افسانہ۔میرے باطن کی عید . یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
عید کا چاند نظر آیا تو حنا آسمان کی طرف دیکھ کر مسکرا دی۔ یہ اس کی شادی کے بعد پہلی عید تھی، اور دل میں کتنے ہی خواب سجے ہوئے تھے۔ اسے لگتا تھا کہ اس دن اس کی زندگی میں خوشیوں کے رنگ بھر جائیں گے، وہ اپنی سسرال میں سب کے ساتھ ہنسے گی، بولے گی، اپنائیت محسوس کرے گی۔
لیکن خواب اکثر حقیقت کے سامنے آ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔
حنا ایک چھوٹے سے گاؤں کی پڑھی لکھی لڑکی تھی، ایم اے کیا ہوا تھا اس نے، مگر اس کی سادگی اس کے لہجے میں جھلکتی تھی۔ اس کے شوہر فہد شہر کے رہنے والے، انگریزی میں روانی سے بات کرنے والے، خود کو بہت مہذب اور ماڈرن سمجھنے والے انسان تھے۔ حنا نے سوچا تھا کہ تعلیم انسان کو بڑا دل دیتی ہے، مگر اسے جلد ہی سمجھ آ گیا کہ تعلیم ہر آدمی کو انسان نہیں بناتی۔
عید کی صبح حنا جلدی اٹھ گئی۔ اس نے نیا جوڑا پہنا، ہلکا سا میک اپ کیا، اور دل میں خوشی سجا لی۔ وہ انتظار کرتی رہی کہ گھر میں کوئی جاگے، کوئی عید کی تیاری ہو، کوئی میٹھا بنے، کوئی “عید مبارک” کہے۔
لیکن گھر خاموش تھا۔
دوپہر تک سب سوتے رہے۔ کسی نے عید کی نماز کا ذکر تک نہ کیا۔ جب سب اٹھے تو نہ خوشی تھی، نہ رونق، نہ کوئی خاص بات۔ ساس نے بے دلی سے کہا:
“فریج میں کل کا چکن رکھا ہے، وہی گرم کر لو۔”
حنا کے ہاتھ جیسے رک گئے۔ اسے لگا جیسے اس کے دل کے اندر کچھ ٹوٹ گیا ہو۔
شام ہوئی تو فہد دوستوں کے ساتھ نکل گئے، اور ساس سسر اپنی بیٹی کو لے کر باہر چلے گئے۔ حنا اکیلی کچن میں کھڑی تھی، ہاتھ میں پلیٹ، آنکھوں میں نمی، اور دل میں ایک سوال:
“کیا یہی عید ہوتی ہے؟”
اسے اپنے میکے کی عید یاد آئی، امی کی ہنسی، ابو کی دعائیں، گرم سویاں، اور گھر میں محبت کی خوشبو۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
لیکن اصل درد ابھی باقی تھا۔
فہد اکثر اسے دوسروں کی بیویوں سے موازنہ کرتے۔ “دیکھو فلاں کی بیوی ڈاکٹر ہے، فلاں کی کتنی اسمارٹ ہے، تمہیں تو بات کرنی بھی نہیں آتی۔”
حنا ہر بار چپ ہو جاتی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے لفظ شاید کبھی اس تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔
ایک دن اس نے فون پر فہد کو اپنی ممانی سے بات کرتے سنا۔ دونوں ہنس رہے تھے۔
“یہ تو بالکل پینڈو ہے… اس کی فیملی بھی ویسی ہی ہے…”
یہ الفاظ تیر کی طرح اس کے دل میں اتر گئے۔ لیکن جب اس نے اپنی مرحوم ماں کے بارے میں سنا، تو وہ ٹوٹ گئی۔ وہ دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی، آنسو بہتے رہے، مگر آواز نہ نکلی۔
اس رات حنا نے پہلی بار آئینے میں خود کو غور سے دیکھا۔
“کیا میں واقعی اتنی کم ہوں؟”
پھر اس نے آہستہ سے اپنا سر ہلایا۔
“نہیں… میں کم نہیں ہوں۔ بس میں مختلف ہوں۔”
اگلے دن اس نے ایک فیصلہ کیا۔
وہ بدلے گی، مگر اپنے لیے، کسی کو خوش کرنے کے لیے نہیں۔ وہ انگریزی سیکھے گی، خود کو بہتر بنائے گی، مگر اپنی پہچان کھوئے بغیر۔ وہ اپنی عزت خود بنائے گی، چاہے کوئی دے یا نہ دے۔
وقت گزرتا گیا۔
حنا نے خود کو سنبھالنا سیکھ لیا۔ اس نے آن لائن کورسز شروع کیے، کتابیں پڑھیں، اپنی بات اعتماد سے کرنا سیکھی۔ اب وہ پہلے والی خاموش حنا نہیں رہی تھی۔
ایک دن فہد نے اسے حیرت سے دیکھا جب وہ کسی سے روانی سے بات کر رہی تھی۔ مگر اس بار حنا اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی نہیں۔
کیونکہ اب وہ اس کی تعریف کی محتاج نہیں رہی تھی۔
عید پھر آئی۔
اس بار حنا نے خود سویاں بنائیں، گھر سجایا، اور اپنی عید منائی۔
کیونکہ اسے سمجھ آ گیا تھا،
خوشی باہر سے نہیں آتی، بلکہ خوشی تو انسان خود اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔
urdu news update Short Story The Eid Within My Soul
>گھر کیسے چلے گا !! طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
چار جہاز مار گرائے دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور دو سی 130 فوجی ٹرانسپورٹ طیارے تباہ کر دیا ، ایران




