ویلنٹائن ڈے: اخلاقی اقدار کا قاتل. سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
ہر سال فروری کا چودہواں دن دنیا کے زیادہ تر ممالک میں محبت کے رنگ میں رنگا جاتا ہے۔ کارڈز، گلاب، چاکلیٹس، اور مہنگے تحائف کا بازار عروج پر ہوتا ہے، اور نوجوانوں سے لے کر بڑوں تک سب اس دن کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ لیکن کیا یہ دن واقعی محبت کی عظمت کا مظہر ہے، یا ہمارے معاشرتی و اخلاقی اقدار کے لیے ایک خطرہ؟
ویلنٹائن ڈے کی تجارتی بنیادیں واضح ہیں۔ کمپنیاں اور مارکیٹنگ کی دنیا نے محبت کو ایک مصنوعات میں بدل دیا ہے۔ محبت، جو اصل میں عزت، اعتماد، اور جذبات کی گہری بنیادوں پر قائم ہوتی ہے، اب قیمت اور دکھاوے کی چیز بن کر رہ گئی ہے۔ یہ دن اکثر نوجوانوں میں ایک غلط فہمی پیدا کرتا ہے کہ محبت صرف تحائف اور ظاہری اظہار سے جیتی جا سکتی ہے، جبکہ سچی محبت صبر، احترام اور قربانی کی تعلیم دیتی ہے۔
مزید برآں، یہ دن بعض اوقات معاشرتی و مذہبی حدود کو بھی کمزور کرتا ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں تعلقات میں اخلاقی قدروں کا تحفظ ضروری ہے، وہ دن بعض نوجوانوں کو بے احتیاطی کی طرف مائل کرتا ہے۔ رومانوی تعلقات کے بارے میں حقیقت پسندانہ شعور کی جگہ، صرف ظاہری رومانویت کو فروغ دینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
اس تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ویلینٹائن ڈے بعض پہلوؤں سے اخلاقی اقدار کا قاتل بن سکتا ہے۔ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جسے معاشرتی و اخلاقی اصولوں کے دائرے میں پروان چڑھانا چاہیے۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو سچائی، احترام اور وفاداری کی تعلیم دیں، تو محبت حقیقی معنوں میں خوبصورت اور بامعنی بن سکتی ہے، نہ کہ صرف ایک تجارتی تماشا۔
لہٰذا، محبت کا جشن منانا اچھی بات ہے، لیکن اسے اپنے اقدار کے ساتھ متوازن رکھنا ضروری ہے۔ محبت کی قیمت چاکلیٹ یا گلاب نہیں، بلکہ کردار، عزت اور اخلاص ہے۔
column in urdu Valentine’s Day Killer Moral Value
تعلیم یا تجارت؟ گلگت بلتستان کے نجی سکولوں کا کڑوا سچ. یاسر دانیال صابری
صرف ہمارے ہی بچے کیوں؟ طہٰ علی تابش بلتستانی




