شگر، انبیا و مرسلین اور آئمہ علیہم السلام ہمارے لیے نمونہ عمل اور راہ نجات ہیں، اور ان کے فرمودات پر عمل کیے بغیر دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی ممکن نہیں، معروف عالم دین شیخ مبارک علی عارفی
رپورٹ، 5 سی این نیوز
شگر معروف عالم دین شیخ مبارک علی عارفی نے کہا ہے کہ انبیا و مرسلین اور آئمہ علیہم السلام ہمارے لیے نمونہ عمل اور راہ نجات ہیں، اور ان کے فرمودات پر عمل کیے بغیر دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی ممکن نہیں۔ انہوں نے امام بارگاہ اصغریہ حامد پی کھور چھورکاہ شگر میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے منعقدہ مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ظالم کے خلاف اور مظلوم کی حمایت کرنا آل محمد کی تعلیمات میں شامل ہے، اور ہمیں ان کی نقش قدم پر چل کر ان کے فرمودات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ شیخ عارفی نے کہا کہ وادی چھورکاہ سب سے کم ترقی یافتہ اور سب سے زیادہ محروم علاقہ ہے، جہاں ہمیشہ سیاسی مخالفت کے ذریعے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو ذہنی پستی اور غلامی کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور ہر پارٹی کے رہنماؤں کی عزت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقہ چھورکاہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے بجلی بحران کا شکار ہے، اور ہر پاور ہاؤس کی خرابی کا الزام چھورکاہ کے عوام پر ڈالا جاتا ہے۔ شیخ عارفی نے کہا کہ حقوق حاصل کرنے کے لیے پہلے علاقائی مسائل کو ترجیح دینی ہوگی، اور آنے والے انتخابات میں چھورکاہ میں پاور ہاؤس کو منشور کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ وقت شناس ہوں اور عالمی سطح پر تشیع کی مرجعیت کو کمزور کرنے کی سازشوں سے آگاہ رہیں، اور رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی حمایت کو اپنا فرض سمجھیں۔
urdu news update, gilgit Baltistan news,
“انسانیت کا کیمو فلاج”پارس کیانی ساہیوال، پاگستان




