افسانہ، مٹی کی خوشبو میں بندھی ریت . تحریر: یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر، گوجرہ پاکستان
گاؤں کی کچی گلیوں میں اس دن کچھ الگ ہی رونق تھی۔ مٹی پر چھڑکا گیا پانی سورج کی تپش میں خوشبو بن کر اُڑ رہا تھا، اور ہر دروازے پر لگی آم کے پتوں کی بند نوار اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ آج شادی ہے، صغریٰ کی شادی۔
صغریٰ، جو اس گاؤں کی عام سی لڑکی تھی، مگر اپنی ماں، دادی اور خالاؤں کی آنکھوں میں وہ ایک مکمل داستان تھی۔ وہی صغریٰ جس نے بچپن میں گُڈّے گُڑیا کی شادی رچائی تھی، آج خود مایوں بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھوں پر ہلدی کا گاڑھا رنگ چڑھا تھا، اور آنکھوں میں ایک خاموش سوال، کیا شادی واقعی ایک خواب کی تعبیر ہے، یا صرف ایک رسم؟
دادی اماں صحن کے کونے میں بیٹھی تھیں۔ ان کی جھریوں بھری انگلیاں ماضی کے دریچوں کو چھوتی معلوم ہوتی تھیں۔ وہ ہر آنے والی عورت کو ایک ہی بات کہتیں،
“بیٹی، شادی صرف دو لوگوں کا بندھن نہیں، یہ دو نسلوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ عورت اسے نبھاتی ہے، مرد اسے اوڑھتا ہے۔”
مایوں کی رسم میں گاؤں کی ساری عورتیں جمع تھیں۔ کوئی ڈھولک بجا رہی تھی، کوئی ٹپے گا رہی تھی۔
“ساہیاں وے، ساہیاں…”
آوازوں میں خوشی تھی، مگر ان کے بیچ بیچ میں دبی ہوئی تھکن بھی، وہ تھکن جو صدیوں سے عورتوں کے حصے میں آئی ہے۔
صغریٰ کی ماں، زینب، خاموشی سے سب کچھ سنبھال رہی تھیں۔ مہمانوں کی خاطر، رسومات کی ترتیب، اور سب سے بڑھ کر بیٹی کے مستقبل کی فکر۔ وہ جانتی تھیں کہ کل سے صغریٰ کسی اور گھر کی امانت ہو گی، جہاں اسے پھر سے خود کو ثابت کرنا ہو گا، ایک اچھی بہو، ایک فرمانبردار بیوی، اور آنے والے وقت میں ایک صابر ماں کے طور پر۔
مہندی کی رات جب صغریٰ کی سہیلیاں اس کے گرد بیٹھی تھیں، ہنسی کے بیچ اچانک وہ بولی،
“کیا شادی کے بعد بھی ہم ایسے ہی ہنس سکیں گے؟”
سہیلیاں چپ ہو گئیں۔ کسی کے پاس جواب نہ تھا، صرف تجربے تھے۔
نکاح کے دن، جب صغریٰ کو سرخ جوڑے میں تیار کیا جا رہا تھا، دادی اماں نے اس کے کان میں آہستہ سے کہا،
“بیٹی، رسمیں نبھانا آسان ہے، خود کو نہ کھو دینا۔”
ڈولی اُٹھی، گاؤں کی گلیاں پیچھے رہ گئیں، مگر ان گلیوں میں بسنے والی عورتوں کی دعائیں، نصیحتیں اور خاموش کہانیاں صغریٰ کے ساتھ تھیں۔ یہ شادی صرف ایک رسم نہیں تھی، بلکہ ایک تسلسل تھا، دیہی زندگی کا، عورت کے صبر کا، اور اس امید کا کہ شاید آنے والی نسلوں کے لیے یہ رسمیں کچھ ہلکی ہو جائیں۔
ڈولی جب نئی دہلیز پر رکی تو صغریٰ کے قدم ایک لمحے کو ٹھٹھک گئے۔ رسم کے مطابق اس نے ٹھوکر مار کر چاولوں کی ہانڈی گرائی، مگر اس کے دل میں یہ خیال بھی آیا کہ کیا وہ واقعی اس گھر میں خوشحالی لے کر آئی ہے، یا خود کو بانٹنے آئی ہے؟ ساس نے قرآن سر پر رکھا، اور صغریٰ نے جھک کر چوکھٹ کو بوسہ دیا، یہ جھکاؤ صرف جسم کا نہیں تھا، صدیوں کی تربیت کا تھا۔
گھر کے اندر عورتوں کی سرگوشیاں تھیں۔
“لڑکی سلجھی ہوئی لگتی ہے۔”
“ماں نے اچھی تربیت کی ہے۔”
کسی نے یہ نہ پوچھا کہ وہ کیا سوچتی ہے، کیا چاہتی ہے۔
پہلی رات کے بعد صبح سویرے صغریٰ کو جگا دیا گیا۔ نئی دلہن کے ہاتھوں کی چائے، اس کی آزمائش تھی۔ کپ میں چینی کم ہو گئی تو خاموشی چھا گئی، زیادہ ہو گئی تو مسکراہٹ میں تنقید گھل گئی۔ صغریٰ نے تب جانا کہ یہاں ہر رسم صرف خوشی نہیں، پیمانہ بھی ہے۔
گاؤں میں “مُنہ دکھائی” کی رسم ہوئی۔ عورتیں اس کے قریب آ کر بیٹھیں، زیور کو پرکھا، کپڑوں کو تولنے لگیں۔ مگر اس لمحے صغریٰ کی نظر اپنی ساس پر جا ٹھہری، جو ایک کونے میں خاموش بیٹھی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں وہی تھکن تھی، جو اس نے اپنی ماں کی آنکھوں میں دیکھی تھی۔ تب اسے احساس ہوا، یہ مقابلہ نہیں، یہ زنجیر ہے، جو عورت سے عورت تک منتقل ہوتی ہے۔
ایک دن جب وہ صحن میں اناج چن رہی تھی، نند نے آہستہ سے کہا،
“بھابی، اگر کبھی دل بھاری ہو تو چھت پر آ جایا کرنا۔ وہاں ہوا باتیں سن لیتی ہے۔”
یہ چھوٹی سی ہمدردی صغریٰ کے لیے کسی رسم سے کم نہ تھی، ایک ایسی رسم، جو کتابوں میں نہیں، دلوں میں لکھی جاتی ہے۔
وقت گزرتا گیا۔ صغریٰ نے رسمیں نبھائیں، مگر خود کو مکمل طور پر خاموش نہ ہونے دیا۔ اس نے ڈھولک کی تھاپ میں اپنی آواز شامل کی، مگر ایسے بول چُنے جن میں عورت کی خواہش بھی تھی۔ اس نے ساس کی خدمت کی، مگر بیٹی کی طرح سوال بھی کیے۔ آہستہ آہستہ، گھر کے دوسرے کاموں کے ساتھ، اس نے لڑکیوں کو قرآن کے ساتھ لکھنا پڑھنا بھی سکھانا شروع کر دیا۔ گاؤں کی عورتوں کو یہ نئی رسم عجیب لگی، مگر بری نہ لگی۔
ایک دن دادی اماں کی بات اسے پھر یاد آئی.
“خود کو نہ کھو دینا۔”
شاید یہی شادی کی اصل رسم تھی، اپنے اندر کی عورت کو زندہ رکھنا، مٹی کی خوشبو سے جڑے رہتے ہوئے، مگر آنکھیں آنے والے موسموں پر رکھنا۔ صغریٰ اب بھی اس گاؤں کی بہو تھی، مگر اس کے قدموں کے نشان کچھ مختلف تھے۔ اور یہی فرق، کل کی کسی دلہن کے لیے آسانی بن سکتا تھا۔
مٹی وہی تھی، رسمیں بھی تقریباً وہی، مگر کہانی، آہستہ آہستہ، بدل رہی تھی۔
fiction Sand Entwined with the Fragrance of Earth
محکمہ ریلویز نے جعفر ایکسپریس کو 5 روز بعد بحال کردیا
حقیقی شعور: انسانیت کا نجات دہندہ, پارس کیانی ساہیوال، پاکستان




