column in urdu, Pakistan’s Biggest Humanitarian Crisis 0

مہنگائی اور بے روزگاری: پاکستان کا سب سے بڑا انسانی بحران, یاسر دانیال صابری
مہنگائی اور بے روزگاری آج پاکستان کے دو ایسے زخم بن چکے ہیں جو الگ الگ نہیں رہے، بلکہ ایک دوسرے سے جُڑ کر پورے معاشرے کو لہولہان کر رہے ہیں۔ یہ اب ہر گھر کی کہانی، ہر فرد کا ذاتی دکھ، اور ہر آنے والے کل کا خوف بن چکی ہیں۔ پاکستان میں آج شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو مہنگائی کی زد میں نہ ہو خواہ وہ امیر ہو یا غریب، شہری ہو یا دیہاتی، ملازم ہو یا کاروباری۔ فرق صرف اتنا ہے کہ امیر اسے سہولت میں کمی سمجھتا ہے اور غریب اسے زندگی اور موت کا سوال۔
مہنگائی کے ٹھوس حقائق کو اگر سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو تصویر اور بھی خوفناک ہو جاتی ہے۔ چند سال پہلے جو آٹا، دال، چاول، گھی اور چینی ایک عام آدمی کی دسترس میں تھے، آج وہی اشیاء روزمرہ نہیں بلکہ منصوبہ بندی کا حصہ بن چکی ہیں۔ دودھ بچوں کی ضرورت ہے مگر قیمت ایسی کہ ماں سوچتی ہے آج دل بھر کر پلائے یا کل کے لیے بچا کر رکھے۔ سبزی والا تول کم کر دیتا ہے، دکاندار مہنگا دیتا ہے، اور خریدار خاموش رہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جھگڑا کرنے سے قیمت کم نہیں ہوگی، صرف عزت کم ہو جائے گی۔
مہنگائی صرف چیزوں کی قیمت نہیں بڑھاتی، یہ انسان کی آمدن کو بے معنی بنا دیتی ہے۔ تنخواہیں وہیں کی وہیں کھڑی ہیں، مگر اخراجات دوگنے، تین گنے ہو چکے ہیں۔ ایک سرکاری یا نجی ملازم جو دس پندرہ سال پہلے باعزت زندگی گزار رہا تھا، آج وہی شخص قسطوں، ادھار اور قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اس کے پاس نوکری ہے، مگر سکون نہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں بے روزگاری اور مہنگائی ایک دوسرے سے جُڑ جاتی ہیں نوکری ہو تب بھی زندگی مشکل، اور نوکری نہ ہو تو زندگی عذاب۔
بے روزگاری کا عذاب مہنگائی کے ساتھ مل کر تباہ کن شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایک بے روزگار نوجوان کے لیے مہنگائی صرف بازار کا مسئلہ نہیں، یہ اس کے مستقبل کا جنازہ ہے۔ وہ والدین کے سامنے شرمندہ ہے، بہن بھائیوں کے سامنے خاموش ہے، اور معاشرے کے سامنے خود کو بے کار محسوس کرتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اخراجات بڑھ رہے ہیں، مگر اس کی حیثیت صفر ہے۔ یہی احساسِ محرومی سب سے خطرناک ہے، کیونکہ یہی احساس انسان کو نفرت، غصے اور بعض اوقات غلط راستوں کی طرف لے جاتا ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ یکساں نہیں۔ امیر کے لیے مہنگائی سہولتوں میں کمی ہے، مگر غریب کے لیے یہ فاقہ ہے۔ امیر آج بھی ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھا ہے، غریب آج بھی لوڈ شیڈنگ میں پسینے سے شرابور ہے۔ بجلی کے بلوں نے مہنگائی کو مزید بے رحم بنا دیا ہے۔ ایک عام گھر کا بجلی کا بل اب راشن کے برابر ہو چکا ہے۔ لوگ پنکھے کم چلاتے ہیں، بلب بند رکھتے ہیں، مگر بل کم نہیں ہوتا۔ یہ صرف مالی نہیں، ذہنی تشدد ہے۔
ٹرانسپورٹ مہنگی، پیٹرول مہنگا، گیس نایاب اور بجلی غیر یقینی یہ سب وہ حقائق ہیں جن کے درمیان ایک عام پاکستانی سانس لے رہا ہے۔ کسان مہنگی کھاد اور بیج خرید کر بھی اپنی فصل کی مناسب قیمت نہیں پاتا، مزدور دن بھر کام کر کے بھی گھر کا خرچ پورا نہیں کر پاتا، اور ملازم مہینے کے آخر میں حساب لگا کر صرف ایک ہی سوال کرتا ہے: اگلا مہینہ کیسے گزرے گا؟
معاشرتی اقدار بھی اس مہنگائی کی نذر ہو چکی ہیں۔ کبھی شادی خوشی کا موقع ہوتی تھی، اب قرض کا اعلان بن چکی ہے۔ لوگ خوشی اور غمی میں شریک ہونے سے گھبراتے ہیں کیونکہ ہر تقریب خرچے سے جڑی ہے۔ رشتے ناتے کمزور پڑ رہے ہیں، کیونکہ ہر تعلق اب مالی توقعات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ یہ وہ خاموش تباہی ہے جس کا کوئی بجٹ نہیں بنتا، کوئی پالیسی نہیں بنتی، مگر یہ معاشرے کی جڑیں کاٹ رہی ہے۔
ریاست سے محبت بھی انہی حالات میں کمزور ہوتی ہے۔ جب ایک شہری ایمانداری سے ٹیکس دے، بل ادا کرے، قانون مانے، مگر بدلے میں اسے مہنگائی، بے روزگاری اور لوڈ شیڈنگ ملے، تو اس کے دل میں سوال جنم لیتا ہے۔ یہ سوال غداری نہیں، یہ مایوسی ہے۔ اور مایوسی جب اجتماعی شکل اختیار کر لے تو ریاست کمزور ہو جاتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کم کیسے کی جائے؟ یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، ہم سب سے ہے۔ سب سے پہلے ہمیں ماننا ہوگا کہ مہنگائی صرف عالمی حالات کا نتیجہ نہیں، یہ ہماری اپنی کمزوریوں کا بھی عکس ہے۔ غیر ضروری درآمدات، اشرافیہ کی عیاشیاں، ٹیکس چوری، ذخیرہ اندوزی، اور ناقص منصوبہ بندی یہ سب مہنگائی کو بڑھاتے ہیں۔
حکومت کی سطح پر سب سے اہم قدم یہ ہے کہ عام آدمی کو ریلیف دیا جائے، نہ کہ صرف اعداد و شمار میں بہتری دکھائی جائے۔ بجلی اور گیس کو بنیادی ضرورت سمجھ کر ان کی قیمتوں میں استحکام لایا جائے۔ اشیائے خوردونوش پر سخت نگرانی ہو، ذخیرہ اندوزوں کو واقعی سزا دی جائے، اور سبسڈی صحیح لوگوں تک پہنچے۔ زراعت کو مضبوط کیا جائے تاکہ ہم اپنی خوراک خود پیدا کریں، نہ کہ مہنگی درآمدات پر انحصار کریں۔
روزگار کے بغیر مہنگائی کم کرنا ممکن نہیں۔ جب لوگوں کے ہاتھ میں کام ہوگا، تب ہی وہ مہنگائی کا مقابلہ کر سکیں گے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سہولت دی جائے، نوجوانوں کو ہنر سکھایا جائے، اور قرض کو آسان مگر شفاف بنایا جائے۔ میرٹ کا نفاذ محض نعرہ نہ ہو، بلکہ حقیقت ہو۔ جب نوجوان کو یقین ہوگا کہ محنت کا صلہ ملے گا، تو وہ ملک چھوڑنے کے بجائے ملک بنانے کا سوچے گا۔
لیکن ذمہ داری صرف ریاست کی نہیں۔ ہر فرد بھی اس بحران کا حصہ ہے اور حل کا بھی۔ ہمیں فضول خرچی چھوڑنی ہوگی، نمود و نمائش سے نکلنا ہوگا، اور سادہ زندگی کو اپنانا ہوگا۔ ہمیں ٹیکس چوری کو ہوشیاری نہیں بلکہ جرم سمجھنا ہوگا۔ ہمیں ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی، چاہے وہ ہمارے اپنے لوگ ہی کیوں نہ ہوں۔
سب سے بڑھ کر، ہمیں ایک دوسرے کے دکھ کو سمجھنا ہوگا۔ مہنگائی نے ہمیں خودغرض بنا دیا ہے، مگر اب وقت ہے کہ ہم دوبارہ انسان بنیں۔ ایک پڑوسی کی مدد، ایک رشتے دار کا خیال، ایک مجبور کی عزت یہ سب وہ چھوٹے عمل ہیں جو بڑے زخموں پر مرہم رکھ سکتے ہیں۔
یہ کالم کسی ایک طبقے کے لیے نہیں لکھا ہے یہ ہر اس شخص کے لیے لکھا ہے جو آج مہنگائی کی آگ میں جل رہا ہے۔ یہ گلگت بلتستان کے لیے بھی ہے یہ پاکستان کے لیے بھی ہے یہ ان ماں باپ کے لیے ہے جو بچوں کی خواہشات پوری نہیں کر پا رہے، ان نوجوانوں کے لیے ہے جو ڈگریاں لیے دربدر ہیں، اور ان بزرگوں کے لیے ہے جو بڑھاپے میں بھی حساب کتاب کے خوف میں مبتلا ہیں۔
مہنگائی اور بے روزگاری اگر اسی طرح بڑھتی رہیں تو یہ صرف معیشت نہیں، ہمارا سماج، ہماری اقدار اور ہماری ریاست کو بھی کھوکھلا کر دیں گی۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ہم جاگ جائیں۔ ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی کہ ہم نے سچ دیکھا، دکھ سہا، مگر آواز نہیں اٹھائی۔
یہ مسئلہ حکومت کا بھی ہے، عوام کا بھی، اور ہم سب کا بھی۔ کیونکہ مہنگائی صرف جیب خالی نہیں کرتی، یہ دل بھی خالی کر دیتی ہے۔ اور جب دل خالی ہو جائیں تو قومیں ٹوٹ جایا کرتی ہیں۔وسلام
مولا سلامت رکھے پاکستان زندہ باد گلگت بلتستان پائندہ باد۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu, Pakistan’s Biggest Humanitarian Crisis

شگر، محکمہ برقیات شگر عوام کو گمراہ کرنے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے اور بلا تعطل مناسب وولٹیج کے ساتھ بجلی فراہم کی جائے. معروف سماجی رہنما آخوند ظہیر عباس

50% LikesVS
50% Dislikes

مہنگائی اور بے روزگاری: پاکستان کا سب سے بڑا انسانی بحران, یاسر دانیال صابری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں