افسانہ۔ چراغِ راہ. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
شہر کی بھیڑ میں وہ ایک عام سا انسان دکھائی دیتا تھا، مگر جو اسے جانتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ وہ عام نہیں ہے۔ اس کا نام وسیم تھا، لیکن اس کی اصل پہچان اس کا کردار تھا۔
وسیم ان لوگوں میں سے تھا جو اپنی زندگی خود کے لیے نہیں جیتے۔ وہ تو جیسے دوسروں کا سہارا بننے کے لیے پیدا ہوا تھا۔ اسے اپنی منزل پر پہنچنے کی کوئی جلدی نہ تھی، وہ انجان راستوں کا مسافر تھا اور دوسروں کو منزل تک پہنچانا اس کا مقصد تھا۔
جو لوگ تھک جاتے، وہ اس کے پاس آتے۔ جو ہمت ہار جاتے، وہ اس کی باتوں سے حوصلہ پاتے، جو راستہ بھول جاتے، وہ اس کے ساتھ چل کر منزل پا لیتے۔
وسیم ہر ایک کا ہاتھ تھامتا، انہیں آگے بڑھاتا، اور پھر خاموشی سے پیچھے رہ جاتا۔
وہ اپنے فن کے میدان کا ایک روشن چراغ تھا۔ وہ نئے لوگوں کو سامنے لاتا، ان کے ہنر کو پہچان دیتا، ان کی تعریف کرتا اور ان کے لیے راستے ہموار کرتا۔ لوگ اس کے اشارہ ابرو کے منتظر رہتے اور اس کا کہا گیا ایک جملہ انھیں شہرت کی بلندیوں پہ پہنچا دیتا،
مگر ہر کہانی کی طرح، اس کہانی میں بھی ایک موڑ آیا۔
جن لوگوں کو وہ اوپر لے کر گیا، وہی لوگ اوپر پہنچ کر بدل گئے۔ انہوں نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور آہستہ آہستہ اسے بھلا دیا۔ کچھ نے تو یہاں تک کہہ دیا، “ہم اپنی محنت سے یہاں تک پہنچے ہیں، کوئی کسی کا سہارا نہیں ہوتا۔”
وسیم نے یہ سب سنا، مگر خاموش رہا۔ اس کے دل میں درد ضرور تھا، لیکن اس نے کبھی شکوہ نہیں کیا، کسی سے شکایت نہیں کی۔
ایک دن اس کے دوست نے اس سے پوچھا، “تم کیوں کرتے ہو یہ سب؟ کیوں ان لوگوں کے لیے جیتے ہو جو تمہیں یاد بھی نہیں رکھتے؟”
وسیم نے مسکرا کر جواب دیا، “شاید میرا کام لوگوں کو منزل تک پہنچانا ہے، نہ کہ ان کے ساتھ منزل پر رکنا۔”
وقت گزرتا گیا۔ وہی لوگ جو کبھی اس کے محتاج تھے، اب خود غرضی میں کھو گئے۔ خلوص جیسے کہیں پیچھے رہ گیا۔
وسیم دل برداشتہ ہونے لگا، اس کی آواز مدھم ہونے لگی اور اس کے گرد لگی بھیڑ چھٹنے لگی، مگر اس کے ہاتھ اب بھی پھیلے رہتے، وہ اب بھی کسی نئے مسافر کا انتظار کرتا۔
ایک شام وہ اکیلا بیٹھا تھا، دل میں ہلکی سی اداسی، اور آنکھوں میں نمی تھی۔ اسی لمحے اس کے فون کی اسکرین روشن ہوئی،۔ایک پیغام آیا۔
“سر آپ میری پہچان ہیں، میں بے نام تھا، آپ کے ہاتھوں نے مجھے تھام لیا، آپ نے تب مجھے سنبھالا، جب سب مجھے چھوڑ چکے تھے۔ آج میں۔جو ہوں، جہاں ہوں، وہ آپ کی وجہ سے ہوں۔ آپ میرے لیے قدرت کا انعام ہیں، آپ میرا معتبر حوالہ ہیں، آپ نے کبھی صلہ نہیں مانگا، بہت شکریہ سر!”
وسیم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، مگر اس بار ان آنسوؤں میں درد کے ساتھ سکون بھی تھا۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل میں کہا، “یا اللہ! میں نے جو کچھ کیا، تیری رضا کے لیے کیا۔”
اس لمحے جیسے اس کی روح میں اطمینان اتر گیا، اس کے دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ اس نے تشکر سے آسمان کی طرف دیکھا اور ہولے سے بولا یارب! تو بہت رحیم ہے، دنیا نے چاہے مجھے بھلا دیا، مگر میں جانتا ہوں کہ میرا رب مجھے نہیں بھولا۔
اس کے دل کو ایسا سکون ملا، جو ہر چیز پر بھاری اور دنیا کی تمام شہرتوں پر حاوی تھا۔ اس کے گرد کچھ ایسے لوگ آ گئے، جو سچے تھے، مخلص تھے، اور اسے سمجھتے تھے۔
اور سب سے بڑھ کر، اسے اپنے رب کی رضا نصیب ہو گئی۔
وسیم مسکرایا۔ اس بار اس کی مسکراہٹ مکمل تھی، بےدرد اور پُرسکون۔
کیونکہ اب اسے یقین ہو چکا تھا کہ جو لوگ راستوں کو روشن کرتے ہیں، ان کی منزل زمین پر نہیں لکھی جاتی بلکہ ان کے فیصلے تو آسمانوں پہ لکھے جاتے ہیں اور جب خدا انعام دیتا ہے تو وہ انسان کو ظاہری اور دنیاوی خوشیوں سے نہیں بلکہ داخلی اور باطنی اطمینان سے مالا مال کر دیتا ہے اور وسیم کا دل، اب ابدی خوشیوں سے بھر چکا تھا۔
Short Story The Guiding Light
ہمت، عزم اور کردار: مضبوط نوجوان کی تعمیر. منظور نظرؔ (افکارِ بلتستان)
محنت کی عظمت. آمینہ یونس ،بلتستانی




