column in urdu Remembrance 0

یادِ رفتگاں۔رفاقتوں کی خوشبو. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
زندگی کو لوگ دریا کہتے ہیں، مگر میرے نزدیک یہ ایک قافلہ ہے، ایسا قافلہ جس میں ہر چہرہ ایک چراغ، ہر آواز ایک ساز، اور ہر دعا سایۂ رحمت بن کر ساتھ چلتی ہے۔ تحقیق کے سنجیدہ اور کبھی کبھی خشک راستوں پر سفر کرتے ہوئے انسان تھکن سے ضرور آشنا ہوتا ہے، مگر خوش نصیب وہی ہے جس کے ساتھ ایسے مخلص ہمسفر ہوں جو اس تھکن کو مسکراہٹ میں بدل دیں۔ جب میں ماضی کے اوراق پلٹتی ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ میرے ہر قدم کے پیچھے کسی نہ کسی محبت کرنے والی ہستی کی دعا، خلوص اور حوصلہ شامل رہا ہے۔ یہی رفاقتیں زندگی کو محض سفر نہیں رہنے دیتیں بلکہ اسے یادوں کی مہکتی بستی بنا دیتی ہیں۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

اس بستیٔ یاد کے دروازے پر سب سے پہلے میم صغریٰ صاحبہ کا روشن اور شفقت بھرا چہرہ نظر آتا ہے۔ وہ صرف ایک استاد نہیں بلکہ رہنمائی کا ایسا چراغ تھیں جس نے میرے راستوں کو منور رکھا۔ ایم فل میں گولڈ میڈل ملنے پر جب انہوں نے محبت بھری مسکراہٹ کے ساتھ مجھے “ڈاکٹر یاسمین” کہہ کر مخاطب کیا تو گویا یقین کا تاج میرے سر پر رکھ دیا۔ سچ ہے، جس کے سر پر استاد کا ہاتھ ہو، اسے زمانہ کیا گرائے گا۔ ان کا اعتماد میرے لیے وہ دعا ثابت ہوا جس نے مجھے ڈاکٹریٹ کی منزل تک پہنچا دیا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰالَمِیْنَ

تبسم۔۔۔یہ نام نہیں، میری زندگی کی محبتوں سے معمور مسکراہٹ ہے۔ وہ میری رفاقتوں کے گلستان کا ایسا پھول ہے جس کی خوشبو دل کے نہاں خانوں تک اتر جاتی ہے۔ وہ میری خوشیوں میں شریک اور میرے دکھوں کی رازدار ہے۔ زندگی کے کٹھن لمحات میں اس کا ساتھ اندھیری رات میں روشن چراغ کے مانند محسوس ہوتا ہے۔ اس کی بے لوث محبت اس بات کی گواہ ہے کہ سچی دوستی لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ دل کی دھڑکنوں میں بسی ہوتی ہے۔

ثناء۔۔۔ جس کا ذکر ایک نرم اور خوشگوار لہر بن کر دل میں اٹھتا ہے۔ اس کی دوستی چائے میں گھلی چینی کے مانند ہے، خاموش مگر ہر لمحے کو خوشگوار بنانے والی۔ اس کے قہقہے تھکے لمحوں میں تازگی بھر دیتے ہیں اور اس کی موجودگی یوں لگتی ہے جیسے کسی زخم پر نرمی سے مرہم رکھ دیا گیا ہو۔

ثمینہ ناز۔۔۔جس کا نام لیتے ہی دل فخر سے بھر جاتا ہے۔ وہ واقعی میرے لیے باعثِ ناز ہے۔ اس کی رفاقت ایک قیمتی خزانے کے مانند ہے، جسے میں نے دل کے محفوظ ترین گوشے میں سنبھال رکھا ہے۔

شائستہ رضوانہ۔۔۔ کا شائستگی میں ڈوبا لہجہ میری کامیابیوں پر اس کی عنایت مجھے اپنی خوشیوں سے بھی بڑھ کر عزیز لگتی ہے۔

شبانہ۔۔۔کی دوستی ٹھنڈی چھاؤں جیسی ہے، اس کی باتوں میں وزن بھی ہے اور چاشنی بھی۔ اس کی رفاقت میں وقار اور اپنائیت کا حسین امتزاج ہے جو دل کو سکون بخشتا ہے۔

سعدیہ۔۔۔ کی رفاقت میرے دل کے بہت قریب ہے۔ وہ ایک ایسی خوشبو ہے جو میری زندگی کے ہر صفحے میں خاموشی سے بسی ہوئی ہے۔ اس کی مسکراہٹ سنجیدہ لمحوں میں بھی خوشی کی کرن بن جاتی ہے اور اس کا خلوص کھرے سونے کے مانند ہے۔

پروین اعجاز، جس کا اعزاز مدبرانہ قیادت، لہجے کی سخاوت، مزاج میں قناعت اور گفتگو میں شجاعت دل و دماغ کا احاطہ کیے رہتی ہے۔

فہمیدہ۔۔۔ جس کی دانائی اور فراست نے ہمیشہ میرے ذہن کے دریچے وا کیے۔ اس کی رفاقت میں میں نے خوشیوں کے رنگ بھی دیکھے اور آزمائشوں کی دھوپ بھی سہی۔ وہ واقعی ان لوگوں میں سے ہے جو دکھ کے لمحوں میں بھی ساتھ نبھاتے ہیں۔

نزہت کی عنایتیں خاموش مگر اثر انگیز ہیں۔ وہ شور نہیں کرتی مگر اس کا خلوص دل میں اتر جاتا ہے۔ اس کی شخصیت سادگی اور محبت کا حسین امتزاج ہے۔

مس فاطمہ۔۔۔ خواہ سات سمندر پار ہوں، مگر ان کی دعاؤں نے فاصلوں کو کبھی حائل نہیں ہونے دیا۔ ان کی محبت ہمیشہ میرے لیے حوصلے کا چراغ بنی رہی۔

سمانہ۔۔۔ کی سنجیدگی اور وقار اپنی مثال آپ ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کی خاموشی بھی ایک اثر رکھتی ہے اور موجودگی خود ایک کشش بن جاتی ہے۔

میرے تخلیقی سفر میں شاہدہ لطیف کی حوصلہ افزائی بھی ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ اس کے چند سچے جملوں نے ہمیشہ میرے قلم کو نئی توانائی عطا کی، واقعی کبھی مہربانوں کے لفظ بھی چراغ بن جاتے ہیں۔

اب اگر میں اپنی رفاقتوں کے اس گلستان میں ایک خاص خوشبو کا ذکر نہ کروں تو یہ داستان ادھوری رہ جائے گی اور وہ ہے عذرا پروین۔ عذرا پروین محض ایک نام نہیں بلکہ محبت، خلوص اور نفاست کا حسین امتزاج ہے۔

فرخندہ خلوص و وقار کا پیکر، بلا امتیاز ناہیدہ اعجاز جو دلنشیں لہجے سے دلوں پہ گھات ڈالتی ہے۔

ناہید کوثر کی شخصیت میں ایک سحرِ نسیم کی سی لطافت ہے۔۔نرم، مہکی ہوئی اور دل کو چھو لینے والی۔

ثمینہ خانم۔۔۔ کی باتوں میں اپنائیت کا ایسا رنگ ہے جو دل کے نہاں گوشوں کو روشن کر دیتا ہے۔

فردوس۔۔۔ ان لوگوں میں سے ہے جن کی موجودگی محفل کو وقار بھی دیتی ہے اور دل کو سکون بھی۔

فریحہ مجاہد۔۔۔ کی محبتیں واقعی لائقِ تحسین ہیں، وہ محبتیں جو بنا کسی صلے کے دی جاتی ہیں، جو بنا کسی اظہار کے دل میں گھر کر لیتی ہیں، جن کا خلوص گزرتے وقت کے ساتھ مزید نکھر کر سامنے آتا ہے

ہاجرہ کوثر۔۔۔شگفتہ و شاداب،باغ بہار شخصیت، زندگی کے نشیب و فراز میں اس کا ساتھ ایک نرم ہوا کے جھونکے کے مانند محسوس ہوتا ہے، جو تھکے ہوئے دل کو تازگی بخشتا ہے۔

طاہرہ لطیف۔۔۔ جو دوستی کو صرف نبھاتی نہیں بلکہ اسے ایک خوبصورت احساس بنا دیتی ہے، ایسا احساس جو دیر تک دل میں مہکتا رہتا ہے۔

صدف خان واقعی محفل کی جان ہیں، اس کی مسکراہٹ سنجیدہ لمحوں میں بھی خوشیوں کی روشنی بکھیر دیتی ہے۔

فائزہ کا ساتھ زندگی کی تلخیوں میں نرم ہوا کا جھونکا ثابت ہوتا ہے۔

بشریٰ کوثر تدبر و تفکر کا کوہِ گراں، جس کے لہجے کی مٹھاس دل کے زخموں پر مرہم رکھ دیتی ہے۔

ملیحہ اپنے نام کی طرح ملاحت سے گندھی، نرم رو اور خوشبو بھری شخصیت کی حامل ہے۔

عاصمہ عصمت و عفت کا پیکر ہے، بے لوث اور پاکیزہ۔۔ احساس جو دل میں جاں گزیں ہو جاتا ہے۔

عائشہ بتول وفاؤں کی تمثیل، محبتوں کے نزول کی ایک عملی تصویر جو حیاتِ زیست کی کٹھن راہوں میں امیدوں کے چراغ روشن کرتی ہے۔

ساجدہ سنجیدگی کے لبادے میں چھپا خلوص و وفا کا دریا ہے۔

ثوبیہ دانائی اور بینائی کا حسین مرقع، مشکل وقت میں حوصلہ دینے والا ایک مضبوط سہارا۔

شاہدہ تسنیم حکمت و دانائی کا خاموش بہتا دریا، صدف غفور محبتوں سے معمور۔

عائشہ افتخار کی نرمی اور صاعقہ تبسم کی محبتوں کی گرمی مل کر میری رفاقتوں کے اس گلستان کو مزید چار چاند لگاتی ہیں۔واقعی یہ سب رشتے زندگی کا وہ سرمایہ ہیں جو نہ صرف یادوں کو زندگی دیتے ہیں بلکہ ہر آنے والے لمحے کو شاداب و فرحاں بھی رکھتے ہیں۔

یہ سب رفقا اپنی اپنی جگہ چاند کے ٹکڑے ہیں۔ کسی کی خاموشی میں دانائی ہے، کسی کی شوخی میں زندگی، اور کسی کی دعا میں رحمت کا سایہ۔ زندگی اگر ایک کتاب ہے تو یہ سب نام اس کے سنہری ابواب کے عنوان ہیں۔

آج جب میں کسی کامیابی کی منزل پر کھڑی ہوتی ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرے اطراف ان سب کی دعاؤں کا حصار ہے۔ یادِ رفتگاں محض یاد نہیں بلکہ سرمایۂ حیات ہے، ایسا خزانہ جو وقت کے ساتھ اور قیمتی ہوتا جاتا ہے۔

اور میں، یاسمین اختر طوبیٰ، اپنے اس قافلے، ان محبتوں اور ان رفاقتوں پر دل کی گہرائیوں سے سپاس گزار ہوں اور بار گاہِ ایزدی میں سجدہ شکر بجا لاتی ہوں۔

اللہ کرے رفاقتوں اور محبتوں کے یہ چراغ ہمیشہ روشن رہیں، کیونکہ واقعی،
“دوستی وہ دیا ہے جو آندھیوں میں بھی بجھتا نہیں۔”

column in urdu Remembrance

نامہ.بنام غالب.برجواب نامۂ یاسمین اختر طوبیٰ. ۔ڈاکٹر ارشاد خان

لوڈ شیڈنگ ۔روزے ختم ہونے والے مگر اندھیرا باقی . یاسر دانیال صابری

شگر وزیراعظم مفت سولر سکیم برائے گلگت بلتستان کے تحت ضلع شگر میں ڈیجیٹل قرعہ اندازی مکمل، 779 درخواست گزار کامیاب قرار پائے

50% LikesVS
50% Dislikes

یادِ رفتگاں۔رفاقتوں کی خوشبو. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں