افسانہ۔عنوان: ادھوری عید . یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
گاؤں کی اس تنگ گلی میں آج عید کی صبح کچھ زیادہ ہی روشن تھی۔ ہر دروازے پر رنگ، ہر آنگن میں خوشبو، ہر چہرے پر مسکراہٹ سجی ہوئی تھی۔ مگر انہی گھروں کی قطار میں ایک گھر ایسا بھی تھا جہاں خاموشی نے بسیرا کر رکھا تھا۔۔وہیں، جہاں پیا کی دیوانی رہتی تھی۔
اس کا نام ثمین تھا، مگر اب لوگ اسے کم ہی اس نام سے پکارتے تھے۔ زیادہ تر وہ “انتظار والی لڑکی” کے نام سے جانی جاتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک راستہ بسا رہتا تھا، جیسے وہ ہر لمحہ کسی کے آنے کی چاپ سننے کو بےتاب ہو۔
آج عید تھی۔ ثمین نے بھی نئے کپڑے پہنے، ہلکے سبز رنگ کا جوڑا، جس پر باریک سنہری کڑھائی تھی۔ یہ وہی جوڑا تھا جو اس نے پچھلی عید پر بھی سنبھال کر رکھا تھا۔۔صرف اس امید پر کہ شاید اگلی عید پر وہ آئے گا… اس کا پیا۔
پیا…جس کا اصل نام علیم تھا۔ وہ شہر گیا تھا، روزگار کی تلاش میں، وعدہ کر کے کہ “اگلی عید ہم ساتھ منائیں گے”، مگر وعدے اکثر وقت کے ہاتھوں ہار جاتے ہیں، اور فاصلہ صرف میلوں کا نہیں رہتا، برسوں کا بن جاتا ہے۔
ثمین کو وہ آخری دن آج بھی یاد تھا، جب علیم نے جاتے ہوئے اس کے ہاتھوں کو تھاما تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی، جیسے خوابوں کا ایک جہاں اس میں سمٹ آیا ہو۔
“بس ایک سال، ثمین… پھر میں لوٹ آؤں گا، ہمیشہ کے لیے۔”
ثمین نے کچھ نہیں کہا تھا، بس سر ہلا دیا تھا۔ اس کی خاموشی میں ہزاروں دعائیں تھیں، ہزاروں ڈر بھی۔
پہلی عید آئی، وہ نہیں آیا۔ دوسری عید آئی، اس کی کوئی خبر نہ ملی۔ اب تیسری عید تھی اور ثمین کے دل میں امید اور مایوسی ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔
عید کی صبح جب گاؤں کی عورتیں ایک دوسرے کے گھروں جا رہی تھیں، ثمین اپنے کمرے میں بیٹھی آئینے کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے ہلکا سا کاجل لگایا، مگر ہاتھ رک گئے۔ اسے لگا جیسے یہ سنگھار کسی اور کے لیے ہے، اس کے لیے نہیں۔
“ثمین! بیٹا، باہر آؤ… لوگ ملنے آ رہے ہیں!” اس کی ماں کی آواز آئی۔
ثمین نے مسکرانے کی کوشش کی، مگر ہونٹ کانپ گئے۔ وہ باہر آئی، سب کو عید مبارک دی، گلے ملی، مگر ہر بار اسے لگا جیسے وہ ایک خالی پن کو سینے سے لگا رہی ہو۔
دوپہر ڈھلنے لگی۔ گاؤں کے بچے عیدی گننے میں مصروف تھے، مرد دوستوں کے ساتھ بیٹھے قہقہے لگا رہے تھے، اور عورتیں باورچی خانے میں مصروف تھیں۔ مگر ثمین چپ چاپ گھر کے پچھلے آنگن میں آ بیٹھی۔
وہی آنگن جہاں وہ اور علیم شامیں گزارا کرتے تھے۔ وہی دیوار، جس پر ٹیک لگا کر وہ خواب بُنا کرتے تھے۔ آج وہ دیوار بھی سنسان تھی، جیسے اسے بھی کسی کا انتظار ہو۔
اچانک ہوا کا ایک جھونکا آیا، اور ساتھ ہی دروازے پر دستک کی آواز سنائی دی۔
ثمین کا دل زور سے دھڑکا۔
“کون ہو سکتا ہے؟” اس نے خود سے پوچھا، مگر دل نے جواب دے دیا—”وہ…”
وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی۔ ہاتھ کانپ رہے تھے، سانس رک سی گئی تھی۔ اس نے دروازہ کھولا.
مگر سامنے کوئی اور تھا۔ ایک اجنبی، جس کے ہاتھ میں ایک پرانا سا لفافہ تھا۔
“یہ ثمین کے لیے ہے،” اس نے مختصر سا کہا اور چلا گیا۔
ثمین کے ہاتھ لرزنے لگے۔ اس نے لفافہ کھولا۔ اندر ایک خط تھا… علیم کا خط۔
“ثمین،
اگر یہ خط تم تک پہنچے، تو سمجھنا کہ میں اپنی کوششوں میں ہار گیا۔ میں نے بہت چاہا کہ وعدہ نبھا سکوں، مگر زندگی نے مہلت نہ دی۔ میں تمہیں ادھورا چھوڑ کر جا رہا ہوں، مگر میرا دل ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گا۔ تم اپنی زندگی کو میرے انتظار میں مت روکنا… مگر میں جانتا ہوں، تم شاید ایسا نہیں کر پاؤ گی۔
تمہارا علیم”
ثمین کی آنکھوں سے آنسو خاموشی سے بہنے لگے۔ اس نے خط کو سینے سے لگا لیا، جیسے وہ علیم کو آخری بار گلے لگا رہی ہو۔
عید کی خوشیاں اب اس کے لیے ایک دھندلا سا خواب بن چکی تھیں۔ باہر قہقہے تھے، اندر سناٹا۔
رات آئی، چاند آسمان پر چمک رہا تھا۔ ثمین نے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا،
“دیکھو پیا… تمہاری دیوانی آج بھی تمہیں یاد کر رہی ہے۔ عید آتی رہے گی، لوگ ہنستے رہیں گے… مگر میرا دل وہیں رُک گیا ہے، جہاں تم نے اسے چھوڑا تھا۔”
اس کی آواز میں نمی گھل گئی، اور عید کا دن خاموشی سے ختم ہو گیا، ایک اور ادھوری کہانی کی طرح۔
۲۰ مارچ ۲۰۲۶ء
fiction Short Story
حالاتِ حاضرہ: عہدِ آشوب کا ادبی مرقع.سلیم خان
یوم پاکستان 23 مارچ کے موقع پر ڈویژنل کمپلیکس سکردو میں خواتین کی ایک پروقار تقریب




