news خبر خبریں نیوز landscape 1767322942384 0

سال نو، امید و استقامت کا سفر، کرامت علی جعفری
آہ! یہ سال بھی گزر گیا، اور عاشق اپنے معشوق کے دیدار سے محروم ہی رہا۔ رسولِ خدا صلی اللّٰہ ۔۔ کا ارشاد ہیں۔ (اَفْضَلُ اَعْمَالِ اُمَّتِی اِنْتِظَارُ الْفَرَج)
ترجمہ : میری امت کے بہترین اعمال میں سب سے افضل عمل حجتِ حقؑ کے ظہور کا انتظار ہے۔
اسی امید کے سہارے، جب سے ہم نے زندگی کی دوڑ میں قدم رکھا، اللہ کے فضل سے ہمیں ایسے مربّی اور راہنما نصیب ہوئے جنہوں نے ہمیں اس راستے کا راہی بنایا؛ ایسے انسانوں سے آشنا کیا جن کے دل مظلومانِ عالم کے لیے دھڑکتے ہیں، جو دنیا میں عدلِ الٰہی و انصاف کے قیام اور عالمِ بشریت کی عادلانہ عالمی حکومت کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔
ہم بھی بقولِ شہید ناصر صفویؒ (ہم جہاں میں اسلامی انقلاب کے لیے ہونے والی کوششوں کا ایک حصہ ہیں۔) اپنے آپ کو اس عظیم انقلابی راستے میں ہاتھ بٹانے والوں کے قدموں کی دھول سمجھنے لگے، اور اسی راہ کا حصہ جاننے لگے۔ اسی راہ میں سفر کرتے ہوئے آج، اشکوں سے بھری آنکھوں کے ساتھ ہم نے سن 2026 کو الوداع کہا۔
یہ سال ختم ہو گیا، مگر نہ حضرتِ عشقؑ (امام القائم علیہ السلام) سے ملاقات نصیب ہوئی، نہ زیارت کا شرف ملا، نہ ان کا ظہور ہوا۔
یہ سال امیدیں بھی لے کر آیا، مگر ساتھ ہی چند ناقابلِ فراموش زخم بھی دے گیا۔ ان میں ایک بڑا سانحہ شہیدِ مقاومت، آیت اللہ سید حسن نصر اللہؒ کی شہادت تھی — وہ آواز جسے ہمارے رہبر بھی توجہ اور دلچسپی سے سنا کرتے تھے، اور جس سے مظلومانِ جہان کو حوصلہ اور سمت ملتی تھی۔
اسی طرح بارہ روزہ جنگ — جمہوریۂ اسلامی ایران اور مستکبرینِ عالم کے درمیان — نے تاریخ میں ایک واضح پیغام چھوڑا۔ فرعونوں کے دانت کھٹے ہونے سے نہ صرف ہمیں حوصلہ ملا بلکہ عالمِ اسلام کے کمزور دل افراد کو بھی نئی قوت ملی، اور غفلت کی نیند سوئے مسلمانوں کو بیداری کا موقع نصیب ہوا۔
دنیا میں جنگوں کی جیت اور ہار کا فیصلہ اکثر ظاہری نقصانات اور مادی پیمانوں سے کیا جاتا ہے، لیکن ہم مادی سے زیادہ معنوی پہلوؤں کو دیکھتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک ہم حق پر ہیں، جب تک ہم مستکبرینِ عالم کے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہیں — ہماری جیت یقینی ہے۔
ہم اس مکتب میں پلے بڑھے ہیں جو ابتداءِ خلقت سے ظلم ستیزی کی تعلیم دیتا آیا ہے، اور ہمارے مولا، مولائے کائنات امیرالمؤمنین علیؑ کے وہ بیش بہا الفاظ ہمیشہ ہمارے پیشِ نظر رہتے ہیں.
(كُونُوا لِلظَّالِمِ خَصْمًا وَلِلْمَظْلُومِ عَوْنًا)
ترجمہ: ظالم کے خلاف ڈٹ جاؤ اور مظلوم کے مددگار بنو۔
جب تک ہم اپنے مولا کے ان فرامین پر عمل پیرا ہیں، ہم کامیاب ہیں۔
اور ان شاء اللہ آنے والا سال بھی امیدوں سے بھرپور ہوگا، کیونکہ ہر گزرتا دن ظلم کی تاریک رات کو کم کر رہا ہے، اور وہ صبح قریب ہے جب عدل، مساوات اور انصاف کا سورج پوری آب و تاب سے طلوع ہوگا۔
اور ان شاء اللہ ہمیں حضرتِ عشق، امام مہدی علیہ السلام کا دیدار نصیب ہوگا۔
اسی امید کے ساتھ ہم نئے سال کا آغاز کرتے ہیں:
اپنی اصلاح، اپنے گناہوں پر ندامت، اور بارگاہِ الٰہی میں خلوص کے ساتھ طلبِ مغفرت کے عزم کے ساتھ۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ حضرتِ عشقؑ کا ظہور ہوگا — یہ بات اہلِ سنت اور اہلِ تشیع، دونوں کے معتبر مصادر میں موجود ہے۔
رسولِ خدا صلی اللہ ۔۔نے فرمایا:
(لَو لَمْ يَبْقَ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا يَوْمٌ، لَبَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، يَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا)
ترجمہ:
اگر دنیا کی عمر کا صرف ایک دن باقی رہ جائے، تو اللہ تعالیٰ ضرور میرے اہلِ بیتؑ میں سے ایک شخص کو مبعوث کرے گا جو زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہوگی۔
بس اسی امید پر ہماری سانسوں کی آمد و رفت ہے، ورنہ اہلِ بیتؑ اور ائمہؑ کی محبت کے بغیر اس فانی دنیا میں رکھا ہی کیا ہے؟
آخر میں اپنے معزز قارئین سے سوال ہے:
کیا آپ بھی گزشتہ سال حضرتِ عشقؑ (امام مہدی علیہ السلام) کے منتظر تھے؟
اور اگر نہیں، تو کیا اس نئے سال میں ان کے ظہور کے لیے زمینہ سازی اور اپنی آمادگی کا سنجیدہ عزم کریں گے؟

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

Column in Urdu, new year expectations

50% LikesVS
50% Dislikes

سال نو، امید و استقامت کا سفر، کرامت علی جعفری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں