یومِ یکجہتی کشمیر، کشمیری جدوجہد اور گلگت بلتستان کا کردار. جی ایم ایڈوکیٹ
پانچ فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کی روایت سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اگرچہ کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی روایت برصغیر میں 1931ء کی تحریک کے بعد سے موجود رہی، لیکن اس تحریک کا پس منظر سمجھنا ضروری ہے۔ 1931ء کی تحریک جموں و کشمیر میں ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت کے خلاف پہلی منظم عوامی سیاسی بیداری اور احتجاجی جدوجہد تھی۔ اس کا نقطۂ عروج 13 جولائی 1931ء کو سری نگر سینٹرل جیل کے باہر پیش آیا، جب ایک زیرِ سماعت مقدمے کے دوران احتجاج کرنے والے ہجوم پر ڈوگرہ فوج نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 22 کشمیری مسلمان جاں بحق ہوئے۔ یہ واقعہ کشمیری تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، اور اسی کے بعد ریاست میں منظم سیاسی جدوجہد، نمائندگی اور حقوق کی تحریک نے باقاعدہ شکل اختیار کی۔ 13 جولائی کو طویل عرصے تک کشمیری عوام یومِ شہداء کے طور پر یاد کرتے رہے۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ 1975ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری کو یومِ یکجہتی منانے کا اعلان کیا، تاہم 5 فروری کو بطور مستقل قومی دن منانے کا آغاز 1990ء میں ہوا۔ درحقیقت 5 فروری اسی لیے مخصوص کیا گیا کہ 1990ء میں اسی روز پاکستان میں کشمیری عوام کی جاری تحریکِ آزادی کے حق میں باقاعدہ ہڑتالیں، ریلیاں اور تقاریب منعقد ہوئیں۔ یہ دن کسی ایک مخصوص سانحے یا جنگ کی براہِ راست یادگار نہیں، بلکہ ایک سیاسی و عوامی اعلانِ یکجہتی کی علامت ہے، جسے بعد ازاں 2004ء میں سرکاری سطح پر قومی دن کی حیثیت دے دی گئی۔ اس تاریخی پس منظر سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دن محض جذباتی وابستگی کا اظہار نہیں بلکہ ایک مسلسل ریاستی اور عوامی بیانیے کا حصہ بن چکا ہے۔ تاہم ایک علمی سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ آیا یہ علامتی سیاست کشمیری عوام کی عملی خودمختاری میں تبدیل ہو سکی ہے یا نہیں۔ کشمیر کی جدوجہد سات دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے، جس کا باقاعدہ آغاز 1947ء کے بعد ہوا، جبکہ مسلح مزاحمت کا نمایاں مرحلہ 1989ء سے جاری ہے۔ مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی ذرائع کے اندازوں کے مطابق 1989ء سے اب تک دسیوں ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اعداد و شمار مختلف ہیں اور عموماً 40 ہزار سے 70 ہزار یا اس سے زائد تک بیان کیے جاتے ہیں۔ ہزاروں افراد جبری گمشدگیوں اور طویل قید کا شکار ہوئے، متعدد خواتین جنسی تشدد کا نشانہ بنیں اور بے شمار بچے یتیم ہوئے۔ پاک بھارت کے درمیان کم از کم چار بڑی جنگیں (1948ء، 1965، 1999ء کارگل اور مئی 2025) اور مسلسل سرحدی کشیدگی اسی تنازع کے تناظر میں ہوئیں۔ دونوں ممالک اپنے سالانہ بجٹ کا بڑا حصہ دفاع پر خرچ کرتے ہیں؛ بھارت اور پاکستان مجموعی طور پر اربوں ڈالر سالانہ دفاعی اخراجات میں صرف کرتے ہیں، جس کا ایک بڑا سبب باہمی تناؤ اور بالخصوص مسئلۂ کشمیر ہے۔ اس مسلسل کشیدگی نے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کیا بلکہ خطے کی معاشی و سماجی ترقی کو بھی شدید متاثر کیا ہے اور عالمی امن کو بھی دو نیوکلیئر ممالک کے درمیان کشیدگی بڑا سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے. کشمیر کا تنازع محض دو ریاستوں کے درمیان سرحدی اختلاف نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، حقِ خودارادیت اور نوآبادیاتی وراثت کے پیچیدہ سوالات کا مجموعہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1948ء اور 1949ء کی قراردادوں نے جموں و کشمیر کو ایک متنازع خطہ تسلیم کرتے ہوئے استصوابِ رائے کی اصولی توثیق کی اور کشمیری عوام کو فیصلہ سازی کا بنیادی فریق قرار دیا۔ لیکن سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ان قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہونا بین الاقوامی نظام کی ساختی کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔ جدید عالمی نظام، جو انسانی حقوق اور جمہوریت کا علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، کشمیر کے معاملے میں بڑی طاقتوں کے اسٹریٹجک مفادات کے سامنے اکثر غیر مؤثر دکھائی دیتا ہے۔ گلگت بلتستان اس تنازع کا محض جغرافیائی حاشیہ نہیں بلکہ اس کا ایک اہم جز ہے۔ 1947ء میں یہاں کے عوام نے ڈوگرہ راج کے خلاف بغاوت کر کے خطے کو آزاد کرایا، مگر بعد ازاں اسے انتظامی طور پر پاکستان کے زیرِ انتظام رکھا گیا اور اس کی آئینی حیثیت کا سوال طویل عرصے سے غیر یقینی کا شکار ہے۔ خطے کی جغرافیائی اہمیت چین، بھارت، افغانستان اور وسطی ایشیا سے قربت اسے عالمی طاقتوں کی نظر میں غیر معمولی اسٹریٹجک قدر عطا کرتی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا اہم حصہ اسی خطے سے گزرتا ہے، جبکہ پن بجلی، آبی وسائل اور خاص کر بے پناہ معدنیات کے زخائر اسے معاشی اعتبار سے بھی اہم بناتے ہیں۔ عالمی سیاست میں بڑی طاقتیں کسی خطے میں اثرورسوخ بڑھانے سے قبل چند عناصر کا جائزہ لیتی ہیں معاشی محرومی، ناانصافی، سیاسی شمولیت کا فقدان، داخلی تقسیم اور قدرتی وسائل کی فراوانی۔ گلگت بلتستان میں یہ عوامل کسی نہ کسی حد تک موجود ہیں، جس سے احساسِ محرومی جنم لیتا ہے۔ اس تناظر میں مسئلۂ کشمیر کے حساس اور بین الاقوامی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کو ایک واضح مگر عبوری آئینی حیثیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے وگرنہ عالمی طاقتیں یہاں اپنا اثر رسوخ قائم کرنے کیلئے حالات کا رخ کہیں اور موڈ لیں گے، پاکستان اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے ایک عبوری آئینی سیٹ اپ فراہم کر سکتا ہے جو ایک طرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور متنازعہ حیثیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو اور دوسری طرف وہاں کے عوام کو بنیادی آئینی حقوق، پارلیمانی نمائندگی، عدالتی تحفظ اور مالی خودمختاری دے۔ یہ اقدام نہ صرف مقامی احساسِ محرومی کم کرے گا بلکہ پاکستان کے مؤقف کو بھی تقویت دے گا کہ وہ زیرِ انتظام علاقوں میں جمہوری اور آئینی عمل کو فروغ دے رہا ہے، جبکہ حتمی فیصلہ کشمیری عوام کی مرضی سے مشروط رہے گا۔ یومِ یکجہتی کشمیر کی حقیقی معنویت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب یہ محض ایک علامتی دن نہ رہے بلکہ ایک جامع پالیسی، داخلی اصلاحات اور کشمیری عوام کی حقیقی شمولیت کی عملی صورت اختیار کرے۔ انصاف، آئینی وضاحت اور علاقائی استحکام ہی وہ راستہ ہے جس سے نہ صرف کشمیر بلکہ پورا جنوبی ایشیا پائیدار امن کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ مختصراً، گلگت بلتستان کی عوام کو مسئلۂ کشمیر کے حل کے تناظر میں جذباتی نعروں کے بجائے فکری، آئینی اور سفارتی شعور پر مبنی کردار ادا کرنا چاہیے۔ داخلی وحدت، سماجی ہم آہنگی اور مشترکہ علاقائی بیانیہ ہی ایک مضبوط اور مؤثر آواز کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ تحقیق، مکالمہ اور پرامن آئینی جدوجہد کے ذریعے گلگت بلتستان نہ صرف اپنے حقوق کا مؤثر داعی بن سکتا ہے بلکہ مسئلۂ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل میں ایک مثبت اور تعمیری کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔
جی ایم ایڈوکیٹ
column in urdu Kashmir Solidarity Day
دکانداروں نے گاہکوں کو باہر نکلنے سے روکا، سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات میں اہم انکشافات




