عبید الرحمٰن خان: روایت، ہجرت اور جدید حسیت کا شعری امتزاج. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
اردو ادب میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی تخلیقی شناخت کو محض انفرادی کاوش کا نتیجہ قرار دینا ان کے فکری و تہذیبی پس منظر سے ناانصافی کے مترادف ہوتا ہے۔ عبید الرحٰمن خان (تخلص: عبید) بھی ایسے ہی شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کی ادبی تشکیل ایک گہری خاندانی روایت، ادبی ماحول اور تہذیبی تسلسل کی مرہونِ منت ہے۔ ان کی شخصیت میں جہاں جدید پیشہ ورانہ زندگی کی مصروفیتیں موجود ہیں، وہیں ایک مضبوط شعری روایت کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔
عبید الرحمٰن خان 12 اکتوبر کو کراچی میں پیدا ہوئے، ایک ایسا شہر جو مختلف تہذیبوں، زبانوں اور ادبی میلانات کا مرکز رہا ہے۔ ابتدائی زندگی ہی سے انہیں ایک ایسے ماحول میں پرورش پانے کا موقع ملا جہاں شعر و ادب محض ذوق نہیں بلکہ ایک زندہ روایت کی حیثیت رکھتا تھا۔ ان کے والد، پروفیسر رحمان خاور، اپنے عہد کے معتبر شاعر تھے، جبکہ خاندان کے دیگر افراد، انجم شادانی، رسا شیروی اور سرخوش شادانی، بھی ادبی ذوق رکھتے تھے۔ اس طرح عبید کے لیے شاعری کسی خارجی تحریک کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک فطری اور موروثی تسلسل تھی۔
ان کی ادبی تربیت کا ایک اہم پہلو وہ ادبی فضا ہے جو انہیں بچپن ہی سے میسر آئی۔ گھریلو سطح پر منعقد ہونے والی نشستیں اور مشاعرے دراصل ایک غیر رسمی درسگاہ کا درجہ رکھتے تھے۔ ان محافل میں محشر بدایونی، منور بدایونی، حیرت الہ آبادی، دلاور فگار، جون ایلیاء اور جمال احسانی جیسے شعرا کی شرکت نے ان کے شعری شعور کو ابتدائی سطح پر ہی جِلا بخشی۔ یہ صحبت محض سماعتی تجربہ نہ تھی بلکہ اس نے ان کے اندر زبان کی نزاکت، اظہار کی تہذیب اور شعری رمزیت کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی۔
ان کی باقاعدہ شعری زندگی کا آغاز نوجوانی میں دہلی کالج کے زمانۂ طالب علمی سے ہوتا ہے۔ اس دور میں حسن اکبر کمال اور نعیم الرحمن خان جیسے اساتذہ کی حوصلہ افزائی نے ان کے اندر تخلیقی اعتماد کو مضبوط کیا۔ ان کی ابتدائی تخلیقات کالج کے ادبی مجلے میں شائع ہوئیں، جو ان کے لیے اظہار کے پہلے باقاعدہ پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتی تھیں۔ بعد ازاں این ای ڈی یونیورسٹی کے زمانے میں ان کی ادبی سرگرمیاں مزید وسعت اختیار کرتی گئیں، جہاں ان کی غزلیں اور مزاحیہ نظمیں مختلف رسائل میں شائع ہوئیں اور وہ مشاعروں میں بھی شریک ہوئے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ عبید الرحمٰن خان کی شخصیت میں بیک وقت دو مختلف جہتیں موجود ہیں: ایک طرف سائنسی اور تکنیکی میدان سے وابستگی، جس کا ثبوت ان کی ایم ایس کمپیوٹر انجینئرنگ اور بی ای الیکٹرکل انجینئرنگ کی ڈگریاں ہیں اور دوسری طرف ایک حساس اور تخلیقی شعری مزاج۔ یہ امتزاج ان کی شاعری میں بھی جھلکتا ہے، جہاں جذبات کی شدت کے ساتھ ساتھ ایک فکری ترتیب اور شعوری ضبط بھی محسوس ہوتا ہے۔ ان کے اس فکری توازن کی جھلک ان اشعار میں نمایاں ہے:
دل و نظر میں حقیقت کا آئنہ رکھنا
خود اپنے آپ سے ملنے کا حوصلہ رکھنا
منزل کا پتہ ہے نہ رستے کی خبر ہے
اک جوشِ جنوں ہے کہ جو سرگرمِ سفر ہے
دردِ جاں اور غمِ دوراں کی کشاکش میں عبید
دل تو رہتا ہے کہیں، ذہن کہیں رہتا ہے
سن 2000 میں کینیڈا ہجرت کے بعد ان کی زندگی نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ ٹورونٹو میں قیام کے دوران پیشہ ورانہ ذمہ داریاں غالب رہیں اور ادبی سرگرمیاں وقتی طور پر پس منظر میں چلی گئیں۔ تاہم یہ خاموشی دراصل ایک داخلی تسلسل تھی، جو مناسب وقت کے انتظار میں رہی۔ تقریباً دو دہائیوں بعد، خصوصاً 2018 کے بعد، انہوں نے دوبارہ سنجیدگی سے ادب کی طرف رجوع کیا۔ کووڈ کے زمانے میں میسر آنے والی تنہائی نے ان کی تخلیقی قوت کو نئی تحریک دی، اور اس عرصے میں انہوں نے کثرت سے غزلیں اور نظمیں تخلیق کیں۔ اس عہد کی داخلی کیفیات اور ہجرت کے تجربے کی بازگشت ان کے کلام میں یوں سنائی دیتی ہے:
میں اس کی یاد کے ساغر سے یوں ہوا سیراب
ہوں دشتِ ہجر میں، لیکن لبوں پہ پیاس نہیں
مجھ میں تازہ ہیں مرے گھر کی مہکتی یادیں
دل مرا اب بھی خیالوں میں وہیں رہتا ہے
یادوں کے گھر کا انگنا لگتا ہے اب سونا سونا
برگد کے پیڑ کی شاخوں پر اب چڑیوں کا ڈیرا بھی نہیں
ان کی ادبی فعالیت کا ایک اہم پہلو ان کا تنظیمی کردار بھی ہے۔ وہ نہ صرف ایک شاعر ہیں بلکہ اردو ادب کے فروغ کے لیے عملی طور پر بھی سرگرم ہیں۔ مختلف ادبی گروپس کی سرپرستی اور “بزم اردو انٹرنیشنل کینیڈا” جیسے فورم میں بطور منتظم ان کی شمولیت اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ادب کو محض ذاتی اظہار تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے ایک اجتماعی اور تہذیبی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
فکری و شعری اثرات کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو عبید الرحمن خان نے جن شعرا سے اثر قبول کیا ہے ان میں پروفیسر رحمان خاور، پروفیسر سحر انصاری، افتخار عارف، ڈاکٹر بشیر بدر اور ناصر کاظمی جیسے معتبر نام شامل ہیں۔ ان شعرا کی روایت میں داخلیت، سادگیِ بیان، جذبے کی لطافت اور تہذیبی شائستگی نمایاں ہے۔ یہی عناصر عبید کی شاعری میں بھی مختلف سطحوں پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کے یہ اشعار روایت اور جدید حسیت کے حسین امتزاج کی نمائندگی کرتے ہیں:
عجز و گریہ جو دعاؤں میں اگر شامل ہو
پھر کہیں جا کے دواؤں میں اثر آتا ہے
یہ قربتیں یہ فاصلے، ہیں کھیل سب نصیب کے
کسی کو کوئی مل گیا، کسی کو کچھ ملا نہیں
زماں کا سیلِ رواں اگر یہ بساطِ ہستی الٹ کے رکھ دے
فلک پہ رخشاں ہیں جو کواکب، زمیں پہ راہوں کی دھول ہوں گے
ان کا زیرِ طبع شعری مجموعہ “نئے پرانے موسم” ان کے تخلیقی سفر کی پہلی باضابطہ منزل کی حیثیت رکھتا ہے۔ عنوان ہی اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کی شاعری میں روایت اور جدت کا ایک ہم آہنگ امتزاج موجود ہے، جہاں ماضی کی خوشبو بھی ہے اور حال کی دھڑکن بھی۔ اس جمالیاتی احساس کی ایک جھلک ان اشعار میں بھی ملتی ہے:
چمن میں آمدِ حسنِ بہاراں سے ہویدا ہے
لبِ گل، چشمِ نرگس، قامتِ شمشاد کا موسم
قفس کی قید ہو گا رہا جب طائرِ لاہوت
بدل جائے گا پھر اس قریہ بیداد کا موسم
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عبید الرحمٰن خان کی ادبی شخصیت ایک ایسے تخلیق کار کی نمائندگی کرتی ہے جو روایت سے جڑا ہوا ہونے کے باوجود زمانے کے نئے تجربات سے بھی ہم آہنگ ہے۔ ان کی شاعری میں ایک طرف خاندانی ادبی وراثت کی جھلک ہے تو دوسری طرف ہجرت، تنہائی اور جدید زندگی کے تجربات کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔ یہی امتزاج انہیں معاصر شعری منظرنامے میں ایک منفرد اور قابلِ توجہ آواز بناتا ہے، ایک ایسی آواز جو داخلی صداقت، تہذیبی شائستگی اور فکری توازن کے ساتھ اپنے عہد سے مکالمہ کرتی ہے، یہی ان کا نشانِ امتیاز ہے جو انھیں دیگر معاصرین سے ممتاز کرتا ہے۔
column in urdu Modern Sensibility
لودھراں تیزگام ٹرین حادثے کے 11 گھنٹے سے زائد گزرنے کے باوجود ٹریک بحال نہ کیے جاسکے




