column in urdu, 0

شگر پراسرار سے جاذب نظر تک ، زوہیر علی
گلگت بلتستان کا خطہ دنیا بھر میں اپنی دلکش وادیوں، برف پوش پہاڑوں اور متنوع تہذیب و ثقافت کے باعث شہرت رکھتا ہے۔ انہی حسین وادیوں میں سے ایک وادی شگر ہے، جو اپنے پر اسرار حسن اور بے پناہ قدرتی خصوصیات کی بدولت سیاحوں اور محققین دونوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
چند دہائیاں قبل شگر ایک ایسی وادی تھی جو اپنے لامحدود قدرتی حسن کے باوجود دنیا کی نظروں سے اوجھل تھی۔ یہاں کے باسی اپنی سادہ طرزِ زندگی میں خوش و خرم رہتے اور بیرونی دنیا سے نسبتاً کٹے ہوئے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جب گلگت بلتستان کی سیاحت نے ترقی کی اور دنیا بھر کے مہم جو اور محققین اس خطے کا رخ کرنے لگے تو شگر کی شہرت بھی پھیل گئی۔ آج شگر نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔
یہاں کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ دنیا کے چودہ بلند ترین پہاڑوں (جن کی بلندی آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ ہے) میں سے پانچ شگر کی حدود میں واقع ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور کے ٹو (K-2) ہے جو دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شگر کو کوہ پیماؤں اور ایڈونچر کے شوقین افراد کے لیے جنت کہا جاتا ہے۔ گرمیوں میں ہر طرف سرسبزی، جھرنوں اور دریاؤں کا شور اور پھولوں کی خوشبو جبکہ سردیوں میں برف کی سفید چادر اس وادی کو ایک نرالی خوبصورتی عطا کرتی ہے۔
شگر کی خوبصورتی کے چرچے جب دنیا بھر میں ہونے لگے تو سیاحوں کی آمد بھی بڑھ گئی۔ ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاح ہر سال یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ سیاحت کے فروغ نے جہاں اس خطے کو عالمی نقشے پر اجاگر کیا وہیں اس کے مثبت اور منفی اثرات بھی مرتب ہوئے۔ زمین کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔ جب مقامی لوگوں نے دیکھا کہ ان کی زمینیں کئی گنا قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں تو انہوں نے بڑی تعداد میں انہیں بیچنا شروع کردیا۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے شگر میں بڑے بڑے ہوٹل اور تجارتی عمارتیں تعمیر ہونے لگیں۔ ان تعمیرات سے بیرونی سرمایہ کار تو بے حد فائدہ اٹھا رہے ہیں لیکن اکثر مقامی لوگ اپنی ہی زمینوں سے محروم ہو گئے۔

اس کے علاوہ شگر کی سرزمین معدنی دولت سے بھی مالامال ہے۔ یہاں ایسے قیمتی اور نایاب معدنیات پائے جاتے ہیں جو دنیا میں کہیں اور مشکل سے ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کی نظر ان معدنی ذخائر پر بھی ہے۔ اگر مقامی عوام نے بروقت شعور کا مظاہرہ نہ کیا تو وہ اپنے وسائل سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
آج شگر میں مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کے لوگ آ کر آباد ہو رہے ہیں۔ اگرچہ یہ بات ایک طرف مثبت ہے کہ علاقے میں تنوع پیدا ہو رہا ہے، لیکن دوسری طرف یہ خدشہ بھی ہے کہ مقامی ثقافت، زبان اور روایات متاثر نہ ہوں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں کے باسی اپنی سرزمین اور ثقافت کے اصل وارث ہونے کے ناطے ہوشیار رہیں۔ انہیں چاہیے کہ اپنے وسائل کا دانشمندی سے تحفظ کریں، زمین اور معدنیات کی اہمیت کو سمجھیں اور بیرونی استعمار کے خطرے کو پہچان کر اس کے خلاف اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وادی کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، یہاں کے باسیوں کو امن، خوشحالی اور ترقی نصیب کرے، اور یہ وادی ہمیشہ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے حسن و امن کی علامت بنی رہے۔ آمین۔

100% LikesVS
0% Dislikes

شگر پراسرار سے جاذب نظر تک ، زوہیر علی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں