column in urdu Ramadan 0

رمضان. آمینہ یونس بلتستانی
ہر طرف نور کا عالم چھایا ہوا ہے فضا نغمہ سرا ہے اور زمین خوشی سے جھوم رہی ہے کیونکہ ماہِ رمضان کی آمد ہے
یہ اللہ تعالیٰ کا محبوب مہینہ ہے جس کے بارے میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔ اس مبارک مہینے میں افطاری کے وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خاص رحمت فرماتا ہے۔ اس مہینے میں بوڑھے اور جوان تو روزے رکھتے ہی ہیں مگر بچوں کا شوق بھی الگ ہی ہوتا ہے، وہ گھر والوں سے ضد کر کے روزہ رکھتے ہیں۔ روزہ صرف کھانے پینے سے رک جانے کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کو تقویٰ، صبر، برائیوں سے دوری اور احساسِ ہمدردی کا درس دیتا ہے۔ کوئی بھی مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا غم انسان اس وقت تک ان کی حقیقت نہیں جان پاتا جب تک خود انہیں سہہ نہ لے۔ روزہ انسان کو اللہ تعالیٰ سے محبت، اپنے نامۂ اعمال میں نیکیوں کے اضافے کے ساتھ بھوکے پیاسے لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا درس بھی دیتا ہے۔ یوں رمضان ہر مسلمان کے لیے خوش آئند مہینہ ہے جس میں شبِ قدر جیسی عظیم رات بھی ہے جس میں کی گئی عبادت، صدقات اور تلاوت ایک ہزار مہینوں سے بہتر قرار دی گئی ہے اور یہ خوش قسمت رات مسلمانوں کو عطا کی گئی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ رمضان جہاں بے شمار جسمانی، روحانی اور اخروی خیر کا سبب بنتا ہے وہیں یہ مہینہ کاروباری طبقے کے لیے بھی منافع کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ سننے میں آتا ہے کہ دیگر ممالک میں کاروباری طبقہ ماہِ رمضان میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کر دیتا ہے تاکہ ہر طبقہ آسانی سے برکتوں کا یہ مہینہ گزار سکے اور خود بھی دوہرا اجر حاصل کرے، ایک روزے کی برکت اور دوسرا انسانوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کا ذریعہ لیکن پاکستان میں صورت حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ جو چیز سو روپے میں ملتی ہے وہ رمضان میں دو سو تک پہنچ جاتی ہے، جو دودھ پاؤڈر پندرہ سو میں ملتا ہے وہ دو ہزار ہو جاتا ہے، پھلوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں، کپڑے بھی مہنگے ہو جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کاروباری طبقہ رمضان میں دوہرا فائدہ حاصل کر رہا ہے، اللہ کو راضی کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے بینک بیلنس میں اضافہ بھی تاکہ ادھوری خواہشات اسی مہینے کے طفیل پوری کی جا سکیں۔ یہاں ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ بحیثیت انسان ہم کہتے ہیں دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں تو کیا بحیثیت مسلمان رمضان میں یہ اصول کاروباری طبقے پر لاگو نہیں ہوتا اور ہمارا ضمیر کہیں سو تو نہیں جاتا؟

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Ramadan

ہماری اخلاقی زمہ داری اور سستی شہرت کی دوڈ. یاسر دانیال صابری

معمار قوم پریشان. ریٹائرمنٹ کے خواب ادھورے. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر، گوجرہ پاکستان

باپردہ بچی نے فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی تیسری منزل سے چھلانگ لگائی تھی وہ اللہ کو پیاری ہوگئی ہے ، والدین میڈیکل کالج پہ الزام لگا رہے ہیں کہ انہوں نے بچی کو مارا ہے

50% LikesVS
50% Dislikes

رمضان. آمینہ یونس بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں