کھیل اور ثقافتی شناخت . سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
کھیل محض جسمانی مشق یا تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ وہ تہذیبوں کی یادداشت، معاشروں کی علامت اور قوموں کی ثقافتی شناخت کا آئینہ ہوتے ہیں۔ ہر خطہ اپنے مخصوص کھیلوں کے ذریعے نہ صرف اپنی جسمانی روایت کو زندہ رکھتا ہے بلکہ اپنی تاریخ، اقدار اور اجتماعی مزاج کو بھی نسل در نسل منتقل کرتا ہے۔ کھیل دراصل ثقافت کی وہ زبان ہیں جو بغیر ترجمے کے سمجھی جاتی ہیں اور جو قوموں کو اپنی جڑوں سے جوڑے رکھتی ہیں۔
تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر تہذیب نے اپنے ماحول، جغرافیہ اور سماجی ضروریات کے مطابق کھیل تخلیق کیے۔ صحراؤں میں گھڑ سواری اور تیراندازی نے فروغ پایا، زرعی معاشروں میں طاقت اور برداشت پر مبنی کھیل مقبول ہوئے، جبکہ ساحلی علاقوں میں پانی سے وابستہ کھیلوں نے جنم لیا۔ یوں کھیل کسی بھی معاشرے کے طرزِ زندگی کا عملی اظہار بن گئے۔ یہی وجہ ہے کہ کھیل کو سمجھنا دراصل اس معاشرے کی ثقافت کو سمجھنے کے مترادف ہے۔
برصغیر میں کبڈی، کشتی اور پولو جیسے کھیل محض مقابلے نہیں تھے بلکہ ثقافتی رسومات کا حصہ تھے۔ کبڈی میں سانس کا ضبط، جسمانی قوت اور اجتماعی حکمت شامل تھی، کشتی میں ضبطِ نفس اور استاد شاگرد کا تعلق مرکزی حیثیت رکھتا تھا، جبکہ پولو شاہی وقار اور عسکری مہارت کی علامت تھا۔ ان کھیلوں کے ذریعے معاشرے نے اپنے اقداری نظام کو زندہ رکھا۔ اسی طرح جاپان میں سومو، چین میں مارشل آرٹس اور یونان میں اولمپک مقابلے اپنی اپنی تہذیبوں کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔
کھیل ثقافتی شناخت کو اس وقت بھی مستحکم کرتے ہیں جب قومیں عالمی سطح پر خود کو متعارف کرواتی ہیں۔ اولمپکس یا عالمی کپ جیسے مقابلوں میں صرف کھلاڑی ہی نہیں اترتے بلکہ ان کے ساتھ ان کی تاریخ، لباس، روایات اور قومی بیانیہ بھی میدان میں آتا ہے۔ کسی قوم کا مخصوص کھیل اس کی پہچان بن جاتا ہے، جیسا کہ برازیل کے لیے فٹبال، نیوزی لینڈ کے لیے رگبی اور منگولیا کے لیے کشتی۔ یہ کھیل ان قوموں کے اجتماعی مزاج اور ثقافتی ورثے کی علامت بن چکے ہیں۔
تاہم جدید دور میں ثقافتی شناخت اور کھیل کے تعلق کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ عالمگیریت، میڈیا اور کمرشلائزیشن نے چند مخصوص کھیلوں کو عالمی غلبہ عطا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی اور دیسی کھیل زوال کا شکار ہو رہے ہیں۔ جب کوئی معاشرہ اپنے روایتی کھیلوں کو ترک کرتا ہے تو دراصل وہ اپنی ثقافتی یادداشت کا ایک حصہ کھو دیتا ہے۔ کھیلوں کا یہ زوال صرف جسمانی روایت کا خاتمہ نہیں بلکہ ثقافتی انقطاع کی علامت بھی ہے۔
کھیل اور ثقافتی شناخت کا رشتہ تعلیم سے بھی گہرا ہے۔ جب تعلیمی نصاب میں مقامی کھیلوں کو شامل نہیں کیا جاتا تو نئی نسل اپنے ہی ثقافتی ورثے سے بیگانہ ہو جاتی ہے۔ کھیل کے ذریعے بچوں کو اپنی تاریخ، اجتماعی اقدار اور سماجی ذمہ داریوں کا شعور دیا جا سکتا ہے، مگر جب نصاب صرف درآمد شدہ کھیلوں تک محدود ہو جائے تو ثقافتی شناخت کمزور پڑ جاتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کھیل ثقافت کو جامد نہیں رکھتے بلکہ اسے ارتقا کا موقع دیتے ہیں۔ روایتی کھیل وقت کے ساتھ نئی شکلیں اختیار کرتے ہیں، مگر ان کی روح برقرار رہتی ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب روح ہی ختم ہو جائے اور کھیل محض نقالی بن کر رہ جائیں۔ ثقافتی شناخت اسی وقت زندہ رہتی ہے جب کھیل اپنے مقامی پس منظر سے جڑے رہیں۔
ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ کھیل کو ثقافتی ورثہ سمجھ کر اس کی حفاظت کریں۔ دیسی کھیلوں کی سرپرستی، مقامی سطح پر مقابلوں کا انعقاد، میڈیا میں نمائندگی اور تعلیمی اداروں میں شمولیت کے ذریعے کھیل اور ثقافت کے رشتے کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ یہ محض کھیلوں کی بقا کا سوال نہیں بلکہ قومی شناخت کے تسلسل کا مسئلہ ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کھیل وہ آئینہ ہیں جن میں قومیں خود کو پہچانتی ہیں۔ جو معاشرہ اپنے کھیل بھلا دیتا ہے وہ آہستہ آہستہ اپنی شناخت بھی کھو دیتا ہے۔ کھیل اور ثقافتی شناخت کا رشتہ اگر مضبوط ہو تو قومیں نہ صرف جسمانی طور پر صحت مند رہتی ہیں بلکہ فکری اور تہذیبی طور پر بھی باوقار انداز میں دنیا کے سامنے اپنا مقام برقرار رکھتی ہے
کھیل اور ثقافتی شناخت . سلیم خان
column in urdu Sports and Cultural Identity
0



