Short Story The Promise 0

افسانہ: وعدہ تحریر: آمینہ یونس،بلتستانی
سب لوگ اپنے اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر آسمان کو تکے جا رہے تھے۔ بادلوں کی آنکھ مچولی نے لوگوں کو الجھن میں ڈال رکھا تھا۔ کوئی ادھر دیکھتا، کوئی ادھر۔۔۔۔۔۔مگر چاند جیسے چھپنے پر بضد تھا۔ نرجس بھی اپنے دونوں بچوں کے ساتھ چھت پر آ گئی۔ امل بار بار آسمان پر چاند دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی ،جبکہ آصف اس کا دامن تھامے کھڑا تھا۔ “امی، چاند نظر آیا؟” نرجس نے مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھا پھر بچوں کی طرف۔۔۔۔ابھی نہیں بیٹا… شاید تھوڑی دیر میں آ جائے۔ مگر وقت گزرتا گیا۔ رات کا پہلا پہر ڈھلنے لگا۔ ایک ایک کر کے لوگ چھتوں سے اترنے لگے۔ کسی نے سحری کی تیاری کرنی تھی، کوئی تھکن سے نڈھال تھا۔ آسمان ویسا ہی خاموش رہا۔ نرجس بھی بچوں کو لے کر نیچے آ گئی۔ کمرے میں آتے ہی فون کی گھنٹی نے اس کا استقبال کیا۔ اس نے جلدی سے فون اٹھایا۔۔۔ “السلام علیکم…” دوسری طرف عبداللہ تھا۔ بچے لپک کر اس کے قریب آ گئے۔ “بابا آپ کب آئیں گے؟ سب کے بابا تو آ گئے ہیں… آپ کیوں نہیں آئے؟” عبداللہ چند لمحے خاموش رہا، جیسے الفاظ ڈھونڈ رہا ہو۔ “میرے بچو… بس جلد آؤں گا، ان شاء اللہ۔” آپ نے وعدہ کیا تھا نا، اس عید پر آئیں گے” امل کی آواز میں معصوم شکوہ تھا۔ نرجس نے آہستہ سے بچوں کو اپنے ساتھ لگایا، “بابا کو تنگ نہیں کرتے… وہ ہمارے لیے دور ہیں نا۔” فون بند ہوا تو کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی پھیل گئی۔ اگلے دن نرجس بچوں کو بازار لے گئی۔ اردگرد رونق تھی، دکانیں سجی ہوئی تھیں ہر طرف روشنی اور چہل پہل تھی۔ بچوں نے ادھر ادھر دیکھتے ماں سے پوچھا “امی، بابا ہمارے لیے کپڑے لائیں گے نا؟” نرجس نے ہلکا سا سر ہلایا مگر اس کی نظر کہیں اور تھی۔ عبداللہ دو سال سے دبئی میں تھا۔ ایک ہوٹل میں کام کرتا تھا۔ رات گئے تک مصروف رہتا، پھر چند گھنٹوں کی نیند اور دوبارہ وہی مشقت۔ کمرے میں لوٹتا تو تھکن اس کے جسم سے جھلکتی۔ اس رات بھی وہ فون بند کر کے دیر تک موبائل کو دیکھتا رہا۔ انگلیاں جیسے ساکت ہو گئی تھیں۔ اس نے سر دیوار سے ٹکا دیا۔ آنکھیں بند کیں تو بچوں کے چہرے ابھر آئے ۔۔۔۔وہی سوال، وہی انتظار۔ گھڑی نے ایک بجنے کا اشارہ دیا۔ اسے دو بجے ڈیوٹی پر جانا تھا۔ وہ اٹھا، چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے اور خاموشی سے کمرے سے نکل آیا۔ عبداللہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا۔ اس کے والد نے ساری عمر محنت مزدوری میں گزار دی، مگر بچوں کو تعلیم نہ دلا سکے۔ یہی کمی عبداللہ کے دل میں ایک عہد بن کر رہ گئی تھی۔ اسی عہد نے اسے پردیس بھیج دیا تھا ۔۔۔۔اپنی بیوی اور بچوں سے دور، صرف اس امید پر کہ وہ اپنے بچوں کو ایک بہتر زندگی دے سکے۔۔۔۔۔ مگر وعدے ہمیشہ حالات کے تابع نہیں ہوتے۔ چاند رات آ گئی… مگر عبداللہ نہ آ سکا۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے حالات کو یکسر بدل دیا تھا۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع نے پورے خطے میں خوف اور بے یقینی پھیلا دی تھی۔ پروازیں منسوخ ہو رہی تھیں، راستے محدود ہو گئے تھے اور کئی کمپنیوں نے اخراجات کم کرنے کے لیے ملازمین کی تنخواہیں روک دی تھیں۔ دبئی جیسے محفوظ شہر میں بھی بے چینی کی فضا تھی۔ عبداللہ کئی دنوں سے کوشش کے باوجود واپسی کا کوئی راستہ نہ نکال سکا۔ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، اور دل اپنے وعدے کے بوجھ تلے دب رہا تھا۔ ادھر گھر میں خاموشی نے جگہ بنا لی تھی۔ عبداللہ نے فون کیا، “آپ لوگ عید کے کپڑے لے لو…” امل نے فوراً کہا، “نہیں، جب آپ نہیں آئیں گے تو ہم بھی نئے کپڑے نہیں پہنیں گے!” عبداللہ نے آنکھیں بند کر لیا۔ تو ایک آنسو ڈھلک کر رخسار کو چھو گیا ۔ ادھر امل نے کپڑوں کا پیکٹ ایک طرف رکھ دیا۔ آصف خاموشی سے کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔ باہر روشنی تھی مگر ان کے اندر اندھیرا اتر آیا تھا۔ نرجس نے دونوں کو اپنے ساتھ لگا لیا۔ ایک کو دائیں، ایک کو بائیں۔ وہ انہیں بہلا رہی تھی مگر اس کی اپنی آواز بھی ساتھ چھوڑ رہی تھی۔ اس نے چہرہ دوسری طرف کر لیا، مگر آنسو پھر بھی پلکوں سے پھسل گئے۔ نرجس نے بچوں کو سینے سے لگایا مگر ان کے آنسو اس کے اپنے ضبط کو بھی توڑ گئے۔ چھت پر چاند تو نکل آیا تھا… مگر اس گھر کی عید آج بھی ادھوری تھی۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

Short Story The Promise

سکردو شہر کی موجودہ صورتحال حقائق کے آئینے میں ۔ایک تلخ مگر ضروری جائزہ ، نہتے بچوں پر گولیاں چلانے کا حکم کس نے دیا. احمد چو شگری مرکزی جنرل سکریٹری انجمن تاجران سکردو

50% LikesVS
50% Dislikes

افسانہ وعدہ تحریر: آمینہ یونس،بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں