urdu news update, Status of Sports in the Curriculum 0

نصاب میں کھیل کی حیثیت ، سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
تعلیم کو عموماً کتاب، سبق، امتحان اور نمبرات تک محدود کر دیا گیا ہے، حالانکہ تعلیم کا اصل مقصد انسان کی ہمہ جہت تربیت ہے۔ نصاب اگر صرف ذہن کو بوجھ اٹھانے کا عادی بنا دے اور جسم، جذبات اور کردار کو نظرانداز کر دے تو ایسی تعلیم ادھوری بلکہ نقصان دہ ہو جاتی ہے۔ اسی تناظر میں نصاب میں کھیل کی حیثیت محض تفریحی سرگرمی نہیں بلکہ ایک بنیادی تعلیمی ضرورت کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔
کھیل انسانی فطرت کا لازمی جزو ہیں۔ بچہ کھیل کے ذریعے نہ صرف جسمانی قوت حاصل کرتا ہے بلکہ نظم و ضبط، برداشت، تعاون، قیادت اور ہار جیت کو قبول کرنے جیسے اوصاف بھی سیکھتا ہے۔ اگر نصاب میں کھیل کو ثانوی یا غیر ضروری سمجھا جائے تو دراصل ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہوتے ہیں جو ذہنی طور پر تو بوجھل ہو مگر جسمانی اور نفسیاتی طور پر کمزور ہو۔
بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی نظام میں کھیل کو وقت کا ضیاع سمجھا جاتا ہے۔ اسکولوں میں کھیل کا پیریڈ رسمی کارروائی بن چکا ہے، جہاں یا تو استاد خود غیر سنجیدہ ہوتا ہے یا میدان اور سہولیات کا فقدان ہوتا ہے۔ والدین بھی نمبروں کی دوڑ میں بچوں کو کھیل سے روکتے ہیں اور کھیل کو مستقبل کے لیے غیر مفید قرار دیتے ہیں۔ اس سوچ نے نصاب میں کھیل کی حقیقی حیثیت کو بری طرح مجروح کیا ہے۔
کھیل نصاب کا حصہ اس لیے ہونے چاہییں کہ یہ محض جسمانی سرگرمی نہیں بلکہ عملی تربیت کا ذریعہ ہیں۔ کتابی علم بچے کو معلومات دیتا ہے، جبکہ کھیل اسے زندگی جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ ٹیم گیمز میں بچہ اجتماعی ذمہ داری، تعاون اور قربانی سیکھتا ہے، انفرادی کھیل اسے خود انحصاری، صبر اور مسلسل محنت کا عادی بناتے ہیں۔ یہ وہ اسباق ہیں جو کسی کتاب کے باب میں پوری طرح نہیں سکھائے جا سکتے۔
نصاب میں کھیل کی شمولیت ذہنی صحت کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ آج کا طالب علم شدید ذہنی دباؤ، مقابلے اور ناکامی کے خوف میں مبتلا ہے۔ کھیل اس دباؤ کو کم کرنے، ذہن کو تازہ رکھنے اور جذباتی توازن قائم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ وہ معاشرے جہاں نصاب میں کھیل کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، وہاں خودکشی، ڈپریشن اور جارحیت جیسے مسائل نسبتاً کم دیکھنے میں آتے ہیں۔
تعلیمی تحقیق بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہے کہ کھیلوں سے وابستہ طلبہ تعلیمی کارکردگی میں بھی بہتر ثابت ہوتے ہیں۔ جسمانی سرگرمی دماغی کارکردگی کو تیز کرتی ہے، توجہ اور یادداشت کو مضبوط بناتی ہے اور سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔ اس کے باوجود ہمارے نصاب میں کھیل کو امتحانی نظام سے خارج رکھا گیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طالب علم اور ادارے دونوں اسے غیر اہم سمجھنے لگتے ہیں۔
نصاب میں کھیل کی حیثیت کا ایک اہم پہلو اخلاقی تربیت بھی ہے۔ کھیل کے میدان میں دیانت، اصول پسندی، قانون کی پاسداری اور اسپورٹس مین اسپرٹ جیسے اوصاف عملی طور پر سکھائے جاتے ہیں۔ طالب علم یہ سیکھتا ہے کہ جیت کے ساتھ غرور نہیں اور ہار کے ساتھ مایوسی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ اقدار اگر نصاب کے ذریعے رائج ہوں تو معاشرہ مجموعی طور پر زیادہ متوازن اور مہذب ہو سکتا ہے۔
مزید یہ کہ کھیل سماجی مساوات کو فروغ دیتے ہیں۔ میدان میں امیر غریب، زبان، نسل یا طبقے کی تفریق کم ہو جاتی ہے۔ ایک ہی ٹیم میں مختلف پس منظر کے بچے مل کر کھیلتے ہیں اور ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں۔ نصاب کے ذریعے اگر کھیل کو فروغ دیا جائے تو یہ سماجی ہم آہنگی کا مضبوط ذریعہ بن سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نصاب میں کھیل کو محض اضافی سرگرمی کے بجائے باقاعدہ تعلیمی جزو تسلیم کیا جائے۔ کھیلوں کے لیے مناسب وقت، تربیت یافتہ اساتذہ، معیاری میدان اور منصفانہ جانچ کا نظام قائم کیا جائے۔ دیسی اور مقامی کھیلوں کو بھی نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ ثقافتی شناخت اور جسمانی تربیت دونوں کو فروغ ملے۔
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ ایک صحت مند دماغ کے لیے صحت مند جسم ضروری ہے۔ جو نصاب کھیل کو نظرانداز کرتا ہے وہ دراصل انسان کو ٹکڑوں میں بانٹ دیتا ہے۔ اگر ہم ایک متوازن، بااخلاق اور فعال نسل چاہتے ہیں تو نصاب میں کھیل کو وہی مقام دینا ہوگا جس کے وہ فطری طور پر حق دار ہیں، کیونکہ تعلیم جو کھیل سے خالی ہو، زندگی کے میدان میں اکثر ناکام ثابت ہوتی ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

urdu news update, Status of Sports in the Curriculum

سابق وزیر اعلی خالد خورشید خان کا صدر پریس کلب شگر عابد شگری سے تعزیتی رابطہ، والدہ کے انتقال پر دلی افسوس

گداگری ، کشکول سے کردار تک، سلیم خان

100% LikesVS
0% Dislikes

نصاب میں کھیل کی حیثیت ، سلیم خان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں