غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت، جی ایم ایڈوکیٹ
غزہ کے حوالے سے مجوزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں وزیراعظم پاکستان کو شمولیت کی دعوت محض ایک سفارتی خبر نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی نظم، طاقت کے توازن، اور فلسطین کے مسئلے کی نئی تشکیلات کا عکاس واقعہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے منسوب اس امن منصوبے اور اس کے تحت قائم کیے جانے والے بورڈ نے بیک وقت کئی سنجیدہ سوالات، امیدیں اور خدشات کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف پاکستان جیسے اصولی مؤقف رکھنے والے ملک کو عالمی سطح پر اعتماد اور پذیرائی ملتی دکھائی دیتی ہے، تو دوسری جانب خود اس منصوبے کی نیت، دائرہ کار اور اثرات پر گہری فکری اور اخلاقی بحث ناگزیر ہو جاتی ہے۔ غزہ بورڈ آف پیس کا پس منظر دراصل غزہ کی حالیہ تباہ کن جنگ، شدید انسانی بحران، انتظامی انہدام اور عالمی برادری کی ناکامیوں سے جڑا ہوا ہے۔ جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والا خلا، جس میں نہ مکمل خود مختار فلسطینی نظمِ حکومت موجود ہے اور نہ ہی قابلِ قبول بین الاقوامی انتظام، امریکا کی قیادت میں ایک ایسے فریم ورک کی تشکیل کی طرف لے گیا جسے ’’امن‘‘ کے عنوان سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس فریم ورک کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ سکیورٹی، انسانی امداد، تعمیرِ نو اور انتظامی اصلاحات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے گا، مگر اس کی ساخت، قیادت اور نامزد اراکین اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ منصوبہ محض انسانی ہمدردی تک محدود نہیں بلکہ طاقت، اثر و رسوخ اور کنٹرول کے نئے زاویے بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس بورڈ کی تاریخی اہمیت اس پہلو سے بھی ہے کہ پہلی مرتبہ غزہ کے مستقبل کے نظم و نسق کے لیے ایک ایسا بین الاقوامی فورم تجویز کیا گیا ہے جو اقوام متحدہ کے بجائے براہِ راست امریکی سیاسی منصوبہ بندی کے تحت تشکیل پایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے اسے اپنی پالیسی کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا، جبکہ فلسطینی حلقوں میں بھی یہ خدشہ شدت اختیار کر گیا ہے کہ کہیں یہ بورڈ حقِ خودارادیت، انصاف اور آزادی کے بجائے ’’انتظام‘‘ اور ’’سکیورٹی‘‘ کے نام پر ایک نئے سرپرستانہ نظام کی بنیاد نہ رکھ دے۔ یہاں یہ سوال بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ اسے ’’فلسطین پیس‘‘ کے بجائے ’’غزہ پیس‘‘ کیوں کہا جا رہا ہے۔ اس نام میں بظاہر ایک تکنیکی سادگی ہے، مگر درحقیقت یہ فلسطین کے مسئلے کی جغرافیائی اور سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کرنے کا خدشہ رکھتا ہے۔ غزہ کو ایک الگ بحران، ایک الگ انتظامی یونٹ اور ایک الگ امن مسئلے کے طور پر پیش کرنا مغربی کنارے، القدس اور مجموعی فلسطینی قومی کاز کو پس منظر میں دھکیل سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ فلسطین کے مسئلے کو جزوی خانوں میں بانٹنے کی ہر کوشش نے بالآخر مسئلے کو حل کرنے کے بجائے پیچیدہ ہی کیا ہے۔ اس تناظر میں ’’غزہ پیس‘‘ کی اصطلاح ایک عارضی انتظام تو ہو سکتی ہے، مگر ’’فلسطین پیس‘‘ کے بغیر یہ کسی پائیدار حل کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ پاکستان کی شمولیت کا سوال اسی لیے غیر معمولی فکری اور اخلاقی وزن رکھتا ہے۔ پاکستان کا فلسطین کے بارے میں مؤقف محض سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک اصولی، آئینی اور عوامی وابستگی پر مبنی موقف رہا ہے، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں، حقِ خودارادیت اور دو ریاستی حل سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے میں کسی بھی عالمی فورم میں شمولیت سے قبل پاکستان کو یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ بورڈ واقعی فلسطینی عوام کی مرضی، نمائندگی اور مفادات کا احترام کرتا ہے یا نہیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ اس فورم میں پاکستان کی شرکت محض علامتی نہ ہو بلکہ اسے فیصلہ سازی، نگرانی اور شفافیت میں حقیقی کردار حاصل ہو۔ پاکستان کو یہ سوال بھی سنجیدگی سے اٹھانا ہوگا کہ آیا اس بورڈ کے فیصلے اقوام متحدہ کے فریم ورک سے ہم آہنگ ہوں گے یا اس کے متوازی ایک نیا، کمزور مگر طاقتور سیاسی ڈھانچہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔ انسانی امداد اور تعمیرِ نو کے نام پر اگر سیاسی انجینئرنگ، آبادی کی جبری منتقلی، یا فلسطینی قیادت کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تو پاکستان کے لیے اس کا حصہ بننا نہ اخلاقی طور پر درست ہوگا اور نہ ہی اس کی تاریخی پالیسی سے مطابقت رکھتا ہے. اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ عالمی سیاست میں عدم شمولیت بعض اوقات مکمل بے اثری میں بدل جاتی ہے۔ اگر پاکستان اس بورڈ میں شامل ہو کر واضح، تحریری اور غیر مبہم اصولی شرائط کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتا ہے، تو وہ نہ صرف فلسطینی عوام کے لیے ایک مضبوط آواز بن سکتا ہے بلکہ امداد کی شفاف تقسیم، تعمیرِ نو میں مقامی فلسطینی شمولیت، اور کسی بھی عبوری انتظام کے عارضی ہونے کی ضمانت جیسے نکات کو بھی اجاگر کر سکتا ہے۔ یہ شمولیت امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر، انسانی اقدار اور بین الاقوامی انصاف کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتی ہے، بشرطیکہ پاکستان اپنی سرخ لکیریں واضح رکھے۔ آخرکار یہ دعوت پاکستان کے لیے محض اعزاز نہیں بلکہ ایک کڑا امتحان بھی ہے۔ یہ امتحان اس بات کا ہے کہ آیا پاکستان عالمی طاقتوں کے بنائے گئے فریم ورک میں شامل ہو کر اپنے اصولی مؤقف کو مضبوط بنا سکتا ہے یا نہیں، اور آیا وہ ’’امن‘‘ کے نام پر پیش کیے جانے والے کسی بھی منصوبے کو انصاف، آزادی اور خودمختاری کے بنیادی اصولوں کے تابع کر سکتا ہے یا نہیں۔ اگر پاکستان اس عمل میں انسانیت، قانونِ بین الاقوام اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کو مرکز میں رکھتا ہے تو یہ شمولیت تاریخ میں ایک مثبت اور باوقار باب کے طور پر لکھی جا سکتی ہے، بصورتِ دیگر خاموش یا غیر مشروط شمولیت خود پاکستان کے دیرینہ مؤقف کو سوالیہ نشان بنا سکتی ہے۔
column in urdu, Board of Peace
سندھ حکومت کا سانحہ گل پلاز ہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی خاندان ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان




