وقتِ یزید. نجمہ زہراء
کچھ انسانوں کے بارے میں خدا نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے: “اندھے، بہرے، گونگے” یعنی وہ لوگ،جو کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہتے، اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔
آج کل جو پُرتشدد واقعات جنم لے رہے ہیں، ان پر میں، گلگت بلتستان کی بیٹی ہونے کے ناتے، یہ سوال پوچھنا چاہتی ہوں: آپ لوگ ہوتے کون ہیں جو یہاں ہمارے علاقے میں آ کر فساد پھیلاتے ہیں؟ کیا آپ لوگ—جو باہر سے یہاں آ کر قابض ہوئے ہیں اور فتنہ پھیلا رہے ہیں—میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ آپ کے کن کن گھروں نے اس علاقے کو آزاد کرانے کے لیےکتنی قربانیاں دی ہیں؟ یا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ آج تک آپ نے گلگت بلتستان کو “متنازع علاقہ” کے سوا کوئی اور نام یا حق دیا ہو؟ ان سب کا جواب یقیناً “نہیں” ہے۔ تو پھر آپ لوگ کون ہوتے ہیں یہاں آ کر ہمارے نوجوانوں کو مروانے والے، ناحق گرفتار کرنے والے؟
یہ علاقہ ہمارے باپ دادا نے ہندو (ڈوگرہ) سے اس لیے نہیں چھینا تھا کہ آپ لوگ یہاں قبضہ کر کے ہمیں ہمارے مذہبی کام، رسوم و رواج ادا کرنے سے دور رکھیں۔ اگر آپ لوگ اسرائیل اور امریکہ کے پیروکار اور مددگار ہیں تو وہاں جا کر ان کے پیر چاٹیں؛ یہاں آپ کو ہمیں تنگ کرنے کا کوئی حق نہیں۔
اپنے چند حرام خور، رشوت خور لوگوں کو بھیج کر ہمارے نوجوانوں کو گرفتار کروا کر، لوگوں کو شہید کر کے اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم مظلوم کے حق میں آواز بھی نہیں اٹھائیں گے، تو یہ آپ کی سب سے بڑی بھول ہے۔ ہم علی والے ہیں، ہم حسینی ہیں؛ تاریخ گواہ ہے کہ علی والے کبھی میدان سے بھاگے نہیں—بھگاتے ہیں۔ موت ہمارے لیے سعادت ہے اور فتح ہماری وراثت۔ جب تک ہمارے جسم میں جان ہے، ہم حق کے لیے بولتے رہیں گے؛ آپ لوگ ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ چند گرفتاریوں سے ہم ڈرنے والی قوم نہیں۔
نبھا رہے ہیں اکیلے ہی رسمِ شبّیری،
نہ کوفیوں سے توقع، نہ درِ یزید کا ہے…
از قلم نجمہ زہراء
column in urdu Yazeed’s Era
افسانہ: وعدہ تحریر: آمینہ یونس،بلتستانی




