نوجوانوں کا آن لائن گیمز میں مالی نقصان اور وقت کا ضیاع ایک خاموش المیہ، یاسر دانیال صابری
یہ ہمارے عہد کا سب سے افسوسناک اور خطرناک المیہ ہے کہ نوجوان نسل، جو کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے، آہستہ آہستہ آن لائن گیمز کی دلدل میں دھنستی جا رہی ہے۔ یہ کھیل جو ابتدا میں تفریح اور ذہنی تازگی کے نام پر متعارف کروائے گئے، آج نوجوانوں کی زندگیاں نگل رہے ہیں۔ وقت، پیسہ، ذہنی سکون، خاندانی رشتے، تعلیم اور بعض اوقات خود زندگی بھی سب کچھ اس ایک لت کی نذر ہو رہا ہے۔
آن لائن گیمز کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ خاموشی سے انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ ابتدا میں نوجوان چند منٹ یا گھنٹے کھیلتا ہے، پھر آہستہ آہستہ یہ شوق عادت بنتا ہے، اور عادت لت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس مرحلے پر نوجوان کو خود بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ کس راہ پر چل پڑا ہے۔ وہ حقیقی دنیا سے کٹ کر ایک خیالی دنیا میں جینے لگتا ہے، جہاں کامیابی وقتی، خوشی مصنوعی اور نقصان مستقل ہوتا ہے۔
مالی نقصان اس مسئلے کا ایک نہایت سنگین پہلو ہے۔ آج کے آن لائن گیمز صرف کھیل نہیں رہے، بلکہ باقاعدہ جوا بن چکے ہیں۔ مختلف ایپس اور گیمز نوجوانوں کو لالچ دیتی ہیں کہ اگر پیسہ لگاؤ گے تو جیت سکتے ہو، آگے بڑھ سکتے ہو، دوسروں پر سبقت لے جا سکتے ہو۔ یہی لالچ نوجوانوں کو اپنی جیب، والدین کی کمائی، حتیٰ کہ قرض تک لے جاتا ہے۔ کئی نوجوان اپنی فیس، گھر کے اخراجات یا حتیٰ کہ چوری کیے گئے پیسے تک ان گیمز میں جھونک دیتے ہیں، اس امید میں کہ اگلی بار جیت ضرور ہوگی۔
جب نقصان بڑھتا ہے تو ذہنی دباؤ بھی بڑھتا ہے۔ نوجوان شرمندگی، خوف اور ناکامی کے احساس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ والدین سے بات نہیں کر پاتا، دوستوں سے نظریں چراتا ہے، اور تنہائی اختیار کر لیتا ہے۔ یہی تنہائی رفتہ رفتہ ڈپریشن میں بدل جاتی ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ذہنی صحت پر بات کرنا آج بھی معیوب سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے نوجوان اندر ہی اندر ٹوٹ جاتا ہے۔
کئی واقعات ایسے سامنے آ چکے ہیں جہاں نوجوانوں نے آن لائن گیمز میں ہارنے کے بعد خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھائے۔ یہ صرف ایک فرد کی موت نہیں ہوتی، بلکہ پورے خاندان کی زندگی برباد ہو جاتی ہے۔ ماں باپ ساری عمر اس سوال کے ساتھ جیتے ہیں کہ آخر ہم سے کیا غلطی ہوئی؟ وہ گھر جو کبھی قہقہوں سے گونجتا تھا، سناٹے کا شکار ہو جاتا ہے۔
صرف خودکشیاں ہی نہیں، بلکہ بہت سے نوجوان مالی تباہی کے بعد سڑکوں پر آ گئے ہیں۔ تعلیم چھوٹ گئی، روزگار نہ ملا، گھر والوں نے منہ موڑ لیا، اور یوں ایک ہنستا کھیلتا نوجوان فٹ پاتھ پر زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا۔ یہ سب کسی جنگ یا قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی غفلت اور بے حسی کا انجام ہے۔
وقت کا ضیاع بھی اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ہے۔ نوجوانی وہ عمر ہوتی ہے جس میں انسان اپنے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔ یہی وقت تعلیم، ہنر سیکھنے، کردار سازی اور خوابوں کی تکمیل کے لیے سب سے قیمتی ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کا نوجوان گھنٹوں موبائل اسکرین کے سامنے بیٹھ کر ایک ایسی دنیا میں مصروف ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ وہ کھیل اس کے جسم کو صحت مند بناتے ہیں، نہ ذہن کو مضبوط، بلکہ اسے سست، چڑچڑا اور بے مقصد بنا دیتے ہیں۔
خاندان کا کردار اس معاملے میں نہایت اہم ہے۔ والدین اکثر یا تو حد سے زیادہ سختی کرتے ہیں یا مکمل لاپرواہی برتتے ہیں۔ دونوں رویے نقصان دہ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اپنے بچوں کے دوست بنیں، ان سے بات کریں، ان کے مسائل سنیں اور بروقت رہنمائی فراہم کریں۔ صرف ڈانٹ ڈپٹ یا موبائل چھین لینا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اس سے بغاوت اور ضد مزید بڑھ سکتی ہے۔
ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ ایسے آن لائن گیمز جو جوا، تشدد یا مالی نقصان کو فروغ دیتے ہیں، ان پر سخت پابندی ہونی چاہیے۔ اسکولوں اور کالجوں میں آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے تاکہ نوجوانوں کو ان نقصانات کا شعور دیا جا سکے۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے اجاگر کرے، نہ کہ صرف تفریح کے طور پر پیش کرے۔
سب سے بڑھ کر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نوجوان ہمارا مسئلہ نہیں، بلکہ ہماری امید ہیں۔ اگر ہم نے آج ان کی رہنمائی نہ کی، ان کی حفاظت نہ کی، تو کل ہم ایک کھوئی ہوئی نسل کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ آن لائن گیمز بذاتِ خود برے نہیں، لیکن جب وہ زندگی پر حاوی ہو جائیں، تو زہر بن جاتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خاموش تماشائی بننے کے بجائے عملی قدم اٹھائیں۔ والدین، اساتذہ، علما، میڈیا اور حکومت سب کو مل کر اس خاموش المیے کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ ہر وہ نوجوان جو آج اس دلدل میں پھنسا ہوا ہے، ہمارے لیے ایک پکار ہے، ایک سوال ہے، اور ایک ذمہ داری ہے۔
اگر ہم نے آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا، تو کل بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ نوجوانوں کو بچانا دراصل اپنے مستقبل کو بچانا ہے، اور یہ فرض ہم سب پر عائد ہوتا ہے۔
column in urdu, Youth Suffer Financial Losses in Online Games
سرونگو یرکین ٹیم کی شاندار فتح، اسکولی اور کے کے الیون کو شکست دے کر علاقہ برالدو میں نام روشن کیا




