رائٹرز کانفرنس، لاہور و اسلام آباد . آمینہ یونس، گلگت بلتستان
پانچ فروری 2026 کو لاہور کے انڈس ہال میں تخلیق کار انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام رائٹرز کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں لاہور کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں سے بھی اہلِ علم و قلم نے شرکت کی۔ اس خوبصورت پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد تخلیق کار انٹرنیشنل کے ہر دل عزیز تبصرہ نگار ڈاکٹر نواز کنول نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ پھر نعت رسول سے دلوں کو منور کیا گیا ۔اس کے بعد مدیر و منتظمِ اعلیٰ ارحم روحان صاحب کی زیرِ نگرانی تیرہ کتابوں کی رونمائی کی گئی، جن میں میری کتاب “خواب سے تعبیر تک” (کہانیوں کا مجموعہ) اور میری انتھالوجی کتاب بھی شامل تھی۔ رونمائی کے بعد اہلِ قلم میں ایوارڈز، میڈلز اور اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس پروگرام کی مہمانِ خصوصی محترمہ سیدہ منور جہاں صاحبہ تھیں، جو خصوصی طور پر امریکہ سے تشریف لائی تھیں۔ وہ اردو سے بے پناہ محبت رکھنے والی نہایت مہربان اور مشفق علمی و ادبی خاتون ہیں، ان سے ملاقات میرے لیے باعثِ مسرت رہی اور انہوں نے مجھے بہت سی دعاؤں سے نوازا۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر نگہت خورشید صاحبہ، ایڈووکیٹ محمود گیلانی صاحب سائرہ حمید تشنہ، ڈاکٹر پونم پروین، رشیدہ دستگیر، تسنیم وفا اور دیگر کئی شعراء و نثر نگار بھی اس پروگرام میں شریک تھے۔ تقسیمِ انعامات کے بعد مشاعرہ بھی منعقد ہوا اور یہ ایک شاندار، کامیاب اور یادگار پروگرام تھا جو شام پانچ بجے اختتام پذیر ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کا سارا کریڈٹ بانیِ تخلیق کار انٹرنیشنل ارحم روحان صاحب کو جاتا ہے۔ میں نے لاہور میں اپنی آنکھوں سے ان کی ساری محنت دیکھی، ہال کی سیٹنگ سے لے کر کتابوں اور ایوارڈز کی ترتیب اور نظامت تک وہ سب کچھ بغیر کسی مدد کے خود انجام دے رہے تھے، اور میں سوچ رہی تھی کہ اتنی محنت کے بعد انہیں آخر کیا حاصل ہوتا ہے، شاید خدمتِ ادب ہی ان کا اصل سرمایہ ہے۔
نو فروری 2026 ہی میں ایک اور کانفرنس اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کے شیخ ایاز ہال میں منعقد ہوئی، جس میں بھی کثیر تعداد میں اہلِ قلم شریک ہوئے۔ یہاں بھی متعدد کتابوں کی رونمائی کے ساتھ ایوارڈز، میڈلز اور اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس پروگرام کی مہمانِ خصوصی بھی محترمہ سیدہ منور جہاں صاحبہ تھیں جبکہ ڈاکٹر نواز کنول صاحب صدر اور فیاض وردگ صاحب بھی مہمان خصوصی تھے جو نہایت گریس فل شخصیت ہیں۔ یہ بھی ایک خوبصورت اور کامیاب پروگرام رہا۔ میں دل کی گہرائیوں سے ارحم روحان صاحب کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے ایسے شاندار ادبی پروگرام منعقد کیے اور مجھے بھی ان سے فیضیاب ہونے اور علمی و ادبی شخصیات سے ملنے کا موقع فراہم کیا۔ اہلِ علم سے ملاقات ایک روحانی مسرت عطا کرتی ہے۔ میرے ساتھ میری بہن کو بھی ان شخصیات سے ملنے کا موقع ملا خصوصاً فرحین چوہدری صاحبہ اور ڈاکٹر شیر علی صاحب سے، جن سے اس نے اپنی تعلیم اور جاب کے حوالے سے گفتگو کی اور انہوں نے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کروائی۔
اللہ اھل علم و ادب کی یہ محفلیں ہمیشہ آ باد رکھے آ مین
column in urdu Writers’ Conference in Lahore and Islamabad
یہ ناانصافی نہیں، ریاستی جرم ہے! یاور عباس عرف دیوانہ
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 پاکستان نے با آسانی امریکا کو شکست دیکر پچھلی ہار کا بدلہ لے لیا




