ماؤنٹین ایگریکلچر ریسرچ سینٹر سکردو: لاوارث ادارہ، بدانتظامی اور سوالیہ نشان، گزشتہ کئی برسوں سے شدید بدانتظامی، عدم توجہی اور انتظامی خلا کا شکار ہے
رپورٹ ، مہدی اکمل 5 سی این نیوز
ماؤنٹین ایگریکلچر ریسرچ سینٹر سکردو: لاوارث ادارہ، بدانتظامی اور سوالیہ نشان، گزشتہ کئی برسوں سے شدید بدانتظامی، عدم توجہی اور انتظامی خلا کا شکار ہے
پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل (PARC) کا ذیلی ادارہ ماؤنٹین ایگریکلچر ریسرچ سینٹر (MARC) سکردو گزشتہ کئی برسوں سے شدید بدانتظامی، عدم توجہی اور انتظامی خلا کا شکار ہے۔ یہ ادارہ جس کا بنیادی مقصد بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں زراعت، باغبانی اور لائیوسٹاک پر تحقیق اور کسانوں کی رہنمائی تھا، آج خود زوال کی تصویر بنا ہوا ہے۔
ایوب صاحب کے تبادلے کے بعد ادارہ لاوارث
ذرائع کے مطابق ایوب صاحب کے سکردو سے تبادلے کے بعد ادارے میں کوئی مؤثر سربراہ تعینات نہیں کیا گیا، جس کے باعث:
• انتظامی معاملات مفلوج ہو گئے
• تحقیقی سرگرمیاں تقریباً ختم ہو چکی ہیں
• ملازمین خود کو جوابدہی سے بالاتر سمجھنے لگے
• فیلڈ ریسرچ اور کسانوں سے رابطہ منقطع ہو گیا
زیادتیوں کی پرانی تاریخ
مقامی ذرائع اور سابق ملازمین کے مطابق MARC سکردو میں:
• سرکاری وسائل کے غیر مؤثر استعمال
• تحقیقی فنڈز کے غلط مصرف
• تجرباتی زمینوں کو ذاتی استعمال میں لانے
• ملازمین کی غیر حاضری اور فرضی حاضری
• مقامی کسانوں کو نظر انداز کرنے
جیسے سنگین الزامات ایک طویل عرصے سے سامنے آتے رہے ہیں، مگر کبھی سنجیدہ تحقیقات نہیں ہو سکیں۔
تحقیقی سرگرمیوں کا خاتمہ
ادارے میں:
• نئی فصلوں پر تحقیق بند
• بیج، کھاد اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی صفر
• کسانوں کے لیے تربیتی پروگرام ناپید
• لیبارٹریاں اور آلات ناکارہ حالت میں
یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارہ اپنے بنیادی مقاصد سے مکمل طور پر ہٹ چکا ہے۔
مقامی کسان متاثر، بلتستان جیسے دشوار گزار خطے میں جہاں زراعت پہلے ہی قدرتی چیلنجز سے دوچار ہے، MARC سکردو کی ناکامی نے کسانوں کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ کسان جدید تحقیق اور رہنمائی سے محروم ہیں، جس کا براہِ راست اثر پیداوار اور معیشت پر پڑ رہا ہے۔
پی اے آر سی کی خاموشی
حیران کن امر یہ ہے کہ پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کی اعلیٰ قیادت:
• ادارے کی حالت سے باخبر ہونے کے باوجود خاموش ہے
• نہ کوئی انکوائری
• نہ آڈٹ
• نہ اصلاحی اقدامات
جس سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔
سوالات جو جواب مانگتے ہیں
• MARC سکردو میں مستقل سربراہ کیوں تعینات نہیں کیا گیا؟
• گزشتہ کئی سالوں کے فنڈز کہاں خرچ ہوئے؟
• تحقیقی زمینوں اور اثاثوں کا استعمال کس کے اختیار میں ہے؟
• پی اے آر سی نے اب تک کیا نگرانی کی؟
مطالبات
عوامی و زرعی حلقے مطالبہ کرتے ہیں کہ:
1. MARC سکردو کی آزادانہ اور شفاف انکوائری کرائی جائے
2. گزشتہ 10 سال کا آڈٹ رپورٹ منظرِ عام پر لایا جائے
3. اہل، ایماندار اور باصلاحیت ڈائریکٹر تعینات کیا جائے
4. ادارے کو مقامی کسانوں سے دوبارہ جوڑا جائے
اختتامیہ
ماؤنٹین ایگریکلچر ریسرچ سینٹر سکردو جیسے اہم ادارے کو لاوارث چھوڑنا نہ صرف قومی وسائل کا ضیاع ہے بلکہ یہ بلتستان کے کسانوں کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔ اگر بروقت اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ادارہ صرف ایک سرکاری عمارت بن کر رہ جائے گا۔
ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کرتے ہیں فوری نوٹس لے کے تحقیقات کا آغاز کیا جائے
gilgit baltistan news, Mountain Agriculture Research Center Skardu
کوہاٹ؛ پہاڑی تودہ گرنے سے ملبے تلے دب کر 6 افراد جاں بحق




