“نیازِ احساس Emotional Need ، پارس کیانی ساہیوال، پاکستان
نیاز احساس یا احساساتی ضرورت جسے
(Emotional Need)
بھی کہا جاتا ہے۔
انسانی رشتوں کی بنیاد میں ایک خفیہ مگر بنیادی ضرورت کے طور پر چھپی ہوئی ہے جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ صرف محبت یا توجہ کی معمولی خواہش نہیں، بلکہ ایک گہری نفسیاتی ضرورت ہے جو انسانی جذبات، ذہنی سکون، اور رشتوں کی مضبوطی سے جڑی ہے۔ بچے کی طرح بالغ انسان بھی اس ضرورت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ جب یہ پوری نہیں ہوتی تو دل میں خالی پن پیدا ہوتا ہے، اور زندگی کے ہر تعلق میں خلا محسوس ہوتا ہے۔
ہر فرد کے لیے تعلق، محبت، توجہ اور جذباتی تصدیق کی ضرورت ضروری ہے۔ اگر یہ فراہم نہ کی جائے، تو انسان اندر سے تنہا، کمزور اور بے سکون محسوس کرتا ہے۔ یہ خلا مال و دولت یا دنیاوی آرام سے کبھی نہیں بھرا جا سکتا۔ چاہے انسان کے پاس سب سہولتیں ہوں، مگر نیازِ احساس پوری نہ ہو تو اندرونی خالی پن اور بےچینی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے بعض لوگ زندگی میں ناکامی، جذباتی دباؤ یا ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
رشتوں میں جذبات کی تسکین نہ ہونا صرف فرد کو متاثر نہیں کرتا بلکہ تعلقات کی مضبوطی اور پائیداری پر بھی اثر ڈال دیتا ہے۔ والدین، بچے، شریک حیات، دوست یا استاد، ہر تعلق میں اگر دوسرے فرد کی جذباتی ضرورت کو نظرانداز کیا جائے، تو رشتے کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ والدین اگر بچوں کی ضرورت کو صرف جسمانی یا مالی حوالے تک محدود رکھیں، تو اعتماد اور جذباتی سکون متاثر ہوتا ہے۔ بالغ افراد میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے: شریک حیات یا دوست کی جذباتی تصدیق، توجہ اور احترام کی کمی رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے۔
انسان جب اپنے جذبات کی قدر محسوس کرتا ہے، اسے سننے والا ملتا ہے اور یہ یقین ہو کہ اس کی قدر کی جا رہی ہے، تو وہ زیادہ پرسکون، مثبت اور متوازن رویہ اختیار کرتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر یہ ضرورت رد یا نظر انداز کی جائے تو اندرونی خلا اور تنہائی بڑھتی ہے، جو معاشرتی تعلقات میں غلط فہمیاں اور فاصلے پیدا کرتی ہے۔
نیازِ احساس صرف محبت یا جذباتی تعلق تک محدود نہیں۔ یہ ہر انسانی جذبے، خواہش اور تعلق کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ چاہے یہ احترام کی خواہش ہو، تعریف کی ضرورت ہو، یا یہ کہ کوئی آپ کے جذبات کو سمجھے، یہ سب زندگی میں اہمیت رکھتے ہیں۔ رشتوں کی حقیقت تبھی مکمل ہوتی ہے جب ہم اس ضرورت کو پہچانیں اور پورا کریں۔
انسانی زندگی میں نیازِ احساس کو نظرانداز کرنا یا کم سمجھنا ایک خامی ہے جو نہ صرف فرد کو اندر سے خالی کرتی ہے بلکہ رشتوں کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ ہر تعلق اور انسانی تعامل اسی وقت مکمل اور صحت مند رہتا ہے جب اس میں جذبات کی تسکین اور احساس کی تصدیق شامل ہو۔ یہ وہ سرمایہ ہے جو دنیاوی کامیابی یا مال و دولت سے کبھی خریدا نہیں جا سکتا۔
جب ہم اپنے رشتوں میں جذبات کی قدر اور احساس کی اہمیت سمجھتے ہیں، تو نہ صرف رشتے مضبوط ہوتے ہیں بلکہ انسانیت بھی مکمل اور پرامن رہتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو زندگی کو معنی اور سکون سے بھر دیتا ہے، اور انسانی تعلقات کو وہ گہرائی دیتا ہے جس کے بغیر محبت یا رشتہ محض رسمی لفظ رہ جاتا ہے۔
نیاز احساس، (Emotional need) شدت سے چاہے جانے کی خواہش نہیں، بلکہ کسی بھی رشتے میں انسانی ذات کو پوری شدت سے تسلیم کیے جانے کا نام ہے
column in urdu, emotional need
سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق مزید 3 افراد کی لاشوں کی شناخت کرلی گئی
اول شعبان ولادت باسعادت بی بی زینب کبری ع، شبیر کمال




