کی طرف دیکھنے لگے۔
“کیسا پانی؟”
“بہت زیادہ… اتنا کہ میں دوڑ دوڑ کر پیتا رہا۔”
بچوں کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک آ گئی۔ پانی اب ان کے لیے نعمت نہیں، خواب بن چکا تھا۔
اس شام ایک بچی اپنی ماں کے ساتھ پانی لینے گئی۔ راستے میں اس کی نظر آسمان پر منڈلاتے بادلوں پر پڑی۔ وہ خوشی سے اچھل پڑی۔
“امّاں! بارش آئے گی!”
ماں نے بادلوں کو دیکھا، پھر آسمان کو، پھر بیٹی کے چہرے کو اور خاموش ہو گئی، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ بادل اکثر دھوکہ دے کر گزر جاتے ہیں۔
بچی پورا دن آسمان کو دیکھتی رہی۔ شام ہوئی، رات آئی، بادل بھی چلے گئے، مگر زمین پر ایک قطرہ بھی نہ گرا۔ اس رات بچی دیر تک جاگتی رہی۔ شاید وہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ بادل وعدے کیوں توڑ دیتے ہیں۔
چند دن بعد گاؤں میں پانی لانے والی گاڑی آئی۔ لوگ اپنے برتن لے کر دوڑ پڑے۔ ہر طرف شور مچ گیا۔ قطاریں لگ گئیں۔ دھوپ میں کھڑے بچے اپنے چھوٹے چھوٹے برتن سینے سے لگائے انتظار کرتے رہے۔ ایک بوڑھی عورت کی باری آئی تو پانی ختم ہو گیا۔ وہ خالی برتن لیے واپس لوٹنے لگی۔
اس کے پیچھے ایک بچہ کھڑا تھا۔ اس نے اپنے برتن میں جھانکا۔ اس میں تھوڑا سا پانی موجود تھا۔ بچے نے خاموشی سے اپنا برتن آگے بڑھا دیا۔
“دادی، آپ لے لیں۔”
بوڑھی عورت کی آنکھیں بھر آئیں۔
“اور تم؟”
بچے نے مسکرا کر کہا:
“میں کل پی لوں گا۔”
حالانکہ اسے معلوم تھا کہ کل بھی شاید پانی نہ ملے۔
تھر کے بچے بہت جلد بڑے ہو جاتے ہیں۔ پیاس انہیں وقت سے پہلے سمجھدار بنا دیتی ہے۔ وہ کھلونوں سے کم اور خالی گھڑوں سے زیادہ کھیلتے ہیں۔ وہ بارش کے گیت گاتے ہیں مگر بارش کو ترستے رہتے ہیں۔ وہ بادلوں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور بادلوں کے چلے جانے پر خاموش ہو جاتے ہیں۔
ایک شام گاؤں کے سب بچے ایک ٹیلے پر بیٹھے سورج کو ڈوبتے دیکھ رہے تھے۔ سب سے چھوٹے بچے نے آسمان کی طرف دیکھ کر پوچھا:
“کیا جنت میں پانی بہت ہوتا ہے؟”
کسی کے پاس جواب نہیں تھا۔
کچھ لمحے خاموشی رہی۔
پھر ایک بچی آہستہ سے بولی:
“اگر وہاں بہت پانی ہے تو اللہ میاں ہمارے تھر میں بھی تھوڑا سا بھیج دیں۔”
یہ کہہ کر وہ آسمان کو دیکھنے لگی، شاید دعا اور انتظار کے درمیان کوئی راستہ ڈھونڈ رہی تھی۔
سورج ڈوب گیا۔ ریت ٹھنڈی ہونے لگی۔ بچے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے، مگر ان کے خالی برتن، ان کی سوکھی ہتھیلیاں اور بارش کے انتظار میں لگی آنکھیں ریگستان کی خاموشی میں دیر تک بولتی رہیں۔
کیونکہ تھر میں صرف زمین ہی پیاسی نہیں ہوتی، بعض اوقات بچپن بھی پیاسا رہ جاتا ہے۔
Dhoop Ke Musafir
مسرت نذیر: شہرت کے عروج سے خاموش ہجرت تک. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی ہدایت پر داریل میں ریسکیو آپریشن کے لیے بھرپور متحرک کاری




