سترہ برس کے ہوگئے، اب تو بڑا کمال ہے
ہر وقت ہاتھ میں تمہارے موبائل ہی موبائل ہے
میرے پیارے شنو کی سترہویں سالگرہ پر
سترہ برس کے ہوگئے، اب تو بڑا کمال ہے
ہر وقت ہاتھ میں تمہارے موبائل ہی موبائل ہے
آنکھوں میں نیند کم، مگر گیموں کا وہی خیال ہے
کتاب کہے “مجھے بھی دیکھو!” بس یہی ملال ہے
مما کی ہر نصیحت تمہیں لگتی فضول ہے
ابو کی بات تو مان لو، ان کا کہا مثال ہے
پڑھ بھی لیا کرو ذرا، یہ بھی تو اک سوال ہے
ورنہ رزلٹ کے دن کہنا مشکل ہو گا جو تیرا حال ہے
دوستوں کی محفلوں میں تمہارا بڑا جلال ہے
لیکن گھر میں جب آؤ تو خاموشی لازوال ہے
کھانے میں پیزا، برگر تمہارا انتخاب ہے
دال سبزی دیکھ کر کیوں چہرہ نڈھال ہے؟
صبح جگانا مشکل، یہ کیسا احوال ہے
لیکن رات کو جاگنا تمہارا بہت کمال ہے
اللہ کرے تمہاری قسمت ہو بہت ہی لاجواب
ہر خواب ہو پورا، یہی دل سے میرا خیال ہے
ہنستے رہو، مسکراتے رہو ہر ایک حال میں
بابا کی دعا ہے، تمہارا ہر دن خوشحال ہے
چھوٹا بھائی عمر بھی بڑا ہی کمال ہے
ہر وقت شرارتوں میں اس کا عجب حال ہے
کبھی تمہاری چیزیں چھپا دے، کبھی شور مچائے
اور پھر معصوم بن کر کہے “میری انا کا سوال ہے!”
تم دونوں کی لڑائی میں بھی گھر کا جمال ہے
اور مان جاؤ تو یہی لمحہ عید کا دلال ہے
کبھی بابا کے پاس بھی بیٹھو ذرا سکون سے
ان کی باتوں میں بھی چھپا بڑا جلال ہے
urdu news update 17th Birthday of My Beloved son




