لینڈ سکیپ 3 2 1764392675488 0

پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ورکنگ گروپ کا اجلاس ، یکساں ٹیکنکل الاؤنس کی نفاذ پر زور
عدم توازن کے باعث انجینئرز میں بے چینی بڑھ رہی ہے،اجلاس میں مطالبہ
اسلام آباد(سٹی رپورٹر)پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) کے ورکنگ گروپ برائے پبلک سیکٹر انسٹی ٹیوشنز ایشوز (WG-PSII) کا دوسرا اجلاس پی ای سی ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوا جس میں سرکاری اداروں میں انجینئرز کو درپیش اہم مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت انجینئر ڈاکٹر خواجہ رفعت حسن نے کی جبکہ انجینئر عبداللطیف (شریک چیئرمین)، انجینئر نوراز گل، انجینئر ڈاکٹر سجاد حسین بلوچ اور انجینئر خالد محمود سمیت دیگر ارکان نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ورکنگ گروپ نے وفاقی محکموں اور صوبہ سندھ و بلوچستان میں خدمات انجام دینے والے انجینئرز کے لیے ٹیکنیکل الاؤنس کے نفاذ کی حکمتِ عملی پر تفصیلی بحث کی۔ اجلاس نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ خیبر پختونخوا، پنجاب، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں ٹکنیکل الائونس کے حوالے سے پیش رفت ہو چکی ہے لیکن سندھ، بلوچستان اور کئی وفاقی اداروں کے انجینئرز تاحال معاوضے اور مراعات کے حوالے سے شدید عدم مساوات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شرکاء نے کہا کہ عدم توازن کے باعث انجینئرز میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور اداروں کو ٹیلنٹ برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔تفصیلی مشاورت کے بعد ورکنگ گروپ نے ٹیکنیکل الاؤنس سے متعلق پالیسی پیپر ENGINEERING EQUITY: THE PAKISTAN ENGINEERING COUNCIL’S ADVOCACY FOR TECHNICAL ALLOWANCE کو حتمی شکل دے دی۔ اس پالیسی پیپر میں ٹیکنیکل الائونس کے لیے یکساں، پالیسی پر مبنی اور پی ای سی رجسٹریشن کے ساتھ منسلک طریقہ کار کی سفارش کی گئی ہے تاکہ بین الصوبائی اور محکمہ جاتی عدم مساوات کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پالیسی پیپر کو مجاز حکام کو پیش کیا جائے گا تاکہ قومی سطح پر انجینئرز کے لیے مساوی مراعات یقینی بنائی جا سکیں۔اجلاس میں سرکاری اداروں میں انجینئرنگ سے متعلقہ عہدوں پر نان انجینئرز کی تعیناتی پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ یہ عمل اداروں کی کارکردگی کو متاثر کرنے کے ساتھ پی ای سی ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ ورکنگ گروپ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انجینئرنگ سے متعلق خالی آسامیوں پر فوری بھرتیاں کی جائیں تاکہ اہل انجینئرز کو روزگار کے مواقع مل سکیں۔اجلاس میں منافع بخش ڈسکوز کی مجوزہ نجکاری، سروس سٹرکچر اور انجینئرز کو درپیش دیگر اہم مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ورکنگ گروپ نے واضح کیا کہ نجکاری جیسے اقدامات مسائل کے حل کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرسکتے ہیں اور ملازمین کی جاب سکیورٹی اور مراعات کے حوالے سے تشویش بڑھا سکتے ہیں۔اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ ان سفارشات پر بروقت اور مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے پاکستان انجینئرنگ کونسل متعلقہ وفاقی و صوبائی حکومتوں اور اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گی۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!
50% LikesVS
50% Dislikes

پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ورکنگ گروپ کا اجلاس ، یکساں ٹیکنکل الاؤنس کی نفاذ پر زور

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں