column in urdu Muslim World 0

یکم مارچ کا دن عالمِ اسلام کے لیے بڑے سوگ کا دن. تحریر یاسر دانیال صابری
یکم مارچ تین بجے یہ خبر سوشل میڈیا پر پھیل گئی کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکہ اور اسرائیل نے نشانہ بنایا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ اطلاع آگ کی طرح ہر طرف پھیل گئی۔ لوگوں نے تصدیق کیے بغیر اسے سچ مان لیا اور جذبات میں آ کر گھروں سے نکل آئے۔
شہروں کی سڑکوں پر ریلیاں نکلیں۔ اسرائیل مردہ باد اور امریکہ مردہ باد کے نعرے گونجنے لگے۔ سکردو کے نوجوانوں نے احتجاج کیا، گلگت میں بھی مظاہرے ہوئے۔ بعض مقامات پر غصہ بے قابو ہو گیا اور اقوامِ متحدہ کے دفاتر کو نقصان پہنچایا گیا۔ حالات کشیدہ ہوئے، فورسز حرکت میں آئیں، جھڑپیں ہوئیں، کئی افراد زخمی ہوئے اور جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ لاہور، کراچی، کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے۔ پورا ماحول سوگ اور اضطراب میں ڈوبا ہوا تھا۔ اگر واقعی ایسا سانحہ پیش آتا تو یقیناً یہ عالمِ اسلام کے لیے بڑا نقصان ہوتا، کیونکہ آیت اللہ خامنہ ای کئی دہائیوں سے ایران کی سیاسی و مذہبی قیادت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
ایران کے رہبرِ معظم نے اپنی زندگی میں ہمیشہ خود کو مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ ان کے حامی انہیں استقامت کا استعارہ کہتے ہیں، جبکہ ایران کے اندر ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ان کی بعض پالیسیوں سے اختلاف رکھتا ہے۔ ہر معاشرے میں اختلاف رائے موجود ہوتا ہے، اور یہی جمہوری و سماجی حقیقت ہے۔
عالمی سیاست میں امریکہ، اسرائیل، ایران اور دیگر طاقتیں اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، فلسطین کا مسئلہ، خطے کی جنگیں یہ سب ایک بڑے سیاسی کھیل کا حصہ ہیں۔ فلسطین میں ہونے والے مظالم پر جب ایران نے آواز اٹھائی تو خطے میں تناؤ مزید بڑھا۔ چین اور روس جیسے ممالک کے بیانات نے عالمی صف بندی کو اور نمایاں کیا۔
لیکن اس سارے منظرنامے میں ہمیں اپنے طرزِ عمل پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ کیا سرکاری املاک کو جلانا مسئلے کا حل ہے؟ کیا احتجاج کے نام پر اپنے ہی شہروں کو نقصان پہنچانا دانشمندی ہے؟ اقوامِ متحدہ کے دفتر کو جلانے سے عالمی سیاست کا رخ نہیں بدلتا، مگر ہمارے اپنے وسائل ضرور جل جاتے ہیں۔
مسلمانوں کے درمیان شیعہ سنی اختلافات، سیاسی تقسیم اور باہمی بداعتمادی ہماری سب سے بڑی کمزوری ہیں۔ اگر ہم خود متحد نہ ہوں تو بیرونی قوتیں ہمیں آسانی سے تقسیم کر سکتی ہیں۔ اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ سب ایک جیسے سوچیں، بلکہ یہ کہ ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں۔
پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، مگر اصل طاقت قومی اتحاد اور معاشی استحکام میں ہے۔ اگر ہم اندر سے کمزور ہوں گے تو کوئی بھی ہمیں دباؤ میں لا سکتا ہے۔ ہمیں جذبات کے ساتھ ساتھ شعور کی بھی ضرورت ہے۔ ہر خبر پر فوری ردعمل دینے کے بجائے تحقیق اور صبر کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
یہ وقت نعروں سے زیادہ سوچنے کا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی طاقتوں کے کھیل میں جذباتی ردعمل اکثر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اگر امتِ مسلمہ کو مضبوط دیکھنا ہے تو تعلیم، معیشت، ٹیکنالوجی اور داخلی اتحاد کو ترجیح دینا ہوگی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب واقعات ہمارے لیے ایک وارننگ نہیں؟ کیا یہ وقت نہیں کہ ہم اپنے اندر جھانکیں اور دیکھیں کہ ہماری اصل کمزوری کہاں ہے؟
یہ دنیا ایک میدان کی طرح ہے اور عالمی سیاست ایک طویل مقابلہ۔ اس مقابلے میں کئی راؤنڈ گزر چکے ہیں۔ کچھ میں ہم جیتے، کچھ میں ہارے۔ مگر اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک آخری میچ کی طرف بڑھ رہے ہیں ایسا میچ جس میں ہتھیار صرف بندوقیں نہیں بلکہ اتحاد، علم، معیشت اور حکمت عملی ہوں گے۔
اگر اسلامی ممالک اس آخری میچ میں بھی تقسیم رہے، ایک دوسرے کے خلاف کھڑے رہے، فرقہ واریت اور مفاد پرستی میں الجھے رہے تو یہ ہماری اجتماعی کمزوری کی تدفین ہوگی۔ مگر اگر ہم نے اس موقع کو پہچان لیا، اپنے اختلافات کو کم کیا اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو گئے تو یہی اتحاد ہماری بقا کی ضمانت بن سکتا ہے۔
آخری میچ میں کامیابی نعروں سے نہیں ملے گی، بلکہ اتفاق، برداشت اور مشترکہ حکمت عملی سے ملے گی۔ اگر مسلم دنیا ایک صف میں کھڑی ہو جائے، اپنے وسائل کو یکجا کرے اور جذبات کے بجائے دانش سے فیصلے کرے تو کوئی طاقت اسے کمزور نہیں کر سکتی۔
جذباتی ہنگامے وقتی ہوتے ہیں، مگر قوموں کا مستقبل مستقل فیصلوں سے بنتا ہے۔ ہمیں طے کرنا ہے کہ ہم انتشار کے راستے پر چل کر اپنی طاقت کی تدفین کریں گے یا اتحاد کے راستے پر چل کر اپنی تاریخ کو نئی زندگی دیں گے۔
اللہ ہمیں عقل، اتحاد اور بصیرت عطا کرے تاکہ ہم اس آخری میچ میں سرخرو ہو

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Muslim World

شگر رہبر معظم کی شہادت کے چوتھے روز بھی شگر بھر شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال

>یکم مارچ کا واقعہ، گلگت بلتستان کے امن کے لیے ایک سنجیدہ لمحہ

حج آپریشن 2026، پاکستان سے پہلی حج پرواز 18 اپریل کو روانہ ہوگی

سکردو۔ کرفیو کی تاریخ آج 4 مارچ تک کی تھی آج سہ پہر تین بجے تک سڑکوں پر تھوڑی سختیاں ہوں گی کل سے سڑکیں کھلیں گی کرفیو ختم ہوگا۔ اسکردو انتظامیہ

50% LikesVS
50% Dislikes

یکم مارچ کا دن عالمِ اسلام کے لیے بڑے سوگ کا دن. تحریر یاسر دانیال صابری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں