خزاں کے زرد پتے ۔ منظور نظر
شاخِ نخلِ تمنا سے گرتے ہوئے، اپنی ضعیفی پر گریہ کناں اور آنکھوں سے اشکوں کے موتی بہاتے ہوئے جب خزاں کے زرد پتے زمین کو گلے لگاتے ہیں، تو اس وقت وہ چیخ چیخ کر بندگانِ خدا کو اپنے انجام کے بارے میں سوچنے کی دعوت دیتے ہیں۔
موسمِ بہار جب اپنی مہربانیاں لے کر نمودار ہوتا ہے، تو ہر طرف خوشیوں کا ایک عجب احساس ہوتا ہے۔ ایسا لگنے لگتا ہے جیسے ہر چیز میں جان آگئی ہو اور بہت سی چیزیں دنیا میں اپنی زندگی کے لیے تگ و دو کرتی نظر آتی ہیں۔ کہیں خاروں کے تحفظ میں کھلتی کلیاں، کہیں زمین اپنی گود میں بنی نوع انسان کے لیے پنہاں کیے ہوئے نعمات، تو کہیں پہاڑوں کے دامن سے نکلتے یہ ندی نالے نظر آتے ہیں جو وقت کی طرح رواں دواں ہوتے ہیں۔ کہیں درختوں کی مسرور شاخوں پر ننھے ننھے پتے اگ آتے ہیں اور اپنی زندگی کی ابتدائی سانسیں لیتے محسوس ہوتے ہیں۔
یہی پتے حضرتِ انسان کو دنیا کی بے ثباتی، دارِ فانی ہونے اور حقیقتِ حیات کے ساتھ ساتھ زندگی کا ایک انوکھا درس دیتے ہیں۔ ابتدائی ایام میں جب یہ نکلتے ہیں، تو بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے آغازِ سفر میں ہی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض زندگی کے مختلف موڑوں پر اپنے عزیزوں کو چھوڑ جاتے ہیں، لیکن جو بادِ صرصر کی بے رحم لہروں سے نبرد آزما ہوتے ہوئے ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کرنے میں کامیاب رہتے ہیں، وہی رونقِ جہاں میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان کے ہونے سے دنیا کی رونق دوبالا ہوتی ہے، ان کا وجود آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث بنتا ہے اور ان ہی سے زندگی خوشگوار اور پُرسکون نظر آتی ہے۔ ان ہی کے آنگن میں پرندے اپنے آشیانے بناتے ہیں اور ان کے ننھے بچے زندگی شروع کرتے ہیں۔ ان کے دم سے گلستانِ جہاں خلدِ بریں سا محسوس ہونے لگتا ہے اور ان ہی سے دنیا میں موسمِ بہار کی خوشنما فضا کا احساس ہوتا ہے۔
یہی پتے بہار میں اپنے شباب کے حسین لمحات اس دنیائے بے ثبات میں گزار کر، جب گردشِ ایام اپنا رخ خزاں کی طرف موڑتی ہے، تو اپنے اندر کمزوری محسوس کرنے لگتے ہیں۔ جو کسی روز نہایت حسین و جمیل ہوتے تھے، اب ان کے چہروں پر جھریاں پڑتی نظر آتی ہیں۔ جو کبھی بادِ صرصر کی تیز اور بے رحم لہروں سے مقابلہ کرنے کے بعد اپنی طاقت اور استقامت کا ڈھنڈورا پیٹتے تھے، وہی پتے اب بادِ نسیم کے چلنے سے بھی خوف کھاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ جب خزاں اپنا قدم جمانے لگتی ہے، تو ان کے اندر خوف و ہراس بڑھ جاتا ہے اور وہ سوچنے لگتے ہیں کہ “آج نہیں تو کل”۔۔۔ یعنی اب ان کی زندگی کے آخری ایام آ پہنچے ہیں۔
ڈرتے سہمتے ہوئے جب وہ اپنی آخری سانسیں لے رہے ہوتے ہیں اور کسی شام جب سورج کی کرنیں اپنی مہربانیاں سمیٹ چکی ہوتی ہیں، انہیں حکمِ رخصت موصول ہوتا ہے۔ پھر نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے گلشن اور اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر ایک ایک کر کے جانا پڑتا ہے۔ جب ان کی زندگی کے دن پورے ہو جاتے ہیں، تو وہ جاتے ہوئے اشرف المخلوقات سے چیخ چیخ کر کہتے ہیں:
“میں بھی کبھی تمہاری طرح تندرست و توانا تھا، مجھے بھی اپنی طاقت پر بہت غرور تھا، میں بھی کسی روز تمہاری طرح حسن و جمال کا پیکر تھا۔ مجھ سے ہی رونقِ جہاں تھی، لیکن حیف صد حیف! نہ میرا حسن رہا، نہ طاقت اور نہ ہی وہ شباب رہا۔ یہ دنیا بے ثبات ہے، یہ کسی کی نہیں! اب بھی ہوش کے ناخن لو اور اپنی آخرت کی فکر کرو، کیونکہ میری طرح تمہارا یہ حسن ہمیشہ نہیں رہے گا، نہ تم ہمیشہ جوان رہو گے اور نہ ہی یہ دنیا تمہارا جائے قرار ہے۔ اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے اپنے سفر کا زادِ راہ ابھی سے تیار کرو تاکہ کسی مشکل کا سامنا کرنا نہ پڑے۔ اس کارزارِ حیات میں وہی لوگ کامیاب ہوں گے جو وقت پر اپنے سفر کا اہتمام کریں اور ساز و سامان تیار رکھیں۔”
Column in Urdu Yellow Leaves of Autumn




