شگر، شہید ہونے والے طالب علم معراج راجو کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ ان کے آبائی علاقے الچوڑی شگر میں سپردِ خاک کر دیا
رپورٹ، عابد شگری 5 سی این نیوز
شگر اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں مسجد و امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش دھماکے میں شہید ہونے والے طالب علم معراج راجو کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ ان کے آبائی علاقے الچوڑی شگر میں سپردِ خاک کر دیا
شگر اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں مسجد و امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش دھماکے میں شہید ہونے والے طالب علم معراج راجو کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ ان کے آبائی علاقے الچوڑی شگر میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ شہید کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جب کہ پورا علاقہ سوگ کی کیفیت میں ڈوبا رہا۔
تفصیلات کے مطابق ترلائی اسلام آباد میں دورانِ نمازِ جمعہ مسجد و امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں شہید ہونے والے شگر کے نوجوان طالب علم معراج راجو کی میت بذریعہ سڑک شگر پہنچائی گئی۔ جسدِ خاکی کی شگر آمد پر فضا رقت آمیز تھی اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔ شہید کا جنازہ ایک بڑے جلوس کی صورت میں مسجد امامیہ شگر لایا گیا، جہاں نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ نمازِ جنازہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سید عباس الموسوی، سید طہ الموسوی اور شہید کے والد ناصر علی نے کہا کہ شہادت ہماری میراث ہے اور ہم شہادت سے ڈرنے والوں میں سے نہیں ہیں۔مقررین نے کہا کہ ہماری خاموشی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہمیں یہ درس کربلا سے ملا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمران عوام کو تحفظ اور انصاف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے دفاع کا حق اور طریقہ آتا ہے، تاہم ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرے، اور اگر یہ ذمہ داری ادا نہ کی گئی تو عوام کو اپنے دفاع کے لیے مجبور ہونا پڑے گا۔ مقررین نے واضح کیا کہ پاکستان میں شیعہ سنی کا کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ اصل مسئلہ تکفیری گروہوں کا ہے جو ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج پاکستان میں مختلف مکاتبِ فکر کو آپس میں لڑانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مقررین نے دہشت گردوں کو لگام دینے، ان کے سہولت کاروں اور ماسٹر مائنڈز کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا اور پاک فوج سے خصوصی طور پر دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اور مؤثر کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
اجتماع سے خطاب میں مقررین کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان یا ریاست کے خلاف ہرگز نہیں بلکہ محبِ وطن پاکستانی ہیں، تاہم بار بار لاشوں کو تحفے کے طور پر بھیجا جانا لمحۂ فکریہ ہے، اور ریاست پر لازم ہے کہ وہ اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے۔بعد ازاں شہید کی میت کو ان کے آبائی گاؤں الچوڑی لے جایا گیا، جہاں راستے بھر جگہ جگہ لوگوں کی بڑی تعداد نے شہید کو آخری دیدار اور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ آخرکار شہید معراج راجو کو آہوں اور سسکیوں کے درمیان آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
0



