بلھے شاہ کی سر زمین کا روشن چراغ۔محمد صدیق بزمی. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر، گوجرہ پاکستان
قصور علم و ادب کی سرزمین ہے، جہاں صوفی شاعر بلّھے شاہ کے بعد بھی فکری چراغ روشن ہوتے رہے ہیں۔ اسی شہر میں 16 اکتوبر 1991ء کو پیدا ہونے والے محمد صدیق بزمی نے اپنی شخصیت میں معلم کی سنجیدگی، محقق کی جستجو اور ادیب کی لطافت کو یکجا کیا۔ اُن کا تعلق گاؤں شیخ بھاگو سے ہے، جہاں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور یہیں ان کے دل میں تحصیل علم کے لیے دلچسپی کی تحریک پیدا ہوئی۔
میٹرک کا امتحان شہر قصور کے معروف ادارے علامہ اقبال کیڈٹ ہائی اسکول سے اعلیٰ نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ بی اے کی ڈگری گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج قصور سے حاصل کی، جبکہ ایم اے اُردُو پنجاب یونیورسٹی لاہور اور ایم اے پولیٹیکل سائنس سرگودھا یونیورسٹی سے شاندار نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ اس وقت وہ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم فل اُردُو ادب کے مراحل سے گزر رہے ہیں، جو اُن کی تحقیقی سنجیدگی اور ادبی وابستگی کا ثبوت ہے۔
تدریسی میدان میں محمد صدیق بزمی نے قصور کے مختلف نجی تعلیمی اداروں، آئی ایل ایم کالج، پیاس کالج اور کنکورڈیا کالج، میں لیکچرار کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں بلّھے شاہ ایجوکیشنل اینڈ کامرس اکیڈمی قائم کی، جہاں بطور پرنسپل وہ طلبہ کی تعلیمی و فکری تربیت کے لیے کوشاں ہیں۔ اُن کی تدریس کا مقصد صرف نصابی تعلیم نہیں بلکہ طلبہ میں سوچنے، سوال کرنے اور خود اعتمادی پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔
ادب کے شعبے میں بھی محمد صدیق بزمی فعال ہیں۔ اُردُو، فارسی، پنجابی اور انگریزی ادب میں اُنھیں گہرا شغف ہے، اور وہ مختلف قومی و بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ادبی تحریریں لکھ کر علم و فن کا فروغ کر رہے ہیں۔ اُن کی تخلیقات میں فکری پختگی، جمالیاتی حسن اور ثقافتی شعور کی جھلک واضح ہے۔ اسی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ملک کے مختلف ادبی حلقوں کی جانب سے سینکڑوں اسناد اور اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔
قصور کے تعلیمی و ادبی منظرنامے میں محمد صدیق بزمی کی حیثیت ایک ایسے معلم و ادیب کی ہے جو روایت سے جڑا ہوا ہے اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے بھی باخبر ہے۔ اُن کا تدریسی و ادبی سفر اس بات کی روشن مثال ہے کہ علم و ادب کا حقیقی مقصد معاشرے میں شعور، فکری وسعت اور تخلیقی اثرات پیدا کرنا ہے۔
یوں محمد صدیق بزمی اُس چراغ کے مانند ہیں جو بُلّھے شاہ کے دیس میں عشقِ علم کی آبیاری کا ضامن ہے، ایسا چراغ جو خود کو جلاتے ہوئے دوسروں کے دل منور کرتا ہے۔ اُن کی راہ میں نہ نمود کی خواہش ہے نہ صلے کی طلب، بس حق کی جستجو اور معرفت کی خوشبو ہے جو خاموشی سے پھیلتی چلی جاتی ہے، یہی اہلِ دل کا طریق ہے کہ وہ لفظ کو ذکر اور علم کو عبادت بنا دیتے ہیں۔ ایسے لوگ وقت کی گرد میں گم نہیں ہوتے بلکہ آنے والی نسلوں کے شعور میں چراغ بن کر جلتے رہتے ہیں
بلھے شاہ کی سر زمین کا روشن چراغ۔محمد صدیق بزمی. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر، گوجرہ پاکستان
column in urdu Shining Light of Bulleh Shah’s Land
کھیل اور ثقافتی شناخت . سلیم خان




