نامہ.بنام غالب.برجواب نامۂ یاسمین اختر طوبیٰ. ۔ڈاکٹر ارشاد خان
چچا غالب..! کیا خط لکھا ہے اس پری وش کے نام جو سدا آپ کے گن گاتی ہیں، اردو سے جسے والہانہ پیار ہے، جس کے قلم کا لوہا ہر کس و ناکس مان رہا ہے، اور جس کا رشتہ ہر آن تحریک سے جڑا ہوا ہے۔ وہ تو تحریک کے سوئے ہوئے اراکین کا غم اپنے سینے میں چھپائے بیٹھی تھی، پھر یہ اپنے غم کی خبر آپ تک کیسے پہنچ گئی؟ تعجب ہے! کیا عالمِ بالا میں بھی آپ کے ہرکارے دوڑتے پھرتے ہیں جو عالمِ فانی کی خبریں آپ تک پہنچا دیتے ہیں؟
چچا، دل برداشتہ نہ ہوں۔ بھلا چھوٹے خان کی بے لوث خدمات کیا یوں ہی رائیگاں جائیں گی؟ کیا یاسمین طوبیٰ کی انتھک محنت اور اردو ادب سے الفت پر پانی پھر جائے گا؟ نہیں چچا… نہیں! ہاں، آپ کے خط سے یہ ضرور ہوا کہ جن اراکین کا ایک عرصے سے کچھ اتا پتا نہیں تھا، وہ بزم میں حاضر ہوئے… جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں۔
غالب صاحب! آپ کو کیا بتائیں، تحریکِ توازن سے کتنی یادیں جڑی ہیں۔ وہ محفلیں یاد آتی ہیں، وہ یادگار پروگرام یاد آتے ہیں تو دل پر آرے چلتے ہیں۔ تنقید کی بزم سجتی اور مسعود حساس صاحب کی مخملی آواز میں نقد و نظر کی محفل میں روشنی سی پھیل جاتی۔ کیا کیا عناوین پر پروگرام ترتیب دیے گئے! مگر جیسا کہ کہا جاتا ہے: ہر کمال را زوال… من کل فان… اللہ باقی۔
چچا غالب! یہ گروپ جو سوشل میڈیا پر غالب تھا، اسی تحریکی گروپ نے ای میگزین جاری کر کے کتنے تشنہ لبوں کی آبیاری کی۔ نوآموز اور کہنہ مشق لکھاریوں کی تخلیقات جہاں جہاں اس جہاں میں اردو بولی جاتی ہے، پہنچتی تھیں۔ یک گونہ سکون بھی ہوتا کہ ہماری تحاریر ایک زمانہ پڑھ رہا ہے۔ توصیفی اسناد آج بھی معزز اراکین کے ڈرائنگ روم میں آویزاں ہیں۔
خیر، باقی یہ ہوا کہ آپ کی بانگِ درا سے گروپ کے احباب جاگ گئے۔ چاچو! بانگِ درا تو آپ کے بہت بعد اقبال نے شاہین بچوں کو جگانے کے لیے دی تھی، مگر آپ بھی کمال کرتے ہیں… اپنے اگلے پچھلے کی سب خبر رکھتے ہیں۔ تحریکِ توازن کے ساتھیوں کے چن چن کر نام لیے، جو اپنے نام سن سن کر جاگ گئے۔
ہاں تو غالب صاحب! آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ سلیم خان… عرف شیخو (معذرت، شیخی بگھارنے والا نہیں)… عرف چھوٹے خان سے ہوتے ہوئے چھوٹے سرکار تک کا سفر کرنے والے صاحب بہت کام کے آدمی ہیں۔ ویسے آپ بھی کام کے آدمی تھے، مگر آپ کو عشق نے نکما کر دیا! بس یوں سمجھیے کہ وہ ہر فن مولا ہیں اور ہر جا ان کا جلوہ ہے۔ اور یہ جو یاسمین صاحبہ ہیں، ایک بہترین نقاد بن کر ابھری ہیں۔ چچا! اگر تحریکِ توازن میں تنقیدی محفلیں ایک بار پھر سجنے لگیں تو نقد و نظر ان کی نذر۔
اور سنائیے… عالمِ بالا میں کیا چل رہا ہے؟ یہاں تو رمضان چل رہے ہیں، جو آپ پر خلجان طاری کر دیتے تھے اور آپ برملا کہہ دیتے تھے کہ “میری کوٹھری میں شیطان قید رہتا ہے۔” روزہ بہلانے کی بھی خوب کہی تھی۔ روزہ رکھتے نہیں تھے اور بڑے مزے سے کہتے: “حضور! ایک نہیں رکھا!” شوخی تو چچا آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ خود ہی اپنا مذاق اڑا دیتے:
کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
چچا! آپ کیا کیا تھے،اچھے نثار، بہترین شاعر، حیوانِ ظریف اور غضب کے ڈپلومیٹ۔ کیا یہ ڈپلومیسی عالمِ بالا میں بھی چل رہی ہے؟ لکھ بھیجیے۔ ہاں، خطوں کا زمانہ گیا… اب ای میل اور فی میل کا زمانہ ہے، اور آپ کی دونوں سے قربت ہے۔ سو اسی نمبر پر ای میل کر دیجیے۔
چچا…! چلتے چلتے یہ عرض کرتا چلوں کہ….یہ تو ماننا پڑے گا کہ….پری وش یاسمین طوبیٰ کی تحریر واقعی داد و تحسین کی مستحق ہے۔ واہ واہ! کیا دلنشیں اسلوب ہے، پرلطف، پرمزاح، جاندار اور شاندار۔ الفاظ کی نشست و برخاست یوں معلوم ہوتی ہے جیسے انگوٹھی میں نگینے جڑے ہوں اور جذبات کے آبگینے پوری آب و تاب سے چمک رہے ہوں۔ فن کی پختگی اور اظہار کی روانی قاری کو ابتدا سے انتہا تک اپنے سحر میں جکڑے رکھتی ہے۔بلاشبہ یہ کمالِ فن اور عروجِ اظہار ہے،..مجھے لگتا ہے آپ بھی قاٸل ہوگٸے ہوں..ہے نا..بھلے سے آپ نے کہا ہو..
ذکراس پری وش کا اورپھر بیاں اپنا
مگر..چچا..کسی شاعر نے پھولوں کی انجمن کی یاسمین اور تاروں کی انجمن کی اختر..کے لیے کہا ہے..
نطق کو سو ناز ہے تیرے لبِ اعجاز پر
محوِ حیرت ہے ثریا رفعتِ پرواز پر
.. خدا لگتی کہوں کہ ایسی دلآویز تحریر پڑھ کر بے اختیار دل چاہتا ہے کہ اس صاحبِ طرز قلم کی شاگردی اختیار کرلوں.!
_اور ہاں ! آپ بھی کہہ اٹھیں گے پری وش یاسمین طوبیٰ سے کہ اپنے اسلوبِ نگارش کے چند اسرار و رموز ہم جیسے .گو کہ ہر چند غالب!_کے گوش گزار کی کیے جاٸیں!!!
اردو ہے جس کی جان۔۔۔ڈاکٹر ارشاد خان
۸ مارچ ۲۰۲۶ء
column in urdu Letter in the Name of Ghalib
رحیم یار خان میں بے نظیر انکم سپورٹ سینٹر کی چھت گرنے سے 30 خواتین جاں بحق، 100 سے زائد خواتین زخمی
لوڈ شیڈنگ ۔روزے ختم ہونے والے مگر اندھیرا باقی . یاسر دانیال صابری




