گلگت بلتستان کی اراضیات, مغل و ڈوگرا راج سے لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025 تک تاریخی و قانونی جائزہ . جی ایم ایڈوکیٹ
دوسری قسط (بندوبست / Settlement)
گزشتہ سے پیوستہ، میرے کالم کی پہلی قسط میں مجموعی نظام (overall framework) کا تعارف اور ایک اجمالی خاکہ پیش کیا گیا تھا۔ اب ان شاء اللہ قسط وار اس کے مختلف اجزا اور جزیات پر تفصیل سے گفتگو کی جائے گی، اور یوں تقریباً ایک درجن موضوعات پر الگ الگ تحریریں سامنے آئیں گی۔ اس سلسلے میں آج کا موضوع “بندوبست” ہے، جسے انگریزی میں Settlement کہا جاتا ہے. بندوبستِ اراضی (Land Settlement) کا بنیادی مقصد زمین کی باقاعدہ پیمائش، پیداوار کا درست تخمینہ اور منصفانہ انداز میں محصولِ اراضی کا تعین تھا۔ اس نظام کے ذریعے ریاست کو مستقل اور یقینی آمدن فراہم کرنا، زمین کے رقبے اور کاشتکاروں کا تحریری ریکارڈ مرتب کرنا، محصول وصولی میں بدعنوانی اور من مانی کو کم کرنا، اور کسان و ریاست کے درمیان ایک واضح قانونی تعلق قائم کرنا مقصود تھا۔ بندوبست کے نتیجے میں زمین، فصل اور محصول سے متعلق ذمہ داریاں متعین ہوئیں، جس سے انتظامی نظم بہتر ہوا اور زرعی معیشت کو ایک حد تک استحکام ملا، اگرچہ اس کے اثرات ہر خطے میں یکساں نہیں تھے۔ ہندوستان میں پہلا منظم بندوبستِ اراضی عملی طور پر شیر شاہ سوری کے دور (1540ء تا 1545ء) میں نافذ ہوا، خصوصاً گنگا جمنا کے دوآبہ میں، جہاں زمین کی پیمائش، فصلوں کی درجہ بندی اور پیداوار کی بنیاد پر محصول مقرر کیا گیا۔ اگرچہ یہ ایک اصلاحی اقدام تھا، مگر شیر شاہ سوری کی وفات کے بعد یہ نظام دیرپا ثابت نہ ہو سکا۔ بعد ازاں اکبر اعظم نے اسی بنیاد پر اپنے وزیرِ مالیات راجہ ٹوڈرمل کے ذریعے 1580ء کے بعد دہسالا نظام نافذ کیا، جو تقریباً 1590ء تک مرحلہ وار مکمل ہوا۔ یہ برصغیر کا پہلا مکمل، تحریری اور سلطنت گیر بندوبست تھا، جس نے زمین اور ریونیو کے نظم کو ادارہ جاتی شکل دی۔ مغلوں نے 1586ء میں کشمیر کو سلطنت میں شامل کرنے کے بعد یہاں صوبہ داری نظام نافذ کیا، جس کے تحت زمین کی پیداوار، کاشتکار اور محصول کو تحریری شکل میں درج کیا گیا، اگرچہ یہ بندوبست مکمل اور مستقل نہ تھا۔ مغل دور میں کشمیر میں زبط اور جمع داری نظام کے تحت محصول وصول کیا جاتا رہا، جس سے بندوبستِ اراضی کی ابتدائی صورت سامنے آئی۔ افغان دور میں اسی نظام کو برقرار رکھا گیا، مگر اسے سخت، ظالمانہ اور ٹھیکہ داری پر مبنی بنا دیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ ریونیو حاصل کیا جا سکے۔ سکھ دور میں زمین کو واضح طور پر ریاستی ملکیت قرار دے کر کاشتکار کو محض حقِ کاشت تک محدود کر دیا گیا، اور بندوبست کو فوجی اخراجات پورے کرنے کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ اسی پس منظر میں خالصہ سرکار اراضیات کا تصور سامنے آتا ہے، جس کے تحت زمین کو براہِ راست ریاست کی ملکیت قرار دیا گیا اور عوام کو صرف حقِ کاشت یا استعمال دیا گیا، نہ کہ ملکیت۔ یہ تصور قدیم ایرانی۔اسلامی ریاستی روایت سے آیا، جسے دہلی سلطنت نے اپنایا اور مغلوں نے منظم کیا۔ مغل دور میں وہ زمینیں جن کا محصول براہِ راست شاہی خزانے میں جاتا تھا، ریاستی اراضیات کہلاتی تھیں، جبکہ باقی زمینیں جاگیروں میں دی جاتی تھیں۔ افغان اور سکھ ادوار میں یہی تصور مزید سخت اور جابرانہ صورت اختیار کر گیا۔ 1846ء کے معاہدۂ امرتسر کے بعد ڈوگرا راج میں بندوبستِ اراضی کو پہلی مرتبہ باقاعدہ، تحریری اور قانونی شکل دی گئی۔ اس دور میں زمین کی پیمائش، درجہ بندی، جمعبندی، انتقال اور ریونیو ریکارڈ متعارف کرائے گئے، تاہم یہ نظام زیادہ تر جموں اور کشمیر کے میدانی علاقوں تک محدود رہا۔ گلگت، بلتستان اور ملحقہ فرنٹیئر اضلاع میں بندوبستِ اراضی اگرچہ مکمل کلاسیکی صورت میں نافذ نہ ہو سکا، تاہم ریاستی احکامات اور اعلانات (Proclamations / Orders) کے ذریعے جاگیرداری اور اراضی کے حقوق کو بندوبست کے متبادل انتظامی فریم ورک میں منظم کیا گیا۔ اس ضمن میں سب سے اہم اعلان Proclamation No. 21 ہے، جو مہاراجہ جموں و کشمیر کی جانب سے انیسویں صدی کے اواخر یا بیسویں صدی کے آغاز میں جاری کیا گیا۔ اس اعلان کے ذریعے گلگت اور بلتستان کے فرنٹیئر اضلاع میں موجود جاگیرداروں اور مافیداروں (Muafidars) کو بعض محدود حقوق دیے گئے، جن میں چراگاہی فیس، مالیہ اور جرمانے وصول کرنے کا حق شامل تھا۔ یہ تمام حقوق دراصل بندوبست کے فقدان میں ریاستی کنٹرول برقرار رکھنے کا ایک انتظامی طریقہ تھے۔ اسی اعلان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ وفاداری یا ریاستی شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں جاگیر ریاست کو واپس منتقل ہو سکتی ہے، جس سے یہ اصول مستحکم ہوا کہ زمین کی اصل ملکیت ریاست (خالصہ سرکار) کے پاس ہی رہے گی، جبکہ جاگیردار اور کاشتکاروں کو محض مشروط قبضہ دیا گیا۔ بعد ازاں Proclamation No. 16 مؤرخہ 10 اپریل 1931ء کے ذریعے اہم ترامیم کی گئیں۔ اس اعلان کے تحت کاشتکاروں کو پہلی مرتبہ Haq-e-Assami (حقِ کاشت / حقِ آبادکاری) دیا گیا، یعنی وہ زمین جو لوگ خود آباد کریں، اس پر انہیں بطور کاشتکار تسلیم کیا جائے گا، بشرطیکہ ریاستی محصول ادا کیا جائے۔ یہ شق اس بات کی واضح علامت ہے کہ ریاست بندوبست کے بغیر بھی کاشت اور ملکیت کے درمیان قانونی فرق قائم رکھنا چاہتی تھی۔ یوں گلگت بلتستان میں بندوبست کے فقدان کے باعث یہ Proclamations عملاً Land Settlement Rules کا متبادل بن گئیں۔ ان احکامات کے ذریعے زمین کو باضابطہ طور پر خالصہ سرکار قرار دے کر جاگیردار، مافیدار اور کاشتکار کے حقوق کو الگ الگ اور محدود رکھا گیا، مگر ملکیت کا حق کسی صورت منتقل نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد ازاں 1887ء سے 1917ء تک ہونے والے محدود بندوبست کے باوجود بڑی تعداد میں زمینیں سرکاری ریکارڈ میں یا تو جاگیر یا خالصہ سرکار کے طور پر درج رہیں۔ ڈوگرا راج میں خالصہ سرکار کا تصور انتہائی مضبوط ہو گیا، جہاں مہاراجہ کو زمین کا مطلق مالک قرار دے کر زرعی زمین، چراگاہیں، جنگلات، پہاڑ اور بنجر علاقے سب ریاستی ملکیت مان لیے گئے۔ گلگت بلتستان میں چونکہ کبھی مکمل بندوبست نہیں ہوا، اس لیے تقریباً پوری زمین خالصہ سرکار تصور کی گئی۔ 1947ء کے بعد بھی یہ تصور بڑی حد تک برقرار رہا۔ اس کی ایک مثال ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 1972ء میں جاگیرداری نظام کا خاتمہ ہے، اور بعد ازاں Government of Pakistan, Northern Areas Administration کے Office Memorandum No. OSD-4(7)/79 مؤرخہ 04 اپریل 1987 کے ذریعے Northern Areas میں جاگیروں کے خاتمے کا دوبارہ فیصلہ کیا گیا۔ اس میمورنڈم میں ڈپٹی کمشنرز گلگت، سکردو اور دیامر کو ہدایت کی گئی کہ جاگیرداری کے خاتمے کے بعد فریقین کے حقوق کی نشاندہی کر کے رپورٹ پیش کی جائے، جو اس امر کا اعتراف تھا کہ بندوبستِ اراضی اب تک مکمل نہیں ہو سکا۔ یوں Proclamation No. 21، Proclamation No. 16 (1931)، Proclamation No. 33، 1972 میں جاگیرداری کا خاتمہ اور 1987 کا Office Memorandum عملاً بندوبست کے قائم مقام رہے۔ ان احکامات نے زمین کو ریاستی ملکیت میں رکھتے ہوئے جاگیردار اور کاشتکار کے حقوق کو محدود اور مشروط رکھا، جس کے اثرات آج بھی جمعبندی، انتقالات اور ملکیتی تنازعات میں نمایاں ہیں۔ اس کے علاوہ نوتوڑ رولز 1978 کے ذریعے تمام غیر آباد، چراگاہی اور پہاڑی زمینوں کو سرکاری اراضی قرار دیا گیا۔ یوں یہ تصور مغل دور سے لے کر عملی طور پر 2025 تک کسی نہ کسی صورت جاری رہا۔ اس نظام کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ صدیوں سے آباد اور زیرِ استعمال زمینوں پر بھی عوام کو قانونی مالک تسلیم نہیں کیا گیا۔ کسان اور مقامی برادریاں اپنی زمین پر صرف قابض یا کاشتکار کی حیثیت میں رہیں، جس سے نہ انہیں قانونی تحفظ ملا اور نہ ہی زمین پر آزادانہ تصرف کا حق۔ ریاست نے اسی بنیاد پر زمین ضبط کی، الاٹ کی یا بااثر طبقے کو منتقل کیا، جس کے نتیجے میں اراضی تنازعات، جعلی جمعبندیاں اور بدعنوانی نے جنم لیا۔ ڈوگرا دور کے انہی زرعی مظالم کے باعث 1889ء میں برطانوی حکومت کے دباؤ پر والٹر لارنس کو کشمیر بھیجا گیا، جس نے 1889ء سے 1895ء کے درمیان کشمیر ویلی میں پہلا باقاعدہ تحریری بندوبست کرایا۔ اس بندوبست کے تحت لگان کو پیداوار کے ایک تہائی تک محدود کیا گیا اور کسان کو بے دخلی سے تحفظ اور وراثتی کاشت کا حق دیا گیا، تاہم زمین کی ملکیت بدستور ریاست کے پاس رہی۔ گلگت بلتستان میں سب سے پہلا اہم بندوبستِ اراضی بلتستان میں 1887ء میں ابتدائی ریکارڈنگ سے شروع ہوا، جبکہ گلگت سب ڈویژن میں باقاعدہ Settlement 1906ء سے 1917ء تک مکمل ہوا۔ اس کے تحت کاشتکاروں کو Occupancy Rights دیے گئے، محصول کا منصفانہ تعین کیا گیا، کاربیگار کا نفاذ کم کیا گیا، Waste Lands کو Khalisa (State Land) درج کیا گیا، اور hereditary مگر non-alienable قابض حقوق تسلیم کیے گئے۔ اسی بنیاد پر گلگت سب ڈویژن کو Settled District سمجھا گیا، جبکہ Punial، Ghizer، Ishkoman، Yasin، Diamer، Hunza اور Nagar کو Unsettled Districts کے طور پر شمار کیا جاتا رہا۔ علاوہ ازیں 1996 میں تحصیل گلگت کا ریکارڈ جلنے کے بعد ایک جدید بندوبست کی گئی جو 2001 تک مکمل کی گئی اور استور منی مرگ کے علاقے میں 2010 میں بندوبست کرائی گئی. یہی تاریخی پس منظر ہے جس کی بنیاد پر موجودہ دور میں لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025 جیسے اقدامات کو صدیوں پرانے خالصہ سرکار اور نامکمل بندوبست کے استحصالی نظام کے خاتمے کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
جاری ہے…
(اگلی قسط: خالصہ سرکار)
جی ایم ایڈووکیٹ
column in urdu Gilgit-Baltistan Land Settlement Explained
“نیازِ احساس Emotional Need ، پارس کیانی ساہیوال، پاکستان
سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق مزید 3 افراد کی لاشوں کی شناخت کرلی گئی




