urdu news update Concern over the Implementation of ATA in Shigar 0

شگر میں‌ اے ٹی اے کے نفاذ پر تشویش کا اظہار، گرفتار عارف حسین کو فوری رہا کیا جائے ، بصورت دیگر پیدا ہونے والی کسی بھی صورتحال کی ذمہ داری متعلقہ انتظامی اداروں پر عائد ہوگی ،علمائے شگر کی پریس کانفرنس
رپورٹ، 5 سی این نیوز
علمائے شگر کی پریس کانفرنس، امن کی صورتحال اور اے ٹی اے کے نفاذ پر تشویش کا اظہار، علماء امامیہ شگر کی اہم اجلاس جامع مسجد امامیہ شگر میں منعقد ہوئی جس میں علماء اور عمائدین کیساتھ وکلا برادری نے شرکت کی ۔ اجلاس میں حالیہ واقعات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کئے گئے اقدامات اور عارف حسین کو ماورائے عدالت گلگت منتقلی پر غور کیا گیا ۔ جس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علمائے امامیہ شگر کی جانب سے شیخ اشرف حسین شگری نے کہا کہ وادی بلتستان کو ہمیشہ سے امن کی علامت سمجھا جاتا ہے جہاں سالانہ ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاح آتے ہیں، اور اس امن کے قیام میں علماء کرام کا کلیدی کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حساس مواقع پر بھی علماء نے عوام کو پُرامن رہنے کی تلقین کی اور حالات کو بگڑنے نہیں دیا۔ 28 فروری کو رہبرِ معظم کی شہادت کے موقع پر ہونے والے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کی طرح بلتستان میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے، تاہم شگر میں یہ احتجاج مکمل طور پر پُرامن رہا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، جس کا سہرا علماء اور مقامی قیادت کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلتستان کے بعض دیگر علاقوں میں متعلقہ اداروں کی جانب سے طاقت کے استعمال کے نتیجے میں درجنوں نوجوان شہید ہوئے، جس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شگر کے حالیہ واقعے پر بات کرتے ہوئے علماء نے کہا کہ پُرامن احتجاج کے دوران نوجوان عارف حسین کو محض نعرہ بازی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں عدالت نے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا تھا، تاہم بعد میں اس کے خلاف انسدادِ دہشتگردی ایکٹ (ATA) کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید سخت دفعات عائد کی گئیں۔علماء کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور علماء کے درمیان مذاکرات کے دوران یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ 24 مارچ کو عارف حسین کو عدالت میں پیش کیا جائے گا، مگر انتظامیہ نے مبینہ طور پر وعدہ خلافی کرتے ہوئے اسے راتوں رات گلگت منتقل کر دیا۔ علمائے کرام نے اے ٹی اے جیسے سخت قانون کے اطلاق پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پُرامن احتجاج کرنے والے نوجوان پر دہشتگردی کی دفعات لگانا ناانصافی اور لاقانونیت کے مترادف ہے، جس سے عوام میں بے چینی پھیل رہی ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عوامی جذبات مجروح ہوئے ہیں اور شگر کے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اس موقع پر علماء اور عمائدین نے مطالبہ کیا کہ عارف حسین کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور اس کے خلاف قائم مقدمات خصوصاً اے ٹی اے کی دفعات کو ختم کیا جائے، بصورت دیگر پیدا ہونے والی کسی بھی صورتحال کی ذمہ داری متعلقہ انتظامی اداروں پر عائد ہوگی۔ علماء نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خطے کے امن کو ہر صورت برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، تاہم عوامی حقوق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

urdu news update Concern over the Implementation of ATA in Shigar

افسانہ: وعدہ تحریر: آمینہ یونس،بلتستانی

افسانہ۔عنوان: ادھوری عید . یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

50% LikesVS
50% Dislikes

شگر میں‌ اے ٹی اے کے نفاذ پر تشویش کا اظہار، گرفتار عارف حسین کو فوری رہا کیا جائے ، بصورت دیگر پیدا ہونے والی کسی بھی صورتحال کی ذمہ داری متعلقہ انتظامی اداروں پر عائد ہوگی ،علمائے شگر کی پریس کانفرنس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں