column in urdu Social Media in the Global Landscape 0

عالمی منظرنامے میں سوشل میڈیا ترقی کا زینہ یا زوال کی دہلیز . یاسر دانیال صابری
آج کی دنیا میں اگر کوئی چیز خاموشی سے مگر گہرائی کے
ساتھ انسانی زندگی میں سرایت کر چکی ہے تو وہ سوشل میڈیا ہے۔ یہ محض ایک ٹیکنالوجی نہیں رہا بلکہ ایک طرزِ زندگی بن چکا ہے۔ صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات سونے تک انسان کسی نہ کسی اسکرین سے جڑا رہتا ہے۔ خبریں ہوں، رشتے ہوں، خیالات ہوں یا جذبات، سب کا اظہار اب ڈیجیٹل دنیا میں ہونے لگا ہے۔ ایسے میں یہ سوال خود بخود جنم لیتا ہے کہ عالمی منظرنامے میں سوشل میڈیا انسانیت کے لیے ترقی کا زینہ ہے یا زوال کا دہلیز۔
سوشل میڈیا نے سب سے پہلے انسان کے رابطے کے تصور کو بدل دیا۔ کبھی کسی اپنے کی خیریت جاننے کے لیے خط لکھا جاتا تھا، پھر فون آیا، اور اب ایک اسٹیٹس یا پیغام کافی سمجھا جاتا ہے۔ دنیا سمٹ کر ایک اسکرین میں آ گئی ہے۔ ایک ملک میں بیٹھا انسان دوسرے ملک کے حالات پر رائے دیتا ہے، خوشی اور غم میں شریک ہوتا ہے اور خود کو عالمی برادری کا حصہ سمجھنے لگتا ہے۔ بظاہر یہ ایک مثبت تبدیلی ہے، کیونکہ اس نے فاصلے کم کیے اور انسان کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا دعویٰ کیا۔
تعلیم کے میدان میں سوشل میڈیا نے وہ سہولتیں فراہم کیں جن کا تصور ماضی میں مشکل تھا۔ آج علم کسی خاص طبقے یا ادارے کی جاگیر نہیں رہا۔ ویڈیوز، مضامین اور آن لائن مباحث نے سیکھنے کے دروازے سب کے لیے کھول دیے ہیں۔ ایک عام طالب علم اب مہنگی فیسوں کے بغیر بھی بڑے اساتذہ سے سیکھ سکتا ہے۔ اسی طرح تحقیق، آگاہی اور معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے۔ یہ سب ترقی کی واضح علامتیں ہیں۔
سوشل میڈیا نے معاشی میدان میں بھی نئی راہیں پیدا کیں۔ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار ملا، چھوٹے کاروبار عالمی منڈی تک پہنچے اور صلاحیت کو پہچان ملنے لگی۔ اب کسی کو اپنی بات کہنے کے لیے بڑے پلیٹ فارم یا سرمایہ دار کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ آزادی بظاہر خوش آئند ہے، کیونکہ اس نے مواقع کو عام انسان تک پہنچایا۔
سیاسی اور سماجی شعور کے حوالے سے بھی سوشل میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ عوام اب خاموش تماشائی نہیں رہے۔ حکومتی فیصلوں پر تنقید، ناانصافی کے خلاف آواز اور مظلوموں کی حمایت سوشل میڈیا کے ذریعے ممکن ہوئی۔ کئی بار ایسا ہوا کہ ایک عام فرد کی آواز عالمی توجہ حاصل کر گئی۔ یہ وہ پہلو ہے جو سوشل میڈیا کو ترقی کا زینہ ثابت کرتا ہے۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ اتنا ہی گہرا اور تشویشناک ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں آواز دی، وہیں شور بھی پیدا کیا۔ معلومات کی بھرمار نے سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کو مشکل بنا دیا۔ افواہیں، جعلی خبریں اور من گھڑت کہانیاں حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں۔ لوگ بغیر سوچے سمجھے ہر بات آگے بڑھا دیتے ہیں، جس کا نتیجہ سماجی انتشار، نفرت اور غلط فہمیوں کی صورت میں نکلتا ہے۔
سوشل میڈیا کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کی سوچ کو آہستہ آہستہ سطحی بنا رہا ہے۔ گہرے مطالعے اور سنجیدہ مکالمے کی جگہ مختصر ویڈیوز اور سرسری معلومات نے لے لی ہے۔ توجہ کا دورانیہ کم ہو رہا ہے اور صبر نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ ہر چیز فوری چاہیے، چاہے وہ خبر ہو یا رشتہ۔
ذہنی صحت پر اس کے اثرات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سوشل میڈیا نے ایک ایسی دنیا دکھائی ہے جو حقیقت سے زیادہ حسین نظر آتی ہے۔ ہر شخص خوش، کامیاب اور مطمئن دکھائی دیتا ہے۔ اس مصنوعی خوشی کو دیکھ کر عام انسان خود کو کمتر محسوس کرنے لگتا ہے۔ احساسِ کمتری، بے چینی اور تنہائی جیسے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر نوجوان نسل اس کا شکار ہے۔
خاندانی اور سماجی رشتوں میں بھی ایک خاموش دراڑ پڑ چکی ہے۔ لوگ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہیں۔ گفتگو کم اور موبائل زیادہ ہو گیا ہے۔ وہ تعلقات جو وقت، توجہ اور قربت مانگتے تھے، اب اسکرین کے پیچھے دب کر رہ گئے ہیں۔ انسان سوشل میڈیا پر تو سینکڑوں دوست رکھتا ہے، مگر حقیقی زندگی میں تنہائی محسوس کرتا ہے۔
وقت کا ضیاع سوشل میڈیا کا ایک اور بڑا نقصان ہے۔ گھنٹوں اسکرولنگ، بے مقصد مواد اور لاحاصل بحثیں انسان کی توانائی کو ختم کر دیتی ہیں۔ یہ وقت اگر مطالعے، خود سازی یا رشتوں پر صرف ہو تو زندگی بہتر ہو سکتی ہے، مگر بدقسمتی سے ایسا کم ہی ہوتا ہے۔
عالمی سطح پر دیکھا جائے تو ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے ضابطے، آگاہی اور شعور موجود ہے، جبکہ ترقی پذیر معاشروں میں یہ زیادہ تر سنسنی، سیاست اور تفریح تک محدود ہے۔ یہاں جذبات غالب آ جاتے ہیں اور عقل پیچھے رہ جاتی ہے، جس کا فائدہ اکثر منفی عناصر اٹھاتے ہیں۔
اصل سوال یہی ہے کہ قصور سوشل میڈیا کا ہے یا ہمارے استعمال کا۔ حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ اچھا ہے نہ برا۔ یہ ایک آئینہ ہے جو ہمیں ہمارا ہی چہرہ دکھاتا ہے۔ اگر ہمارے خیالات مثبت ہیں تو یہ مثبت نتائج دے گا، اور اگر نیت منفی ہے تو یہی ذریعہ زوال کا سبب بنے گا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ یہ ترقی کا زینہ بھی بن سکتا ہے اور زوال کا دہلیز بھی۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اسے شعور، ذمہ داری اور توازن کے ساتھ استعمال کرتے ہیں یا جذبات، لاپرواہی اور خودنمائی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اگر ہم نے ہوش مندی نہ دکھائی تو ممکن ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں جا پہنچیں جہاں رابطے تو ہوں گے، مگر تعلق نہیں؛ آوازیں تو ہوں گی، مگر سچ نہیں؛ اور ہجوم تو ہوگا، مگر انسان تنہا ہوگا۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Social Media in the Global Landscape

شہزادہ علی اکبرؑ ہمارے لیے نمونۂ عمل، شبیر حسین کمال

آخری بار اپنی ماں کے قبر پر جا کر رویا تھا، میں روتا نہیں ہوں، شہزاد سلطان بلوچ

سابق وزیر اعلی خالد خورشید خان کا صدر پریس کلب شگر عابد شگری سے تعزیتی رابطہ، والدہ کے انتقال پر دلی افسوس

50% LikesVS
50% Dislikes

عالمی منظرنامے میں سوشل میڈیا ترقی کا زینہ یا زوال کی دہلیز ،. یاسر دانیال صابری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں