column in urdu Why Only Our Children 0

صرف ہمارے ہی بچے کیوں؟ طہٰ علی تابش بلتستانی
انتباہ!
یہ مضمون میں اپنی پوری ذمےداری کے ساتھ لکھ رہا ہوں، آخر تک ضرور پڑھیں۔
میں پچھلے کئی سالوں سے کچھ چیزوں پر بہت غور و فکر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ بہت سے اسکولوں میں جانے کا بھی اتفاق ہوا، جہاں ٹیچرز بہترین ہیں۔
لیکن اسکردو کے تقریباً تمام اسکولوں کے بچوں میں اخلاقیات کا بہت فقدان پایا جاتا ہے، خاص کر پرائیویٹ اداروں کے بچوں میں۔ یہ وہی معاشرہ ہے جہاں چند سال پہلے ایک استاد کو روحانی باپ یا ماں کی نظر سے دیکھتے تھے۔ اب وہی استاد یا استانی بچوں کو اپنے نوکر یا نوکرانی جیسے لگنے لگے ہیں۔
بچوں سے یہ بارہا سننے کو ملتا ہے کہ ہم فیس دیتے ہیں، ٹیچرز ہم پر کوئی احسان نہیں کر رہے۔
اور ہر دفعہ استاد ہی غلط ہوتا ہے۔
آخر ایسا کیوں؟؟؟
یہ فیس کا بھوت بچوں کے ذہنوں میں کس نے ڈالا ہے؟ اور بڑے مزے کی بات، کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کی فیسوں میں سے کتنے روپے استاد کو ملتے ہیں؟
خیر!!
یہاں ایک نامور اسکول ہے جو خاص کر چھوٹے بچوں کے لیے بنا ہوا ہے ، اگر میں غلط نہ ہوں تو وہ ہر بچے سے ماہانہ چھ ہزار روپے لیتا ہے جبکہ اسی اسکول کے اساتذہ کی تنخواہ صرف بارہ ہزار روپے ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی پیسے کدھر جا رہے ہیں؟؟
یہ صرف ایک اسکول کی نہیں بلکہ ہر اسکول کی کہانی ہے۔
میرا اصل مدعا یہ ہے کہ ہمارے بھیج ایک گروہ ایسے بھی ہیں جو کہیں نہ کہیں بچوں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر خود فائر کر رہے ہیں۔ جو ہر دفعہ بچوں کو اکساتے ہیں، جو بچوں کے ذہنوں کو خراب کر رہے ہیں، جو بچوں کو ہر غلیظ سے غلیظ کام کے لیے اکسا رہے ہیں۔
کبھی بچوں کو سڑک پر لے آتے ہیں تو کبھی بچوں کو سوشل میڈیا پر چند سکرپٹ کے ساتھ اسکرین پر لے آتے ہیں۔ ہر دفعہ ایسا دکھاتے ہیں کہ صرف وہی بچوں کے خیرخواہ ہیں، باقی سب ان کے دشمن ہیں۔
یہ کون لوگ ہیں جو آپ کی پوری نسل کو تباہ کر رہے ہیں؟؟
آپ کے اسکولوں کے بچوں میں تعلیم سے زیادہ سفارشات، بیک سپورٹرز اور ایک کال کی تھیوری کس نے مرتب کی ہے؟؟
خدارا اپنے دشمن کا تعین خود کریں۔ انہیں سامنے لائیں، میرے خیال میں بارہ سال کے بچوں کا گندی سیاست، بیک بلیک سپورٹرز، احتجاج اور ایک فون کال سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔
بچے پڑھائی پر کم عمران خان، نواز شریف، اسد عمر، بابر اعظم، اور طلبہ انقلابی تحریکوں کے بارے میں زیادہ بحث کرتے نظر آتے ہیں۔
پوری دنیا کے مسائل بچے کو معلوم ہیں جبکہ ان کے بیگ میں کتابیں نہیں ہیں، ہوم ورک کر کے نہیں آتے۔
کچھ بچے تو ایسے بھی ہیں کہ لگتا ہے اپنی پوری زندگی میں ایک دفعہ بھی قلم نہیں اٹھایا ہو۔
اب تو ہر احتجاجی ویڈیو میں بزرگوں سے زیادہ بچے نظر آتے ہیں، حتیٰ کہ انہیں پتا بھی نہیں ہوتا کہ احتجاج کس لیے ہو رہا ہے۔
میں نے جاپان، چین، امریکہ، اور یورپ کے مختلف ممالک اور حتیٰ کہ ترکی اور افغانستان میں بھی کسی بھی عوامی احتجاج کی ویڈیوز میں بچوں کو نہیں دیکھا۔۔۔
لیکن صرف ہمارے ہاں ہی کیوں؟؟؟
کون ہے جو پیٹھ پیچھے بیٹھ کر بچوں کے ذہنوں کو خراب کر رہا ہے؟
کون ہے وہ مافیاز جو آپ کی پوری نسل کو میٹھا زہر دے رہا ہے؟؟؟
کون ہے وہ تنظیم جو بچوں کے حقوق کا نعرہ لگا کر انہیں چند سکرپٹ کے ساتھ اسکرین پر لے آ رہی ہے؟؟؟
ہمارا دشمن وہ نہیں جو بارڈر پار بیٹھا ہو جبکہ ہمارا اصل دشمن وہ ہے جو ہمارے ہی روپ میں ہمارے آنے والی نسلوں کو تباہ کر رہا ہے اور ان کے ذہنوں کو خراب کر رہا ہے اور انہیں اپنی اصل راہ سے ہٹا رہا ہے۔
تھوڑا نہیں، بہت سوچنے کی ضرورت ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Why Only Our Children

اہم خبروں‌کی لنک اور کالمز کی لنک ملاحظہ فرمائیں

شگر ، جی بی فوڈ ایکٹ 2022 پر سخت عملدرآمد، مختلف بازاروں میں کریک ڈاؤن

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، احساس پروگرام اور علماۓ کرام کی ذمہ داری. سید ہ سکینہ عراقی ایڈوکیٹ

اقتدار میں آکر پایو روڈ کی تعمیر ،دریا کو چینلائز کر کے اراضی کو عوام میں تقسیم اور پن بجلی گھروں کی تعمیر کر شگر کے عوام کو تحفہ دیں گے ۔ خالد خورشید کا ایڈوکیٹ حسن شگری سے ملاقات

50% LikesVS
50% Dislikes

صرف ہمارے ہی بچے کیوں؟ طہٰ علی تابش بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں