fiction, Lamp of Zulikhan A Short Story 0

افسانہ۔ زلیخاں کا چراغ، یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر، گوجرہ پاکستان
پوُس کی یخ بستہ رات تھی۔ کہر اس طرح پھیلی ہوئی تھی جیسے کسی نے پورے گاؤں پر روئی کی تہہ بچھا دی ہو۔ دریائے راوی کے کنارے آباد گاؤں چک مستانہ میں سب دروازے بند ہو چکے تھے۔ مویشی باڑوں میں سمٹ گئے تھے، مگر گاؤں کے آخری سرے پر ایک مٹی کی کوٹھڑی میں اب بھی ایک مدھم سا چراغ جل رہا تھا۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

چراغ کے گرد دونوں ہاتھوں کی اوٹ بنائے زلیخاں کھڑی تھی۔ ہوا تیز تھی، مگر اس کی نگاہ چراغ سے زیادہ اپنے شوہر کے چہرے پر تھی، جو لوہے کے ٹکڑوں میں گم تھا۔

کوٹھڑی کچی اینٹوں کی بنی ہوئی تھی۔ دیواروں سے مٹی اور زنگ آلود لوہے کی مہک آتی تھی۔ یہی یوسف کی دنیا تھی۔ دن کو وہ جاگیردار کے ہاں ہل چلاتا، کنویں سے پانی کھینچتا، اور رات کو وہ لوہے سے باتیں کرتا تھا۔

گاؤں والوں کے نزدیک یوسف بس ایک خاموش، محنتی کسان تھا۔ کم گو، جھکی نگاہوں والا۔ مگر زلیخاں جانتی تھی کہ اس کے شوہر کے دل میں صرف زمین نہیں، ایک خواب بھی دھڑکتا ہے۔ ایسا خواب جو ہاتھوں سے بننا چاہتا تھا۔

شادی کے شروع کے دنوں میں زلیخاں کو یہ سب سمجھ نہ آتا۔ یوسف تھکا ہارا لوٹتا، سوکھی روٹی کھاتا، اور پھر اس کوٹھڑی میں جا بیٹھتا جہاں لوہے کے پرزے، پرانے پہیے، بیل گاڑی کے ٹوٹے حصے اور مٹی سے اٹے کاغذ بکھرے ہوتے۔

ایک رات زلیخاں نے ہمت کی۔ چراغ اٹھایا اور اندر چلی گئی۔

فرش پر ایک انوکھی ساخت پڑی تھی۔ لوہے کا فریم، لکڑی کے پہیے، اور درمیان میں ہاتھ سے بنایا گیا ایک بھاری ڈھانچہ۔ یوسف اس کے گرد جھکا کچھ جوڑ رہا تھا۔

“یہ کیا بناتے ہو؟”
زلیخاں نے دھیرے سے پوچھا۔

یوسف چونکا، پھر آہستہ سے بولا،
“سوچتا ہوں… ایسی سواری جو بیل کے بغیر چلے۔ کسان کا بوجھ ہلکا ہو جائے۔”

اس کے لہجے میں امید کم، جھجھک زیادہ تھی۔
“ابا کہتے ہیں، یہ سب فضول ہے۔ کہتے ہیں۔ خواب نہیں بن، زمین کاٹ۔”

زلیخاں نے اس رات کچھ نہیں کہا۔
اگلی رات وہ ایک اضافی چراغ لے آئی۔ کوٹھڑی کے کونے میں رکھ دیا۔

“یہاں اندھیرا زیادہ ہے،”
بس اتنا ہی کہا۔

اسی لمحے سے وقت کا بہاؤ بدل گیا۔

راتیں لمبی ہو گئیں۔ باہر کہر جمتی، اندر لوہا گرم ہوتا۔ زلیخاں کبھی خاموشی سے مٹی کے چولہے پر چائے رکھ دیتی، کبھی کپڑے سی لیتی، اور کبھی بس چراغ کی لو بچانے میں لگی رہتی۔

سردیوں میں جب انگلیاں سن ہو جاتیں، وہ پرانی رضائی اوڑھ کر بیٹھتی۔ ہوا تیز ہوتی تو وہ دونوں ہتھیلیوں سے چراغ کی لو کو ڈھانپ لیتی۔

“زلیخاں، چھوڑ دو،”
یوسف کہتا،
“تم بیمار پڑ جاؤ گی۔”

وہ ہلکا سا مسکرا دیتی۔
“اگر یہ بجھ گیا تو تم رک جاؤ گے۔”

گھر کے حالات سخت ہوتے گئے۔ یوسف کے باپ، میاں الٰہی بخش، پرانے خیالات کے آدمی تھے، یوسف کی دیوانگی دیکھتے تو کہتے،
“لوہے کے کھلونوں سے کھیت نہیں چلتے!”
وہ کوٹھڑی پر نظر ڈال کر سر جھٹک دیتے۔

ایک دن ایسا آیا جب ایک خاص پرزے کی ضرورت پڑی، مہنگا، شہر سے آنے والا۔ یوسف نے خاموشی سے کاغذ سمیٹ دیے۔ خواب شاید یہیں ختم ہونا تھا۔

زلیخاں نے کچھ نہیں کہا۔

چند دن بعد وہ اپنے بھائی کے گاؤں گئی۔ جب لوٹی تو اس کی کلائیاں خالی تھیں۔ شادی کی نشانی چوڑیاں اب نہیں تھیں۔ اس نے یوسف کے ہاتھ میں چند نوٹ اور سکے رکھ دیے۔

“یہ لے لو۔”

یوسف نے دیکھا، سمجھ گیا۔
کوئی سوال نہ کیا۔
بس اس کے ہاتھوں کو پیشانی سے لگا لیا۔

پھر وہ رات آئی۔

ماگھ کی سرد رات۔ چراغ کی لو کانپ رہی تھی۔ یوسف نے آخری کیل ٹھونکی۔ اس نے زلیخاں کی طرف دیکھا۔ زلیخاں نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔

ایک چرچراہٹ، ایک جھٹکا…
اور پھر وہ چیز چل پڑی۔

پہیے گھومے۔ لوہا زندہ ہو گیا۔

یوسف وہیں بیٹھ گیا۔ آنسو گالوں پر بہہ نکلے۔
“چل پڑی… واقعی چل پڑی…”

زلیخاں نے چراغ ایک طرف رکھ دیا۔
اب روشنی کافی تھی۔

صبح پورا گاؤں جاگ اٹھا۔
چک مستانہ کی کچی پگڈنڈی پر ایک انوکھی سواری چل رہی تھی، بغیر بیل، بغیر گھوڑے۔ لوگ گھروں سے نکل آئے۔ میاں الٰہی بخش کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

اور اس سواری کے پیچھے، یوسف کے ساتھ، زلیخاں تھی، سادہ اوڑھنی میں، خاموش، مگر مضبوط۔

سال بیت گئے۔ ایجاد نے نام پایا۔ کسانوں کی زندگیاں بدلیں۔
مگر ایک رسم باقی رہی۔

ہر سال وہ دونوں اس پرانی کوٹھڑی میں آتے۔
ایک پرانا چراغ جلاتے۔
خاموش بیٹھتے۔

کیونکہ وہ جانتے تھے.
لوہے کو حرکت دینے والے ہاتھ یوسف کے تھے،
مگر خواب کو جلائے رکھنے والی لو…
زلیخاں تھی۔

آج بھی چک مستانہ کے بوڑھے کہتے ہیں.
“ہم نے وہ سواری چلتے دیکھی تھی،
مگر اصل طاقت اس عورت میں تھی
جو کہر اور اندھیرے میں بھی
چراغ تھامے کھڑی رہی۔”

fiction, Lamp of Zulikhan A Short Story

کھرمنگ، ضلعی انتظامیہ کھرمنگ کی جانب سے صحافی برادری کے لیے ایک اہم اور خوش آئند اقدام، ے پریس کلب کھرمنگ کے آفس کے قیام کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

100% LikesVS
0% Dislikes

افسانہ۔ زلیخاں کا چراغ، یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر، گوجرہ پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں