نعیمہ حسین انتقال کر گئی، فرسٹ ایئر کے رزلٹ میں کم نمبرز نے ایک طالبہ کی خوابون کو ہی نہیں اس کے سانسوں کو بھی خاموش کر دیا. ابوذر شگری
اناللہ انا الیہ راجعون
“نعیمہ حسین انتقال کر گئی”
افسوس فرسٹ ایئر کے رزلٹ میں کم نمبرز نے ایک طالبہ کی خوابون کو ہی نہیں اس کے سانسوں کو بھی خاموش کر دیا.
14 فروری کی رات ایک مریض کی عیادت کے سلسلے راقم آر ایچ کیو ہسپتال سکردوکے آئی سی یو پہنچا تھا۔ رات کے آخری پہر ہسپتال کی راہداریوں میں وہی مخصوص خاموشی تھی، مشینوں کی بیپ بیپ اور دھیمی سرگوشیاں… مگر مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس رات ایک ایسی کہانی سننے کو ملے گی جو دل پر نقش ہو جائے گی۔
آئی سی یو کے ایک بستر پر ایک بچی زندگی اور موت کے درمیان معلق تھی۔ معصوم چہرہ، مدھم سانسیں، اور آنکھوں میں ایک ادھورا خواب۔ افسوس… نعیمہ حسین ڈاکٹر نہ بن سکی اور دنیا سے رخصت ہو گئی۔ اللہ مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ عنایت کرے اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔ آمین
نعمہ حسین اسوہ گرلز پبلک اسکول اسکردو میں سیکنڈ ایئر کی طالبہ تھی اور تعلق گول سکردو سے تھا۔ اس کی سب سے بڑی خواہش ڈاکٹر بننا تھی۔ سفید کوٹ اس کا خواب تھا، اور اپنے والد کا نام روشن کرنا اس کی تمنا۔ مگر پچھلے سال اس کے ابو کینسر کے باعث انتقال کر گئے۔ باپ کا سایہ سر سے اٹھ جائے تو بیٹی کے اندر ایک خلا ہمیشہ کے لیے رہ جاتا ہے۔ اس صدمے سے وہ ابھی سنبھلی بھی نہ تھی کہ فرسٹ ایئر میں کم نمبرز نے اس کے حوصلے توڑ دیے۔ اسے یوں محسوس ہونے لگا جیسے اس کا خواب اس سے چھن گیا ہو۔
ہسپتال میں موجود ڈاکٹروں میں سے ایک جناب ڈاکٹر اعجاز صاحب بھی تھے، جن کا تعلق گول سکردو سے تھا اور وہ نعیمہ حسین کے رشتہ دار بھی تھے۔ آئی سی یو میں نعیمہ کے بیڈ کے گرد بے بس کھڑے ڈاکٹرز اور عملے میں ڈاکٹر اعجاز میں شامل تھا۔ ان سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ نعیمہ پہلے بالکل نارمل تھی لیکن اسٹریس لینے کی وجہ سے وہ بیمار ہوگئی اور چند دنوں میں نوبت یہاں پہنچی کی وہ ہسپتال کے انتہائی نگہداشت میں وینٹیلیٹر پر پہنچ گئی۔ ڈاکٹر اعجاز نے بتایا مریضہ کا دل صرف پندرہ فیصد کام کر رہا ہے، جسم میں خون کی سپلائی درست نہ ہونے کے برابر ہے اور دونوں گردے تقریباً ناکارہ ہو چکے ہیں۔ وہ یہ بھی بتا رہے تھے کہ نعیمہ نے ان سے ڈاکٹر بننے کے حوالے سے سوالات بھی کیے تھے۔۔گویا آخری سانسوں تک وہ اپنے خواب سے جڑی رہی۔
آئی سی یو میں کام کرنے والے میرے ایک عزیز نے بتایا کہ جب شروع میں نعیمہ حسین کو آئی سی یو منتقل کیا گیا تو ان کی طبیعت کچھ بہتر ہوئی تھی۔ وہ عملے سے باتیں بھی کر رہی تھی، مگر بار بار ایک ہی جملہ دہرا رہی تھی کہ وہ ڈاکٹر نہ بن سکی۔ ایک ڈاکٹر نے پوچھا تو نعیمہ نے نم آنکھوں کیساتھ اپنی بیماری کے وجوہات یوں بیان کی تھی:
”میں ہاسٹل میں دو گھنٹے روتی رہی کیونکہ میرے نمبرز کم تھے۔ اور کچھ عرصہ قبل میرے والد بھی کینسر کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے۔ ہم چار بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔ میرا بھائی میرا بہت خیال رکھتا ہے، لیکن ابو کا بچھڑنا اور ان کا خواب پورا نہ کر سکنا مجھے بہت تکلیف دیتا ہے۔“
آج نعمہ حسین تو چلی گئی لیکن ہمیں جھنجھوڑ گئی ہے۔
کیا ایک امتحان اتنا بڑا ہو سکتا ہے کہ ایک زندگی سے بڑھ جائے؟
کیا امتحان میں حاصل کردہ نمبرز انسان کی قدر کا پیمانہ ہیں؟
کیا ہم نے اپنے بچوں کو انجانے میں یہ باور کرا دیا ہے کہ ناکامی ناقابلِ معافی جرم ہے؟
ایسے سانحات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ طلبہ و طالبات کی ذہنی صحت کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
حکومتی اور نجی تعلیمی اداروں کو چاہئے کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ ہر تعلیمی ادارے میں مستند ماہرِ نفسیات تعینات ہوں جہاں طلبہ بلا خوف و جھجھک اپنی بات کہہ سکیں۔ امتحانات سے قبل اسٹریس مینجمنٹ، ناکامی کو قبول کرنے اور خود اعتمادی بڑھانے کے سیشنز کرائے جائیں۔ اساتذہ کو یہ سکھایا جائے کہ وہ ڈپریشن یا شدید ذہنی دباؤ کی علامات پہچان سکیں اور بروقت رہنمائی فراہم کریں۔ طلبہ کو یہ باور کرایا جائے کہ ایک شعبہ یا ایک امتحان زندگی کا واحد راستہ نہیں ہوتا۔ گھروں میں غیر ضروری دباؤ کم کرنے کے لیے والدین کو شعور دیا جائے کہ بچوں کی جذباتی کیفیت کو سمجھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا ان کی تعلیمی کارکردگی۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ نوجوان دل نازک ہوتے ہیں۔
انہیں ڈانٹ سے زیادہ حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے، اور دباؤ سے زیادہ محبت کی۔
خواب ٹوٹ جائیں تو دوبارہ جُڑ سکتے ہیں،
مگر ایک جان چلی جائے تو واپس نہیں آتی۔
اللہ نعیمہ حسین کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ہمیں یہ سمجھ عطا کرے کہ ہمارے بچوں کی زندگی ان کے نمبروں سے کہیں زیادہ قیمتی ہے
column in urdu Student’s Dreams
صرف ہمارے ہی بچے کیوں؟ طہٰ علی تابش بلتستانی
شگر ، جی بی فوڈ ایکٹ 2022 پر سخت عملدرآمد، مختلف بازاروں میں کریک ڈاؤن
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، احساس پروگرام اور علماۓ کرام کی ذمہ داری. سید ہ سکینہ عراقی ایڈوکیٹ




