شہزادہ علی اکبرؑ ہمارے لیے نمونۂ عمل، شبیر حسین کمال
شہزادہ علی اکبرؑ امام حسینؑ کے فرزند تھے۔ آپؑ چہرے، بات چیت اور اخلاق میں رسولِ خدا ﷺ سے بہت زیادہ مشابہ تھے۔ جب بھی لوگ رسولِ خداؐ کو یاد کرنا چاہتے تو علی اکبرؑ کو دیکھتے۔ یہ بات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ آپؑ کا کردار کتنا بلند تھا۔کربلا کے میدان میں حضرت علی اکبرؑ نے حق اور باطل کے درمیان فرق کو واضح کر دیا۔ آپؑ نے اپنے امام، امام حسینؑ کی مکمل اطاعت کی اور ہر قدم پر ان کی رضا کو مقدم رکھا۔ میدان میں جانے سے پہلے امامؑ سے اجازت لینا ہمیں سکھاتا ہے کہ دین میں نظم، ادب اور قیادت کی پیروی کتنی ضروری ہے۔حضرت علی اکبرؑ جوان تھے، لیکن ان کی سوچ بہت پختہ تھی۔ دنیا کی رنگینیوں کے بجائے انہوں نے حق کا راستہ اختیار کیا۔ آپؑ کی جوانی پاکیزگی، غیرت اور ایمان کی مثال تھی۔ آج کے نوجوان اگر علی اکبرؑ کو اپنا نمونہ بنا لیں تو بہت سی برائیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔آپؑ نہ صرف بہادر تھے بلکہ بااخلاق بھی تھے۔دشمن کے سامنے بھی حق بات کہی اور ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہے۔ آخرکار آپؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔شہزادہ علی اکبرؑ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کے راستے پر چلنے کے لیے عمر نہیں بلکہ ایمان چاہیے۔اگر ہم سچائی، قربانی، اطاعتِ امام اور اچھے اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہم بھی ایک بہتر انسان اور بہتر معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
یہی پیغامِ کربلا ہے اور یہی علی اکبرؑ کا راستہ ہے
Shahzada Ali Akbar (A.S.): An Ideal Model for Humanity
>نصاب میں کھیل کی حیثیت ، سلیم خان
آخری بار اپنی ماں کے قبر پر جا کر رویا تھا، میں روتا نہیں ہوں، شہزاد سلطان بلوچ




