قازقستان پاکستان معدنی معاہدہ، گلگت بلتستان کی آئینی و قانونی حیثیت ، جی ایم ایڈوکیٹ
گلگت بلتستان کے معدنی شعبے سے منسلک متعدد پیشہ ور افراد اور بعض دیگر افراد نے 6 فروری 2026 کو قازقستان پاکستان معدنی معاہدے کی قانونی حیثیت کے بارے میں مجھ سے رابطہ کیا۔ بدقسمتی سے میں اس معاہدے کی کوئی کاپی حاصل نہیں کر سکا، اس لیے اس کے مخصوص نکات/جزیات پر بات نہیں کر سکتا۔ تاہم چونکہ میں گلگت بلتستان کے معدنی وسائل اور آئینی و قانونی مسائل پر کثرت سے لکھتا رہتا ہوں، اس لیے میں اس کالم میں اس معاہدے کے آئینی و قانونی مضمرات کا ممکنہ جائزہ پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ کمی بیشی کے لیے پیشگی معذرت۔ قازقستان کی کمپنی Elaman Group کی جانب سے گلگت بلتستان میں Placer Gold کی کان کنی کے لیے بیس ملین امریکی ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کے اعلان کو محض ایک تجارتی پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ آئینی، وفاقی، انتظامی اور بین الاقوامی قانونی تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ پاکستان میں معدنی وسائل کی ملکیت اور قانون سازی کا بنیادی ڈھانچہ آئینِ پاکستان 1973 سے اخذ ہوتا ہے، خصوصاً آرٹیکل 172(3) کے تحت تیل اور قدرتی گیس صوبے اور وفاق کی مشترکہ اور مساوی ملکیت ہیں۔ چونکہ سونا، کاپر، Gemstones اور دیگر Hard Minerals وغیرہ Federal Legislative لسٹ میں شامل نہیں، اس لیے آرٹیکل 142 کے مطابق ان پر قانون سازی اور انتظامی اختیار اصولی طور پر صوبوں کو حاصل ہے۔ تاہم گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت مختلف ہے کیونکہ یہ آئینی صوبہ نہیں بلکہ ایک انتظامی اکائی ہے، جس کا نظم و نسق گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے تحت چلایا جاتا ہے۔ اس وجہ سے یہاں وفاقی حکومت کا کردار نسبتاً زیادہ نمایاں رہتا ہے، مگر اس کے باوجود معدنی لائسنسنگ، لیز، رائلٹی اور مقامی انتظامی معاملات میں گلگت بلتستان کی حکومت کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ چوتھے شیڈول کی Federal Legislative لسٹ کے متعلقہ اندراجات اس تقسیمِ اختیار کو مزید واضح کرتے ہیں؛ انٹری 3 خارجہ امور سے متعلق ہے، انٹری 27 درآمدات و برآمدات اور کسٹمز سے متعلق قانون سازی کو وفاقی اختیار قرار دیتی ہے، جبکہ انٹری 32 بین الاقوامی معاہدات اور کنونشنز کے نفاذ کا اختیار وفاق کو دیتی ہے۔ انہی آئینی بنیادوں پر بورڈ آف انویسٹمنٹ، وزارتِ خارجہ، وزارتِ تجارت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ آرٹیکل 70 کے تحت وفاقی پارلیمنٹ قانون سازی کرتی ہے، آرٹیکل 144 کے ذریعے صوبے قرارداد کے ذریعے مشترکہ قانون سازی کی اجازت دے سکتے ہیں، آرٹیکل 147 کے تحت انتظامی اختیارات وفاق کو منتقل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ آرٹیکل 149 مخصوص حالات میں وفاق کو صوبوں کو ہدایات دینے کا اختیار دیتا ہے۔ تاہم عام حالات میں کسی صوبے یا انتظامی اکائی کے معدنی وسائل پر براہِ راست وفاقی تصرف آئینی حدود کے تابع رہتا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے قانونی تحفظ کے لیے Foreign Private Investment (Promotion and Protection) Act 1976 اور Protection of Economic Reforms Act 1992 اہم حیثیت رکھتے ہیں، جن کے تحت سرمایہ کاروں کو منافع کی منتقلی، اثاثوں کے تحفظ اور نیشنلائزیشن سے بچاؤ کی ضمانت فراہم کی جاتی ہے۔ پاکستان نے قازقستان سمیت متعدد ممالک کے ساتھ دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے (Bilateral Investment Treaties – BITs) کیے ہیں، جن کا مقصد سرمایہ کاروں کو منصفانہ اور مساوی سلوک، مکمل تحفظ و سلامتی، امتیازی اقدامات سے بچاؤ اور تنازعات کی صورت میں بین الاقوامی ثالثی تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ پاکستان 1966 کی ICSID کنونشن کا رکن ہے، اس لیے کسی تنازع کی صورت میں سرمایہ کار عالمی بینک کے تحت قائم International Centre for Settlement of Investment Disputes سے رجوع کر سکتا ہے۔ ریکوڈک مقدمہ اس ضمن میں ایک نمایاں مثال ہے جس نے ریاستی معاہدات کی قانونی باریکیوں اور عدم ہم آہنگی کے ممکنہ نتائج کو اجاگر کیا۔ قازقستان اور پاکستان کے سفارتی تعلقات 1992 میں قازقستان کی آزادی کے بعد قائم ہوئے اور وقت کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کے مختلف فریم ورک معاہدوں کے ذریعے مضبوط ہوئے۔ حالیہ برسوں میں اعلیٰ سطحی دوروں، خصوصاً قازق صدر کے دورۂ پاکستان، نے دوطرفہ اقتصادی روابط کو نئی جہت دی۔ Elaman Group کے وفد کی وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ سے ملاقات اسی تسلسل کا حصہ ہے، جس میں گلگت بلتستان میں Placer Gold مائننگ کے امکانات، ابتدائی مطالعات کی تکمیل، جدید ماحول دوست ٹیکنالوجی کے استعمال، چینی شراکت داروں کے ساتھ اشتراک اور مقامی کمپنیوں کے ساتھ Joint Venture کے ڈھانچے پر گفتگو کی گئی۔ وفد کی قیادت ایلامن گروپ کے بانی اور Managing Partner Azamat Utigenov نے کی جبکہ دیگر اراکین میں Ulas Alimbaev, Rysbek Zhaksybaev اور Erik Akhmetzhanov شامل تھے۔ اعلامیے کے مطابق ابتدائی سرمایہ کاری بیس ملین امریکی ڈالر ہوگی اور آئندہ مراحل میں اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ اس مجوزہ سرمایہ کاری کے قانونی خدوخال میں ایک جانب وفاقی سطح پر سہولت کاری، سنگل ونڈو آپریشن اور بین الاقوامی معاہداتی تحفظ شامل ہوگا، جبکہ دوسری جانب گلگت بلتستان کی انتظامیہ کی طرف سے ایکسپلوریشن لائسنس، مائننگ لیز، ماحولیاتی منظوری اور رائلٹی کا تعین کیا جائے گا۔ چونکہ گلگت بلتستان آئینی صوبہ نہیں، اس لیے آرٹیکل 172(3) یا دیگر متعلقہ آرٹیکلز کا اطلاق براہِ راست نہیں ہوتا، تاہم اصولی طور پر Hard Minerals کی ملکیت متعلقہ مقامی حکومت کے دائرہ اختیار میں رہتی ہے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ملکیت، ریونیو شیئرنگ کا واضح فارمولہ، رائلٹی کی شرح، مقامی روزگار کا کوٹہ، ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی شرط، کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی پروگرام، ماحولیاتی اثرات اور گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کا جامع جائزہ اور تنازعات کے حل کا شفاف طریقہ کار صراحت سے درج ہو۔ اسی پس منظر میں پاکستان میں مجوزہ Mines and Minerals Act 2025 کو وفاقی دارالحکومت اور چاروں صوبوں میں پالیسی سطح پر آگے بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ گلگت بلتستان تاحال Regulation of Mines and Oilfields and Mineral Development (Government Control) Act 1948 اور اس کے سیکشن 2 کے تحت وضع کردہ Gilgit-Baltistan Mining Concession Rules 2016 کے تحت چل رہا ہے۔ یہ صورتحال واضح قانونی عدم ہم آہنگی کو جنم دیتی ہے اور وفاقی سطح پر ہونے والے معاہدات اور گلگت بلتستان میں نافذ العمل قواعد کے درمیان اصولی و عملی تضاد پیدا کرتی ہے۔ جب ایک ہی ریاست کے مختلف حصوں میں معدنی وسائل کے لیے مختلف قانونی فریم ورک نافذ ہوں تو سرمایہ کاری، ریونیو شیئرنگ، لائسنسنگ، ماحولیاتی ذمہ داریوں اور تنازعات کے حل میں پیچیدگیاں ناگزیر ہو جاتی ہیں۔ گلگت بلتستان میں کسی وفاقی قانون کا اطلاق خودکار نہیں بلکہ تب ہی ممکن ہے جب مقامی حکومت اسے باضابطہ طور پر اپنائے۔ اگر Mines and Minerals Act 2025 کو بغیر ضروری ترامیم اور مقامی قانون سازی کے نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ آئینی اور انتظامی سوالات کو جنم دے گا۔ 1948 کا قانون ایک کنٹرول ماڈل پر مبنی ہے، جبکہ جدید معدنی قوانین شفافیت، مسابقتی بڈنگ، مقامی شراکت داری، ماحولیاتی تحفظ اور سرمایہ کاروں کے حقوق و فرائض کی وضاحت پر مبنی ہوتے ہیں۔ مزید برآں، چونکہ گلگت بلتستان بین الاقوامی سطح پر ایک متنازعہ خطے سے منسلک سمجھا جاتا ہے، اس لیے کسی بھی طویل المدتی معدنی معاہدے میں ایک Non-Prejudicial Clause شامل کرنا دانشمندانہ ہوگا جس میں واضح کیا جائے کہ سرمایہ کاری انتظامی نوعیت کی ہے اور خطے کی حتمی آئینی یا بین الاقوامی حیثیت پر اثر انداز نہیں ہوگی۔ مؤثر اور جامع قانون سازی کے بغیر بین الاقوامی معاہدات مستقبل میں قانونی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کے لیے ایک ایسا Mineral Legal Framework مرتب کیا جائے جو مقامی اسمبلی، ماہرین قانون، ماحولیاتی ماہرین اور سول سوسائٹی کی مشاورت سے تیار ہو، اور جس میں مقامی ملکیت، منصفانہ ریونیو شیئرنگ، ماحولیاتی تحفظ، سماجی ذمہ داری، شفاف ریگولیٹری نظام اور متنازعہ حیثیت کو واضح قانونی شکل دی جائے۔ اس کے بعد ہی بین الاقوامی سطح پر طویل المدتی معدنی معاہدات کو حتمی شکل دینا زیادہ موزوں اور پائیدار حکمتِ عملی ہوگی، تاکہ ریاستی مفاد، مقامی حقوق اور قانونی استحکام کے درمیان متوازن ہم آہنگی قائم کی جا سکے اور گلگت بلتستان کے عوام اور مقامی لوگوں کی طرف سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بےجا مزاحمت یا مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
جی ایم ایڈوکیٹ
column in urdu Constitutional & Legal Status of Gilgit-Baltistan
اسلام آباد خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت : حملہ آور کے 2 بھائی اور ایک خاتون گرفتار
اسلام آباد مسجد و امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں خودکش دھماکہ، شگر سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان شہید




