سکردو شہر کی موجودہ صورتحال حقائق کے آئینے میں ۔ایک تلخ مگر ضروری جائزہ ، نہتے بچوں پر گولیاں چلانے کا حکم کس نے دیا. احمد چو شگری مرکزی جنرل سکریٹری انجمن تاجران سکردو
آیت اللہ سید علی خامنہ ای شہید کی المناک شہادت کے موقع پر جہاں پوری دنیا بشمول پاکستان میں ان سے عقیدت رکھنے والوں نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہوئے شدید غم و غصّے کا اظہار کیا وہاں سکردو میں بھی بزرگ ، جوان ، چھوٹے بچے سمیت خواتین نے بھی شدید ترین احتجاج کئے ۔چونکہ سید علی خامنہ ای کی مقلدین کی تعداد بلتستان میں کثرت سے پائے جاتے تھے اس لئے یہاں سے شدید ترین احتجاج ایک فطری عمل تھا ۔
سید علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر علی الصبح پورے شہر میں پھیل چکے تھے مساجد سے اعلان بھی ہوچکا تھا لیکن انتظامیہ یا اداروں کی طرف سے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہ کرنا بذات خود کئی سوالات کو جنم دیتے پیں۔
بلتستان میں انتظامیہ یا اداروں کی نااہلی یا سازش مجرمانہ کے باعث کئی طالب علم سیدھی گولیاں مارے جانے سے شہید ہوگئے ۔ شہید ہونے والے سارے نوجوان سکول اور کالج کے طالب علم تھے جن کا کسی بھی سیاسی یا مذہبی تنظیم یا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔فلسطین میں بچوں ،خواتین اور بزرگوں پر ہونے والے تشدد سوشل میڈیا پر بار بار دیکھ کے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نفرت ان کے خون میں پہلے ہی رس بس چکے تھے۔ اب ان ظالموں کے ہاتھوں سید علی خامنہ ای کی شہادت پر جوانوں کا شدید جذبات کی رو میں بہہ جانا ایک فطری سی بات تھی ۔ان تمام صورتحال کی تناظر میں عوام کی ذہن میں بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں جن کا جواب وقت کی اہم ضرورت ہے ورنہ یہ سوالات کسی اور حادثے کو جنم لے سکتا ہے ۔
*انتظامیہ اور اداروں کے پاس کافی وقت ہونے کے باوجود ان معاملات کو قبل از وقت سنبھالنے کی کوشش کیوں نہیں کی ؟
*انتہائی منظم طریقے سے رات کے اندھیرے میں سکردو شہر کے اہم افراد خصوصاََ آغا باقر الحسینی قبلہ کے گھر سے مخصوص جگہوں تک کہ پتھر اور شیشے انتہائی منظم طریقے سے سڑکوں پر کس نے بچھائے ؟
*جب ہجوم بن رہا تھا تو ذمے دار علما اور عمائدین کو حالات سنبھالنے کے لئے کیوں بلایا نہیں گیا ؟
*بچوں اور جذباتی نوجوانوں کو روکنے کے لئے آنسوگییس کی شیلنگ کیوں نہیں کی گئی؟
*نہتے بچوں پر گولیاں چلانے کا حکم کس نے دیا ؟
*سیدھا سر اور سینے کے بجائے ٹانگوں پر کیوں نہ گولیاں چلائی گئیں ؟
*ربڑ کی گولیاں کس کو تحفے میں دینے کے لئے رکھے گئے تھے ان چھوٹے بچوں کو منتشر کرنے کے لئے ربڑ کی گولیاں کیوں نہیں چلائی گئیں ؟
*گولیاں چلانے والے کون تھے اور کس کے اشارے پر یہ کام کر رہے تھے ؟
*آج حالات کو سدھارنے اور غمزدہ قوم کو تسلی دیکر سنبھالنے کے بجائے اے ٹی اے اور ملٹری کورٹ کی دھمکیا دیکر قوم کو مزید مشتعل کرنے کی کوشش کرنے والے کون ہیں اور ان کے مقاصد کیا ہیں ؟
*رینجرز اور ایف ڈی کو بلتستان میں مستقل تعیناتی کی سازش کون رچا رہے ہیں حقیقت میں یہی لوگ ہیں جو بلتستان کے امن و امان کو خراب کر رہے ہیں ؟
*بے نظیر بھٹو کی المناک شہادت پر ملک بھر میں کیا اس سے بھی شدید ترین احتجاج نہیں ہوا تھا بتایا جائے اس تاریخی اور شدید ترین احتجاج جس میں سب کچھ جلا دیا گیا تھا اس دوران کتنے لوگوں کے سر میں گولیاں ماری گئی تھی ؟
*عدالتی کمیشن تقرر ہونے کے باوجود اس کی رپورٹ آنے سے قبل بلتستان میں چادر اور چار دیواری کی تقدس کو پامال کرتے ہوئے لوگوں کی گرفتاری اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کچھ لوگ یہاں مستقل بنیاد پر امن امان خراب دیکھنا چاہتے ہیں ۔
اگر معاملاتِ دیانتداری سے سنبھالنا مقصود ہو تو ان جیسے سوالات کے جوابات ملنے چاہئیے اور اس کے لئے غیر جانبدار عدالتی کمیشن ہونی چاہئیے کمیشن کو آزادانہ ماحول میں اپنا کام کرنے دینا چاہئیے جب تک کمیشن کا رپورٹ سامنے نہیں آتی کسی بھی قسم کا کوئی پکڑ دھکڑ نہیں ہونی چاہئیے ورنہ شاید اس علاقے کی امن کو برقرار رکھنا کسی کی بھی بس میں نہ رہے۔
آخر میں نوجوانوں سے دست بستہ گزارش ہے کہ مسلح افواج کسی کی باپ کی جاگیر نہیں یہ ہماری اپنی افواج ہے اس میں غلط افراد ضرور ہوسکتے ہیں لیکن کملہ حیثیت میں دیکھا جائے تو یہ ہماری اپنی حفاظت کے لئے ہے اس میں کثرت محب وطن افراد پر مشتمل ہے لہذا سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے پہلے ان محب وطن افراد کے جذبات اور احساسات کو ذہن میں رکھ کر پوسٹ کیا کریں کیوں کہ حالات بتا رہے ہیں کہ موجودہ صورتحال کو استعمال کرتے ہوئے بلتستان کے عوام کو اینٹی پاکستانی شو کرنے کی مذموم سازش شروع ہوچکی ہے جسے ہم سب نے مل کر ناکام کرنا ہے ۔
urdu news update Skardu City’s Current Situation
افسانہ۔عنوان: ادھوری عید . یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
حالاتِ حاضرہ: عہدِ آشوب کا ادبی مرقع.سلیم خان
سعودی عرب میں پرنس سلطان ائیر بیس کو نشانہ بنایا ہے: ایران




