column urdu news, Education without training is ignorance 0

تربیت کے بغیر تعلیم جہالت ہے، یاسر دانیال صابری
انسانی تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ علم ہمیشہ وہی مفید ثابت ہوا ہے جو تربیت کے زیور سے آراستہ ہو۔ محض کتابیں رٹ لینا، ڈگریاں حاصل کر لینا، یا دنیاوی نصاب پر عبور حاصل کرنا اگر انسان کو اخلاق، کردار اور معاشرتی ذمہ داری کا شعور نہ دے تو یہ تعلیم نہیں بلکہ ایک بوجھ بن جاتی ہے۔ ایسے ہی موقع پر کہا جاتا ہے کہ “تربیت کے بغیر تعلیم جہالت ہے۔
آج کے دور میں ہمارے معاشروں میں بڑی تعداد میں پڑھے لکھے لوگ نظر آتے ہیں، یونیورسٹیوں کے دروازے کھلے ہیں، لائبریریوں میں کتابیں سجی ہیں، اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے علم کے ذرائع ہر شخص کی دسترس میں ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اتنی تعلیم کے باوجود ہمارے رویوں میں وہ پختگی کیوں نہیں آئی جو ایک باشعور قوم کی پہچان ہوتی ہے؟ سڑکوں پر قانون توڑنے والے اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں، دفاتر میں کرپشن کرنے والے ڈگری ہولڈر ہوتے ہیں، جھوٹ اور فریب کے ہتھکنڈے سیکھنے والے عام طور پر تعلیم کے زیور سے آراستہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ تعلیم اپنی اصل روح کھو چکی ہے کیونکہ اسے تربیت کے سانچے میں نہیں ڈھالا گیا۔
تعلیم کا مقصد صرف معاش کمانا یا عہدے حاصل کرنا نہیں، بلکہ شعور کو بیدار کرنا، سوچ کو نکھارنا اور انسان کو حیوانیت سے نکال کر انسانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز کرنا ہے۔ اگر تعلیم اس کردار کو ادا نہ کر پائے تو وہ جہالت ہی کی ایک صورت ہے۔ جہالت صرف ناخواندگی کا نام نہیں، بلکہ شعور کے بغیر حاصل ہونے والا علم بھی جہالت کی ایک بدترین شکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے معاشرے میں ہم پڑھے لکھے جاہلوں کی ایک بڑی تعداد دیکھتے ہیں جو اپنی زبان سے تو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں مگر کردار کے میدان میں صفر نظر آتے ہیں۔
قرآن مجید نے بھی تعلیم کو ہمیشہ تربیت کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ص کا مقصد صرف کتاب پڑھانا نہیں بلکہ انسانوں کو تزکیہ کرنا بھی قرار دیا۔ تزکیہ یعنی انسان کے دل کو صاف کرنا، اخلاق کو سنوارنا، اور کردار کو مضبوط بنانا۔ یہی اصل تربیت ہے۔ حضور ص نے فرمایا کہ “سب سے بہترین تم میں وہ ہے جس کے اخلاق بہترین ہیں۔” اس فرمان سے واضح ہوتا ہے کہ تعلیم کے بغیر نہیں بلکہ تربیت کے بغیر انسان کا مقام کمزور رہتا ہے۔
آج جب ہم اپنے تعلیمی اداروں کو دیکھتے ہیں تو وہ فیکٹریوں کی طرح لگتے ہیں جو سالہا سال کے بعد ہزاروں ڈگری ہولڈر تو پیدا کر دیتے ہیں مگر ان میں اخلاق، انسانیت، ایثار اور قربانی کا جذبہ پیدا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں کرپشن بڑھتی ہے، عدالتوں میں انصاف کی کمی رہتی ہے، دفاتر میں رشوت کا بازار گرم رہتا ہے اور ہر شخص دوسروں کا حق مارنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ کیا یہی تعلیم ہے؟ اگر یہ تعلیم ہے تو پھر جہالت کس کو کہتے ہیں؟
ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ تعلیم کی اصل روح تربیت ہے۔ استاد کا کردار صرف کتاب پڑھانا نہیں بلکہ شاگرد کے دل و دماغ کو سنوارنا ہے۔ پرانے وقتوں کے اساتذہ شاگرد کو صرف نصاب ہی نہیں پڑھاتے تھے بلکہ زندگی گزارنے کے اصول بھی سکھاتے تھے۔ وہ استاد کو محض ایک معلم نہیں بلکہ ایک مربی کے طور پر دیکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ پرانی نسلوں میں عزت، حیاء، خدمت اور دیانت جیسی صفات عام تھیں۔ آج ہمارے پاس تعلیم تو ہے مگر وہ تربیت کے بغیر ہے، اس لیے یہ تعلیم ہمیں جہالت کے اندھیروں سے نکالنے کے بجائے مزید اندھیروں میں دھکیل رہی ہے۔
ہماری نئی نسل جب بڑے عہدوں پر پہنچتی ہے تو اکثر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتی ہے۔ وہ اپنی طاقت کا سہارا لے کر کمزور کو دبانے لگتی ہے۔ وہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود انسانیت سے عاری نظر آتی ہے۔ یہ سب اس لیے ہے کہ انہیں علم تو ملا مگر اس علم کے ساتھ کردار سازی کا عمل نہیں ہوا۔ ایک ڈاکٹر اگر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کو کاروبار بنا لے، ایک وکیل اگر انصاف کو پیسوں کی منڈی میں بیچ دے، ایک انجینئر اگر اپنی منصوبہ بندی میں بدنیتی کرے تو ان کی ڈگریاں معاشرے کے لیے وبالِ جان بن جاتی ہیں۔
یہ حقیقت بھی سمجھنی چاہیے کہ تعلیم بغیر تربیت انسان کو تکبر سکھاتی ہے۔ وہ خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ علم کا اصل مقصد عاجزی اور انکساری پیدا کرنا ہے۔ بڑے بڑے فلسفیوں نے بھی کہا ہے کہ جتنا زیادہ علم حاصل ہوتا ہے، انسان کو اپنی کم علمی کا احساس اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ مگر آج کے پڑھے لکھے انسان کو دیکھیں تو وہ اپنے رویوں میں انا پرستی، غرور اور ضد کا پیکر نظر آتا ہے۔ یہی اصل جہالت ہے۔
ہمارے تعلیمی اداروں میں تربیت کو نصاب کا حصہ بنانا ہوگا۔ محض سائنس، ریاضی یا انگریزی پڑھانا کافی نہیں، بلکہ بچوں کو اخلاقی اقدار، انسانی ہمدردی، برداشت، قربانی اور سچائی کا سبق بھی دینا ہوگا۔ اگر ہم نے یہ نہ کیا تو آنے والے وقتوں میں پڑھے لکھے ڈاکو، تعلیم یافتہ کرپٹ سیاستدان، اور ڈگری ہولڈر مجرم ہمارے معاشرے پر حکمرانی کریں گے۔
تاریخ میں یہ مثالیں موجود ہیں کہ وہ قومیں جو تربیت یافتہ تھیں، چاہے کم پڑھی لکھی کیوں نہ ہوں، دنیا پر حکومت کرتی رہیں۔ عرب بدو جب اسلام کی تربیت سے آشنا ہوئے تو چند ہی سالوں میں دنیا کے امام بن گئے۔ لیکن جب سے تعلیم کا رشتہ تربیت سے ٹوٹا ہے، ہم غلامی، ذلت اور پسماندگی کے شکار ہو گئے ہیں۔
آخر میں یہی کہنا پڑے گا کہ تعلیم کا درخت صرف اسی وقت پھل دیتا ہے جب اس کی جڑیں تربیت کی زمین میں پیوست ہوں۔ اگر تربیت نہ ہو تو تعلیم ایک زہریلا پھل ہے جو معاشرے کو بیمار کر دیتا ہے۔ اس لیے آج کے والدین، اساتذہ، اور حکمران سب کی ذمہ داری ہے کہ تعلیم کو تربیت کے ساتھ جوڑیں، ورنہ ہماری ڈگریاں، ہماری کتابیں اور ہمارے ادارے سب جہالت کو فروغ دیتے رہیں گے۔
column urdu news, Education without training is ignorance

100% LikesVS
0% Dislikes

تربیت کے بغیر تعلیم جہالت ہے، یاسر دانیال صابری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں