یہ کہانی صرف نوجوان لڑکیوں کے لیے ہے۔کچھ غلطیوں کی سزا عمر بھر بھگتنی پڑتی ہے۔
خودکشی کی کوشش
از قلم: طہٰ علی تابش بلتستانی
میرا نام علیزہ ہے اور لوگ مجھے پیار سے علیزی بولتے ہیں۔ آج کی میری کہانی ہر اس لڑکی کی کہانی ہے جو چھپ چھپ کر اپنی زندگی کسی شخص کے لیے تباہ کر دیتی ہے۔ جب میں سیکنڈ ایئر میں پڑھ رہی تھی، تبھی مجھے فیس بک سے ایک دوست ملا۔
اس کا تعلق بلوچستان سے تھا۔ دیکھنے میں وہ انتہائی شریف لڑکا تھا، اس کی ہر بات میں قرآن کی تلاوت اور احادیث کا حوالہ ہوتا تھا۔ یہ بات سچ ہے کہ اس نے مجھے کبھی دیکھنے کی ضد نہیں کی۔ بس اس کی بڑی خواہش تھی کہ کسی بھی طرح مجھ سے دوستی کرے۔ میں بار بار اسے کبھی سر تو کبھی بھائی بول دیتی، لیکن وہ اتنا اچھا تھا کہ اس کے بغیر میرا دن نہیں گزرتا تھا۔ نہ جانے کیوں اس نے میرے دل میں اپنا گھر بنا لیا تھا۔
دوسری جانب میرے اپنے خاندان کی بات کروں تو وہاں لڑکیاں موبائل دیکھ کر ہنس بھی لیں تو لوگ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
خیر، آخر کار میں نے جمشید پر بھروسہ کر ہی لیا۔ میری محبت اس کے لیے پاک تھی، مگر میں شاید اندھا اعتماد کرنے لگی تھی۔
دو سال ہماری دوستی چلتی رہی ، میں پہلے میسج کر دیتی، پھر جب گھر پر کوئی نہ ہوتا تو میں چھپ کر اسے کال کر دیتی تھی۔ اس کی باتوں میں اتنا جادو تھا کہ سننے والا آنکھیں بند کر کے اس پر اعتماد کر لیتا۔
ہماری دوستی اتنی پختہ ہو گئی کہ اب ہم ویڈیو کال کرنے لگے۔ میں سی ایس ایس کی تیاری کے بہانے الگ کمرے میں بیٹھنے لگی اور عموماً رات بارہ بجے ہماری روز ویڈیو کال پر بات ہوتی۔ وہ میری آنکھوں کی بڑی تعریف کرتا اور میں بھی آہستہ آہستہ بہکنے لگی ۔ اب میں دوپٹہ پہننا چھوڑ دیا تھا۔ بار بار اس کے سامنے اپنے بال سنوارنے لگتی اور وہ میری تعریف کرنے لگتا جس پر مجھے بہت اچھا لگتا۔
وقت گزرتا گیا اب ہمارے بیچ پردہ بھی ختم ہوتا گیا۔ میں اس نہج پر پہنچ گئی تھی کہ اس کے سامنے ایک نومولود بچی کی طرح بے ساختہ ہو جاتی۔ وہ مجھ سے ہر وہ کام کرواتا تھا جس کا میں نے کبھی سوچا تک نہ تھا، لیکن بھروسہ اتنا تھا کہ میں وہی کرتی جو وہ کہتا۔
ایک دن میں نے اس سے کہا کہ اب یہ سب کچھ ہو چکا ہے تو کیوں نہ اب شادی کر لیں۔ شادی کا سننا تھا کہ میں نے اس کا وہ چہرہ دیکھا جس کے بارے میں کبھی سوچا تک نہ تھا۔ وہ مکر گیا اور کچھ دن بعد مجھے میری ویڈیوز کی اسکرین ریکارڈنگ بھیجنے لگا۔ وہ مجھے بلیک میل کر رہا تھا اور میں بلیک میل ہو رہی تھی۔ اس نے کہا کہ اگر تم میرے کہے کے مطابق نہیں رہو گی تو تمہاری یہ ساری ویڈیوز فیس بک پر اپ لوڈ کر دوں گا۔ میں روز روتی ہوئی اس کی ہوس پوری کرتی رہی۔ میں بدنامی سے بہت ڈر گئی تھی۔ میرے پاس خاموشی کے علاوہ دوسرا کوئی آپشن نہ تھا۔
ایک دن مجھ سے اتنا برداشت نہ ہوا کہ میں نے خود کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ گھر میں کچھ خاص نہ تھا، بس پیناڈول کے دو تین پتے ہی دستیاب تھے، میں نے وہ کھا لیے۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ میں بیہوش ہو گئی، اور میری بہن نے مجھے ہسپتال لے کر گئی۔ میں خیریت سے بچ گئی۔ میں نے موبائل توڑ دیا، سِم پھینک دی۔
گھر والوں کو اتنا بتایا کہ سی ایس ایس میں فیل ہو گئی تھی، اسی ڈیپریشن میں یہ سب کچھ کر بیٹھی۔ گھر والوں نے بہت پیار دیا، بہت حوصلہ دیا۔
لیکن دوا نے اب اپنے اثرات دکھانے شروع کر دیے۔ اب میرا پورا چہرہ خراب ہو گیا ہے، عجیب قسم کے داغ پڑ گئے ہیں۔ کبھی دانے نکل آتے ہیں تو کبھی پیپ۔ میرے چہرے کو دیکھنے کے لیے لوگ منتیں مانگا کرتے تھے، اب مجھے خود اپنے چہرے سے گھن آنے لگتی ہے۔ لوگ میرے خاندان کو دیکھ کر رشتہ لے کر آتے ہیں، لیکن میرا چہرہ دیکھ کر رشتہ منسوخ کر دیتے ہیں۔
مجھے خود سے بہت محبت ہے، اب میں مرنا نہیں چاہتی، لیکن میری زندگی کا وہ غلط فیصلہ اب مجھے ساری عمر بھگتنا پڑے گا۔
اب میں سکون میں ہوں، کیونکہ مجھے اس کی فیس بک آئی ڈی سے پتا چلا کہ جمشید کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے اور وہ عمر بھر کے لیے معذور ہو چکا ہے۔
ہم دونوں کو اپنے گناہوں کی سزا تو مل گئی، لیکن اس کا گناہ زیادہ تھا، اس لیے اسے زیادہ سزا بھی زیادہ ملی۔ اور پتا نہیں کیوں، مگر میں اس پر خوش ہوں۔
پس :
میں نے یہ سیکھا کہ زندگی بہت خوبصورت ہے، لیکن ہم اپنی ہی غلطیوں سے اسے تباہ کر دیتے ہیں۔
نوٹ:
اس کہانی کو اپنے عزیزوں میں ضرور شیئر کریں۔ اگر آپ انہیں کھل کر نہیں بتا سکتے، تو یہ کہانی انہیں بہت کچھ سکھا دے گی۔
column in urdu Young Girls
سکردو میں غیر معیاری کوکنگ آئل، مصالحہ جات اور ایل پی جی گیس کی فروخت کا انکشاف
گریجویشن کے بعد بندہ کریں تو کیا کرے. طہٰ علی تابش بلتستانی
دہشت گردی ، ریاستی چیلنج یا فکری شکست. سلیم خان




