نگراں کابینہ میں شگر کو نظر انداز کرنا ناقابلِ برداشت عمل ہے شگر کی ملک کے لیے دی گئی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، یہ سرزمین شہداء کے خون سے رنگین ہے، امام جمعہ جامع مسجد امامیہ شگر سید طہٰ الموسوی
رپورٹ، 5 سی این نیوز
شگر امام جمعہ جامع مسجد امامیہ شگر سید طہٰ الموسوی نے کہا ہے کہ نگراں کابینہ میں شگر کو نظر انداز کرنا ناقابلِ برداشت عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ شگر کی ملک کے لیے دی گئی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، یہ سرزمین شہداء کے خون سے رنگین ہے، اس کے باوجود شگر کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا گیا ہے۔ سید طہٰ الموسوی کا کہنا تھا کہ جب استور سے چار افراد کو نمائندگی دی جا سکتی ہے تو شگر سے ایک فرد کو بھی شامل نہ کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی نظریں شگر پر ہیں، مگر حقوق کی تقسیم کے وقت شگر کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا ناانصافی کی انتہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وادی شگر قدرتی وسائل اور جغرافیائی لحاظ سے نہایت اہم خطہ ہے اور شگر کو مسلسل نظر انداز کرنا مستقبل میں خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اس موقع پر مقامی عوامی حلقوں نے کہا کہ شگر کو نگراں کابینہ سے باہر رکھنے میں نگراں وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ گورنر گلگت بلتستان بھی برابر کے شریک ہیں، کیونکہ نگراں کابینہ کی تشکیل دونوں کی باہمی مشاورت سے عمل میں آئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شگر کو مزید نظر انداز کرنے کا سلسلہ فوری طور پر ترک کیا جائے، بصورتِ دیگر شگر کے عوام خاموش نہیں رہیں گے اور اپنے حقوق کے لیے بھرپور احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ امام جمعہ شگر نے مطالبہ کیا کہ نگراں کابینہ میں فوری طور پر شگر کو نمائندگی دی جائے تاکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔
urdu news, gilgit baltistan news,




