column in urdu Youngsters Love Nation 0

نوجوان اور وطن سے محبت . منظور نظرؔ
تاریخ کے اوراق کا اگر مطالعہ کریں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ کسی بھی قوم کی نوجوان نسل اس کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ آج کے اس گہماگہمی اور نفسانفسی کے دور میں اگر ہم ترقی یافتہ اقوام کی ترقی دیکھ کر ششدر ہوتے ہیں اور اس ترقی کا راز جاننے کے لیے شعور، فکر اور بصیرت کی چشمِ بینا سے دیکھیں، تو اس ملک کی ترقی کی بنیادوں میں نوجوانوں کی قربانیاں اور ان کی محنت ہمیں پیش پیش نظر آتی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک خود کو ترقی کی راہ پر گامزن نہیں کر سکتی، جب تک اس کی نسلِ نو کو اپنی ذمہ داریوں کا نصاب نہ پڑھایا جائے اور انہیں اپنی ذمہ داریوں کی طرف دعوتِ فکر نہ دی جائے۔
جہانِ بے ثبات میں انسان کی پہچان اس کی قوم، ملت، تہذیب و ثقافت، زبان و ادب، فنونِ لطیفہ اور مٹی سے ہوتی ہے۔ اپنی مٹی سے محبت بنی نوع انسان کے دل کے نہاں خانوں میں موجود ہونا ایک فطری امر ہے۔ جس علاقے یا مٹی میں انسان پیدا ہوتا ہے، جہاں اس کی نشوونما ہوتی ہے اور جہاں سے اس کی شناخت بنتی ہے، اس مٹی سے محبت ایک قدرتی معاملہ ہے۔ نوجوان اس مٹی کا بہت بڑا اثاثہ ہیں۔ یہی نوجوان اگر اپنی صلاحیتیں مؤثر انداز میں بروئے کار لانے میں کامیاب ہو جائیں، تو اس ملک کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ نسلِ نو کسی بھی معاشرے کی سب سے بڑی قوت اور ہمت کا منبع ہے۔ ان کی نئی سوچ، جدت اور تبدیلی لانے کی صلاحیت انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔ جب نوجوانوں کے دل میں وطن کی محبت کی لو روشن ہوتی ہے، تو وہ تعلیم و ہنر، فکر و فن، صلاحیت اور وقت کو ملکِ عزیز کے لیے صرف کرتے ہیں اور بڑی لگن سے ہر دم اس کی ترقی کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔
جب ایک نوجوان اپنے ملک کو اپنا گھر تسلیم کرتا ہے، اس کی بہتری کے لیے سوچتا ہے اور عملی قدم اٹھاتا ہے؛ دن رات ایک کر کے تن من دھن وطن کی ترقی میں صرف کرتا ہے، قانون کی پاسداری کرتا ہے، معاشرے میں مثبت کردار ادا کرتا ہے اور ایک ذمہ دار شہری کے روپ میں جلوہ افروز ہوتا ہے، تو وہ ملک و قوم کے استحکام کا سبب بنتا ہے۔ نوجوانوں کا یہ طرزِ عمل لائقِ صد تحسین ہے۔ دنیا کی تاریخ میں ایسی ان گنت مثالیں موجود ہیں جہاں نوجوانوں کا وطن سے لگاؤ ملکی و معاشی ترقی اور خوشحالی کے ماتھے کا جھومر بنا۔ جہاں نئی نسل نے اپنے جذبہ حب الوطنی کے باعث ایسے کارنامے سرانجام دیے جن کی ضیا سے دیکھنے والوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ جب نوجوان نسل عشقِ وطن سے سرشار، دیانتداری کی امین اور محنت کی پرستار بن کر وقت کی دوڑ میں لگن اور ہمت کو اپنا شعار بنا لیتی ہے اور وطن کی ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں سرگرم ہوتی ہے، تو نہ کوئی بادِ صرصر انہیں روک سکتی ہے اور نہ ہی کوئی اور طاقت۔ یوں وہ اپنی محنت سے کامیابیوں کو اپنے قدموں میں سجدہ ریز ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں، جس سے ملک میں دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تجارت اور صنعت میں بھی خاطر خواہ ترقی ہوتی ہے۔
علاوہ ازیں، کسی بھی ملک کی معیشت کا دارومدار اس کی نوجوان افرادی قوت پر ہوتا ہے۔ وطن سے سچی محبت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ آج کا نوجوان دورِ جدید کے علوم سے آشنا ہو اور ہنر سیکھے۔ ملک میں رہ کر کاروبار کو فروغ دینے سے ترقی کے نئے دریچے کھلیں گے۔ اگر نوجوان اپنے گلشن کی کلیوں کو کھلانے میں وطن کے پاسبانوں اور باغبانوں کے دست و بازو بنیں، تو ملک کی کرنسی مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ وطنِ عزیز کو پیش آنے والی بہت سی مشکلات فوری ختم ہو سکتی ہیں۔
جدید تحقیق بتاتی ہے کہ موجودہ دور میں وطن سے محبت نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، بلکہ اپنے ملک کا مثبت امیج پیش کرنا، خبروں کے سمندر سے سچائی کا موتی ڈھونڈنا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر قومی بیانیے کی حفاظت کرنا بھی نوجوانوں کی حب الوطنی کا جدید طرز ہے۔ اس کے ذریعے وہ اپنی قوم کی ترقی کے ضامن بن سکتے ہیں۔
نوجوان کسی بھی قوم کا وہ قیمتی سرمایہ ہیں جو اپنی قوت، ہمت، تحقیق اور اخلاص سے بنجر زمین کو گلستان بنانے کے اہل ہوتے ہیں۔ لہٰذا وطن سے محبت محض نعروں کا نام نہیں، بلکہ یہ ملک کی مٹی سے الفت، اس کے لوگوں کی خدمت اور اس کے مستقبل کی بہتری کے لیے مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ آج ہمارے نوجوانوں کو اسی سوچ کی ضرورت ہے تاکہ جب سب مل کر قوم و ملت کی فلاح و بہبود کے لیے کوششیں کریں، تبھی وطنِ عزیز پاکستان ہر شر اور فتنہ انگیز واقعے سے محفوظ رہے گا۔ یوں خوشحالی اور ترقی ہمارا اور ہمارے ملک کا مقدر بن جائے گی۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Youngsters Love Nation

گلگت بلتستان: مفت سولر اسکیم کا ڈراپ سین، عوام میں تشویش

شگر ماہِ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں مستحق اور نادار خاندانوں کی مدد کے لیے بلتستان ریجن میں فلاحی سرگرمیاں جاری ہیں. پاک ایڈ ویلفیئر ٹرسٹ

ایک دور ،ایک وعدہ اور خواب. ثمینہ یونس چھوربٹ گانچھے

50% LikesVS
50% Dislikes

نوجوان اور وطن سے محبت . منظور نظرؔ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں