عمران خان کو اللہ بچائے گا, ایس ایم مرموی
ایک ذہنی مریض پٹواری شاہد گلگتی! عمران خان کو کون بچائے گا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ عمران خان کو وہی بچائیں گے جنہوں نے ہمیشہ بچایا ہے
عمران خان کو کوئی جرنیل نہیں بچائے گا۔
عمران خان کو کوئی چیف جسٹس نہیں بچائے گا۔
عمران خان کو کوئی امریکی فون کال نہیں بچائے گی۔
عمران خان کو کوئی سعودی ولی عہد نہیں بچائے گا۔
عمران خان کو کوئی لندن پلان نہیں بچائے گا۔
عمران خان کو کوئی ڈیل نہیں بچائے گی۔
عمران خان کو بچائے گا وہ غریب مزدور جو رات کو فیکٹری سے نکل کر بھی جلسے میں آتا ہے۔
وہ طالب علم جو امتحان کے باوجود اسلام آباد کی طرف نکل پڑتا ہے۔
وہ ماں جو اپنے بچوں کو سلا کر خود رات بھر واٹس ایپ گروپ میں پیغامات فارورڈ کرتی ہے۔
وہ نوجوان جو نوکری نہیں مل رہی مگر پھر بھی عمران خان کے لیے سڑک پر کھڑا ہے۔
وہ بزرگ جو 2014 میں دھرنے میں بیٹھا تھا، 2022 میں بھی آیا، اور 2025 میں بھی آئے گا۔
یہ وہ عوام ہیں جنہوں نے 2011 میں منٹو پارک میں جلسہ کیا تو میڈیا والوں نے کہا یہ تو چند ہزار لوگ ہیں۔ 2013 میں لاہور کے مینار پاکستان پر جب لاکھوں آئے تو کہا یہ تو پیسے دے کر لائے گئے۔
2018 میں جب جیت گئے تو کہا “سیلیکٹڈ ہے۔
2022 میں جب ووٹ آف نو کانفیڈنس آیا تو کہا “اب ختم ہو گیا۔ 2024 میں جب فارم 45 اور فارم 47 کا فرق سامنے آیا تو کہا اب تو جیل میں سڑے گا مگر 2025 آ گیا ہے اور عمران خان اب بھی زندہ ہے۔
اب بھی لاکھوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر ہیں۔
اب بھی “ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے والا نعرہ لگ رہا ہے۔پٹواری صاحب!
تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ جب چیف جسٹس بندیال ریٹائر ہو گئے تو عمران خان ختم ہو جائے گا۔ جب ثاقب نثار صاحب خاموش ہو گئے تو عمران خان دفن ہو جائے گا جب جنرل باجوہ گھر بیٹھ گئے تو عمران خان کا کھیل ختم مگر تم بھول گئے کہ عمران خان نے کبھی کسی چیف جسٹس کی گود میں بیٹھ کر سیاست نہیں کی عمران خان نے کبھی کسی جرنیل کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اقتدار نہیں مانگا۔ عمران خان نے کبھی کسی امریکی سفیر سے مل کر حکومت نہیں بنوائی۔ وہ تو 1996 سے سڑکوں پر ہے۔
جب تمہارے نواز شریف لندن میں فلیٹ خرید رہے تھے تب عمران خان کرکٹ سے ریٹائر ہو کر شوکت خانم ہسپتال بنا رہا تھا۔جب تمہارے زرداری صاحب صدر ہاؤس میں بیٹھ کر لوٹ رہے تھے تب عمران خان کالج بنا رہا تھا۔ جب تمہارے فضل الرحمٰن ڈیزل پر کمیشن کھا رہے تھے تب عمران خان خیبر پختونخوا میں اربوں کے درخت لگوا رہا تھا۔
اور آج جب تم سب مل کر اسے جیل میں ڈال دیا ہے تب بھی وہ تن تنہا لڑ رہا ہے اور باہر لاکھوں لوگ اس کے لیے لڑ رہے ہیں تمہاری پوری مشینری، پوری ریاستی طاقت، پورا میڈیا، پورا پیسہ، پوری لابنگ
اور پھر بھی تم اسے ختم نہیں کر پا رہے یہ طاقت کیا ہے؟ یہ طاقت ہے عوام کی یہ وہ امید ہے جو عمران خان نے گھر گھر پہنچائی ہے یہ وہ یقین ہے کہ ایک شخص اکیلا ہی کافی ہے اگر وہ سچ پر ہو۔
پٹواری صاحب!
تم نے سائفر کیس بنایا ختم نہیں ہوا۔
توشاخانہ کیس بنایا ختم نہیں ہوا۔
عدت کیس بنایا ختم نہیں ہوا۔
9 مئی کا ڈرامہ رچایا ختم نہیں ہوا۔
190 ملین پاؤنڈ کا جھوٹ بولا ختم نہیں ہوا۔
القادر ٹرسٹ کا کیس بنایا ختم نہیں ہوا۔
اب کیا کرو گے؟
ایک اور کیس؟
ایک اور گرفتاری؟
ایک اور جیل؟
جتنی بار تم اسے جیل میں ڈالو گے
اتنی ہی بار عوام اسے باہر نکالے گی۔
جتنی بار تم اس کی پارٹی توڑو گے
اتنی ہی بار وہ زیادہ مضبوط ہو کر واپس آئے گی۔
جتنی بار تم اسے خاموش کرو گے اتنی ہی زور سے عوام چیخے گی عمران خان! عمران خان! یہ کوئی عام لیڈر نہیں ہے یہ وہ شخص ہے جس نے پاکستان کے نوجوان کو بتایا کہ تمہارا ووٹ تمہاری طاقت ہے۔
جس نے مرد عورت کو شعور دیا گھر سے نکال کر سیاست میں لایا جس نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلایا۔ جس نے کہا میں لڑوں گا تم ساتھ دینا اور سب نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
پٹواری شاہد گلگتی!
تم جیسے پٹواریوں کی اوقات ہی کیا ہے کہ تم فیصلہ کرو کہ عمران خان ختم ہو گیا؟
تم تو وہ ہو جو نواز شریف کے پاؤں چاٹ کر نوٹوں کی گڈی لیتے ہو تمہاری سیاست کرسی کی ہے تمہاری سیاست ایک پلیٹ بریانی کی ہے تمہاری سیادت اپنی نوکری پکی کرنے کی ہے
عمران خان کی سیاست ضمیر کی ہے۔
آخری بات
عمران خان کو اللہ بچائے گا جیسے فرعون سے حضرت موسی کو بچایا ہے کیونکہ وہ سچ پر ہے۔
عمران خان کو عوام بچائیں گے، کیونکہ وہ ان کی آواز ہے۔عمران خان کو تاریخ بچائے گی کیونکہ وہ تاریخ بنا رہا ہے۔
اور تم جیسے پٹواری؟
تم تو صرف تاریخ کے کوڑے دان میں پڑے رہو گے۔ مافیا باس کی جھوٹی وکالت سے ذلالت کا سفر تمہارا مقدر ہے کیونکہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ۔
column in urdu May Allah Protect Imran Khan
سکردو کا معاشرتی ماحول، شبیر کمال
مہنگائی اور بے روزگاری: پاکستان کا سب سے بڑا انسانی بحران, یاسر دانیال صابری




