column in urdu Private Schools in Gilgit Baltistan 0

تعلیم یا تجارت؟ گلگت بلتستان کے نجی سکولوں کا کڑوا سچ. یاسر دانیال صابری
آج لائن ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان ایک نہایت اہم اور سنگین مسئلے کی جانب عوام اور حکامِ بالا کی توجہ مبذول کرانا چاہتی ہے۔ یہ مسئلہ صرف فیسوں میں اضافے کا نہیں بلکہ انصاف، قانون اور انسانی وقار کا مسئلہ ہے۔ یہ سوال صرف والدین کا نہیں بلکہ ان اساتذہ کا بھی ہے جو اپنی زندگیاں علم کی شمع جلانے میں گزار دیتے ہیں مگر بدلے میں انہیں وہ احترام اور معاوضہ نہیں ملتا جس کے وہ حق دار ہیں۔
گلگت بلتستان کے نجی سکولوں میں حالیہ مہینوں کے دوران فیسوں میں 30 فیصد سے لے کر 40 فیصد بلکہ بعض اداروں میں 50 فیصد تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ بڑے بڑے نامی گرامی تعلیمی اداروں نے بھی اسی روش کو اپنایا ہے۔ ہر سکول نے اپنی صوابدید پر فیسیں بڑھا دی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس معاملے پر تاحال حکومت یا متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی واضح اور مؤثر کارروائی نظر نہیں آئی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر مکمل طور پر بے لگام ہو چکا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔
ایک عام سرکاری ملازم، ایک دکاندار، ایک مزدور یا ایک چھوٹا کاروباری شخص پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ آٹا، چینی، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ایسے میں جب سکول فیسوں میں 40 سے 50 فیصد اضافہ کر دیتے ہیں تو ایک متوسط یا غریب خاندان کے لیے اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلوانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ والدین مجبوری میں یا تو قرض لیتے ہیں یا بچوں کو کم معیار کے اداروں میں بھیج دیتے ہیں۔ کیا تعلیم واقعی صرف صاحبِ حیثیت لوگوں کا حق رہ گئی ہے؟
لیکن اس سارے معاملے کا سب سے افسوسناک پہلو وہ ہے جس پر کم بات کی جا رہی ہے۔ ایک طرف فیسوں میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے، دوسری طرف انہی سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کو 20 ہزار، 22 ہزار یا زیادہ سے زیادہ 25 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے۔ ان اساتذہ میں ایم فل ڈگری ہولڈرز، سبجیکٹ اسپیشلسٹ اور تجربہ کار معلمین شامل ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نئی نسل کی فکری تربیت کرتے ہیں، قوم کا مستقبل سنوارتے ہیں، مگر خود معاشی بے بسی کا شکار ہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کم از کم اجرت 40 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ قانون نجی سکولوں پر لاگو نہیں ہوتا؟ اگر ایک عام مزدور کے لیے 40 ہزار روپے کم از کم تنخواہ مقرر ہے تو ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ استاد کو اس سے کم کیوں دیا جا رہا ہے؟ کیا اس کی ڈگری، اس کی محنت اور اس کی ذہنی مشقت کی کوئی قدر نہیں؟
کئی اساتذہ نے دل گرفتہ ہو کر کہا کہ ہمیں اپنی ڈگریوں سے نفرت ہونے لگی ہے۔ جب تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی انسان کو عزت اور مناسب معاوضہ نہ ملے تو مایوسی جنم لیتی ہے۔ کچھ اساتذہ اضافی ٹیوشن پڑھانے پر مجبور ہیں، کچھ پارٹ ٹائم نوکریاں کرتے ہیں اور کچھ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ کیا یہی وہ معاشرہ ہے جہاں استاد کو روحانی باپ کا درجہ دیا جاتا ہے؟
اس کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی اداروں میں بعض مالکان اور پرنسپلز کا ناروا رویہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔ اساتذہ کو معمولی باتوں پر ڈانٹ دینا، بلاوجہ تنخواہ روک لینا، غیر ضروری دفتری دباؤ ڈالنا اور ملازمت کے عدم تحفظ کا خوف پیدا کرنا عام سی بات بن چکی ہے۔ اگرچہ یہ پرائیویٹ ملازمین ہیں، مگر یہ بھی انسان ہیں۔ ان کے بھی خاندان ہیں، بچوں کی ضروریات ہیں، کرایہ، بجلی اور روزمرہ اخراجات ہیں۔ کیا ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کوئی ذمہ داری نہیں؟
یہ صورتحال صرف اساتذہ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کا بحران ہے۔ جب استاد معاشی اور ذہنی طور پر مطمئن نہیں ہوگا تو وہ پوری دلجمعی سے تعلیم کیسے دے سکے گا؟ جب اس کے ذہن میں اپنے بچوں کی فیس، کرایہ اور راشن کی فکر ہوگی تو وہ طلبہ کی کردار سازی پر کس طرح توجہ دے گا؟ نتیجہ یہ ہوگا کہ تعلیم کا معیار مزید گرے گا اور نقصان پوری نسل کو اٹھانا پڑے گا۔
سوالات بہت ہیں اور ان کے جواب درکار ہیں۔ کیا کوئی ایسا قانون موجود نہیں جو ان تعلیمی مافیاز کو لگام دے سکے؟ کیا حکومت کے پاس چیک اینڈ بیلنس کا کوئی مؤثر نظام نہیں؟ کیا کسی ادارے کی ذمہ داری نہیں کہ وہ یہ دیکھے کہ جب فیسوں میں 50 فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے تو اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کیوں نہیں؟ کیا کم از کم اجرت کا قانون صرف کاغذوں تک محدود ہے؟
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان، چیف جسٹس صاحب، چیف سیکرٹری، سیکرٹری ایجوکیشن، ڈائریکٹر ایجوکیشن اور متعلقہ ڈی ڈی او صاحبان اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔ نجی سکولوں کی فیسوں میں اضافے کا باقاعدہ آڈٹ کیا جائے۔ ہر ادارے سے اس کی آمدن اور اخراجات کی تفصیل طلب کی جائے۔ اگر فیس بڑھانے کی کوئی معقول وجہ ہے تو اسے عوام کے سامنے رکھا جائے، اور اگر اضافہ ناجائز ہے تو اسے واپس لیا جائے۔
اسی کے ساتھ اساتذہ کی تنخواہوں کو کم از کم مقررہ حکومتی اجرت کے مطابق یقینی بنایا جائے۔ اگر کوئی ادارہ 40 ہزار روپے کم از کم تنخواہ دینے کی استطاعت نہیں رکھتا تو اسے بھاری فیسیں وصول کرنے کا بھی حق نہیں ہونا چاہیے۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، چاہے وہ سرکاری ادارہ ہو یا نجی۔
ہم تمام والدین، اساتذہ اور ملازمین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مسئلے پر خاموش نہ رہیں۔ پرامن اور قانونی طریقے سے آواز بلند کریں۔ سوشل میڈیا، تحریری درخواستوں اور قانونی چارہ جوئی کے ذریعے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں۔ تعلیم کو کاروبار بنانے والوں کے خلاف مؤثر قانون سازی اور عملی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
یہ وقت ہے کہ ہم بطور معاشرہ فیصلہ کریں کہ تعلیم عبادت ہے یا تجارت؟ اگر یہ عبادت ہے تو اس کے ساتھ انصاف، دیانت اور احساسِ ذمہ داری ہونا چاہیے۔ اگر اسے خالص کاروبار بنا دیا جائے گا تو پھر اخلاقیات، معیار اور انصاف سب قربان ہو جائیں گے۔
انصاف کا تقاضا ہے کہ اساتذہ کو ان کا جائز حق دیا جائے اور والدین کو فیسوں کے بے جا بوجھ سے نجات دلائی جائے۔ ایک مضبوط اور باوقار معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں استاد عزت سے جیتا ہے اور تعلیم سب کے لیے قابلِ رسائی ہوتی ہے۔ اگر ہم نے آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل ہماری آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Private Schools in Gilgit Baltistan

دن بھر کی اہم خبروں‌کی لنک ملاحظہ فرمائیں‌

نعیمہ حسین انتقال کر گئی، فرسٹ ایئر کے رزلٹ میں کم نمبرز نے ایک طالبہ کی خوابون کو ہی نہیں اس کے سانسوں کو بھی خاموش کر دیا. ابوذر شگری

صرف ہمارے ہی بچے کیوں؟ طہٰ علی تابش بلتستانی

شگر ، جی بی فوڈ ایکٹ 2022 پر سخت عملدرآمد، مختلف بازاروں میں کریک ڈاؤن

اقتدار میں آکر پایو روڈ کی تعمیر ،دریا کو چینلائز کر کے اراضی کو عوام میں تقسیم اور پن بجلی گھروں کی تعمیر کر شگر کے عوام کو تحفہ دیں گے ۔ خالد خورشید کا ایڈوکیٹ حسن شگری سے ملاقات

50% LikesVS
50% Dislikes

تعلیم یا تجارت؟ گلگت بلتستان کے نجی سکولوں کا کڑوا سچ. یاسر دانیال صابری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں